کراچی(ای پی آئی) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ایران و امریکہ مذاکرات کے حوالے سے ایران کے مؤقف کی مکمل حمایت کرتے ہیں کہ جب تک آبنائے ہرمز کا گھیراؤ ختم نہیں کیا جاتا، کسی قسم کا معاہدہ ممکن نہیں۔

امیرکراچی منعم ظفر خان کے ہمراہ ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےامیر جماعت اسلامی نے کہاکہ مذاکرات میں پاکستان کی سفارتی کاوشیں قابل تحسین ہیں، پاکستان، سعودی عرب، ایران اور ترکی پر مشتمل ایک مشترکہ دفاعی بلاک تشکیل دیا جائے تاکہ امت مسلمہ کو مضبوط بنایا جاسکے۔ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات اور دعوے زمینی حقائق کے برعکس ثابت ہورہے ہیں اور آج امریکہ خود مذاکرات پر مجبور ہوچکا ہے۔ عالمی سطح پر امریکہ کی ساکھ متاثر اور وہ سفارتی تنہائی کا شکار ہوا ہے، یورپ، نیٹو اور خلیجی ممالک میں بھی اس کے کردار پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی 25 اپریل سے ملک بھر میں ممبرشپ مہم کے نئے مرحلے کا آغاز کر رہی ہے اور یہ ملک کی تاریخ کی سب سے بڑی ممبرشپ مہم ہوگی۔ کراچی شہر میں جاری ترقیاتی منصوبے نا اہلی،بدانتظامی اور کرپشن کا شاہکار بنے ہوئے ہیں۔ یونیورسٹی روڈ کی صورتحال اورریڈ لائن منصوبہ عالمی سطح پر مذاق بن چکا ہے، جبکہ اربوں روپے کے دیگر منصوبے بھی تاخیر اور ناقص کارکردگی کا شکار ہیں۔

حافظ‌نعیم الرحمن نے کہاکہ بلاول بھٹو زرداری کی سیاست محض دعوؤں تک محدود ہے بالخصوص کراچی کی صورتحال ان کی کارکردگی کو بے نقاب کرتی ہے۔بلدیاتی حکومت میں جے یو آئی کے 4اور مسلم لیگ ن کے 14لوگوں نے میئر بنایا اور اب یہ جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ مفاہمت کرکے عوامی مسائل کو نظر انداز کررہی ہیں۔ عدالتی نظام میں ترامیم، پنجاب میں بلدیاتی انتخابات میں تاخیر اورمقامی حکومتوں کی کمزوری جمہوری عمل کے لیے نقصان دہ ہے۔ جماعت اسلامی ملک میں حقیقی تبدیلی کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھاتی رہے گی۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ امریکہ کا طرزِ عمل ہمیشہ دھوکہ دہی پر مبنی رہا ہے۔پہلے بھی جب ایران کے ساتھ مذاکرات جاری تھے اور معاملات طے ہونے کے قریب تھے، اسی دوران حملے کیے گئے جن میں سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بنانے کی کوشش اور معصوم شہریوں، بالخصوص بچوں کی شہادتیں شامل ہیں۔ حالیہ صورتحال میں بھی یہی طرزِ عمل دیکھنے میں آیا.

حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ موجودہ ملکی نظام میں اشرافیہ مستفید ہورہی ہے جبکہ عام عوام مہنگائی اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دب چکے ہیں۔ بجلی کے بلوں میں شامل پی ایچ ایل ٹیکس اور پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کی صورت میں وصول کیے گئے ٹیکسز عوام پر ناجائز بوجھ ہیں اور ان کے استعمال میں شفافیت نہیں ہے۔ اگر ان معاملات کا نوٹس نہ لیا گیا تو جماعت اسلامی عدالت سے رجوع کرے گی۔آئی پی پیز معاہدوں کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہاکہ حکومت نے ایسے معاہدے کیے ہیں جن کے تحت بجلی استعمال نہ کرنے کے باوجود بھی ادائیگیاں کرنا پڑتی ہیں۔ اسی طرح ایل این جی ٹرمینلز کے غیر فعال ہونے کے باوجود قومی خزانے سے بھاری رقوم ادا کی جارہی ہیں، جو قومی مفاد کے خلاف ہے۔پاکستان میں کروڑوں بچے اسکولوں سے باہر ہیں جبکہ تعلیمی اداروں کو آؤٹ سورس کرنے کی پالیسی اپنائی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ غزہ میں ہونے والی انسانی تباہی پوری دنیا کے سامنے ہے جہاں ہزاروں افراد شہید ہوچکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ انہوں نے ایران کی قیادت اور عوام کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مشکل حالات میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اور عالمی طاقتوں کے غرور کو چیلنج کیا۔پریس کانفرنس میں نائب امیرجماعت اسلامی کراچی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈووکیٹ،نائب امیر کراچی مسلم پرویز،ایم پی اے محمد فاروق،سیکریٹری اطلاعات زاہد عسکری و دیگر بھی موجود تھے۔