اسلام آباد (عابد علی آرائیں) پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب میں غیر ملکی صحافیوں کو سینئر صحافی مطیع اللہ جان کی بریفنگ کے بعد پریس کلب کے نو منتخب صدر اور سیکرٹری کی جانب سے بنائی گئی تحقیقاتی کمیٹی کے حوالے سے صحافیوں کے ایک انتخابی گروپ جاگو نے کمیٹی پر اعتراض اٹھایا ہے ۔
جاگو گروپ نے اپنے ردعمل میں صدر پریس کلب عبد الرزاق سیال کو تحریری خط لکھا ہے جس میں صورتحال سے متعلق حقائق بیان کئے گئے ہیں ۔
خط کا مکمل متن
صدر نیشنل پریس کلب اسلام آباد، عبدالرزاق سیال
عنوان: غیرملکی صحافیوں کے اعزاز میں منعقدہ ڈنر سے متعلق ہنگامی اجلاس، جانبدار تحقیقاتی کمیٹی اور نامناسب سوشل میڈیا مہم
جناب صدر !
نیشنل پریس کلب اسلام آباد کی گورننگ باڈی کے 28 اپریل کو منعقدہ ہنگامی اجلاس کی پریس ریلیز ہمیں سوشل میڈیا کے ذریعے موصول ہوئی، جس میں غیر ملکی صحافیوں کے اعزاز میں منعقد کیے جانے والے ڈنر پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔
ہمیں افسوس کے ساتھ یہ نشاندہی کرنا پڑ رہی ہے کہ اس تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل، اس کے مینڈیٹ اور اس میں شامل اکثر اراکین کی سوشل میڈیا سرگرمیاں سنگین سوالات کو جنم دیتی ہیں۔ کمیٹی کے بیشتر اراکین پہلے ہی اس معاملے پر ایک منظم سوشل میڈیا مہم کا حصہ بن چکے ہیں، اپنی واضح آرا کا اظہار کر چکے ہیں اور اب انہی افراد کو تحقیق کا ذمہ سونپ دینا انصاف، شفافیت اور غیر جانبداری کے مسلمہ اصولوں کے منافی ہے۔
مزید برآں، بظاہر اس کمیٹی کو تحقیقات کے لیے صرف ایک صحافی، مطیع اللہ جان، کو ہدف بنانے کا مینڈیٹ دیا گیا ہے جبکہ زیرِبحث تقریب میں اپوزیشن گروپ کے منتخب فنانس سیکریٹری عابد عباسی نے بھی پریس کلب کی بھرپور نمائندگی کی- پریس ریلیز سے یہ تاثر ملتا ہے کہ یہ عمل حقائق جاننے کے بجائے کسی مخصوص بیانیے کو ثابت کرنے کی کوشش ہے۔ کمیٹی میں شامل اراکین کی سوشل میڈیا پوسٹس اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ وہ پہلے ہی اپنی رائے قائم کر چکے ہیں، لہٰذا ایسی کمیٹی کسی بھی صورت غیرجانبدار تحقیق نہیں کر سکتی۔
بطور آپ کے اتحادی ہمیں اس بات کا بھی افسوس ہے کہ اپوزیشن گروپ کی پروپیگنڈے اور بظاہر اُس کے حکومتی گٹھ جوڑ کے باعث ہمارے سینئیر ساتھی رکن کلب مطیع اللہ جان اور ان کی صحافی اراکین ٹیم کی نوکری سے برطرفی کے اگلے ہی دن ہونے والے گورننگ باڈی کے اس اجلاس میں اس امر کی مذمت نہیں کی گئی۔ آپ ہی کی طرف سے تقرر کردہ ہمارے گورننگ باڈی کے دو اراکین کا اس حوالے سے احتجاجاً اس اجلاس میں شریک نہ ہونے کے امر کا بھی پریس ریلیز میں ذکر تک نہیں کیا گیا۔ بہتر ہوتا کہ اپوزیشن ایسی قرارداد کو رد کر دیتی تاکہ ان کے صحافیوں کے حقوق متعلق جدوجہد کے دعوؤں کی حقیقت اجلاس کے منٹس میں ریکارڈ ہو جاتی۔
منعقدہ ڈنر کے کچھ حقائق
زیر دستخطی سینئیر صحافی آپ کی ذاتی معلومات کے لیے غیرملکی صحافیوں کے اعزاز میں منعقدہ ڈنر کے کچھ حقائق بتانا چاہتے ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف 38 روزہ جنگ کے بعد جب جنگ بندی کا اعلان ہوا تو اس کے بعد ہونے والے اہم مذاکرات اسلام آباد میں منعقد ہوئے۔ اس موقع پر دنیا بھر سے متعدد غیرملکی صحافی ان مذاکرات اور خطے کی صورتِ حال کی کوریج کے لیے پاکستان آئے۔
نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے ایک رکن، جو ڈیموکریٹس پینل کے اتحادی کے طور پر جاگو پینل سے وابستہ ہیں، نے ان غیرملکی صحافیوں کے اعزاز میں ایک عشائیے (ڈنر) کا خیال پیش کیا۔ انتہائی قلیل وقت میں، خالصتاً نیک نیتی اور کلب کی ساکھ کو اجاگر کرنے کے جذبے کے تحت، دوستوں کے تعاون سے اس ڈنر کا انتظام کیا گیا۔
اس ضمن میں نیشنل پریس کلب کے سیکریٹری کو بروقت آگاہ کیا گیا، جنہوں نے نہ صرف اس کی منظوری دی بلکہ کلب کے متعلقہ عملے کو انتظامات کے لیے باقاعدہ ہدایات بھی جاری کیں۔
بعد ازاں عشائیے کی تیاریوں کے دوران کچھ یادگاری شیلڈز بھی بنوا لی گئیں اس ارادے کے ساتھ کہ تقریب میں اگر ہماری منتخب باڈی کا کا کوئی بھی نمائندہ ہوا تو وہ آنے والے غیرملکی مہمان صحافیوں کو یہ شیلڈ پیش کر دے گا۔ منتخب باڈی کے نمائندے کی عدم موجودگی میں یہ شیلڈ کبھی نہ تقسیم ہوتیں۔ اس اقدام کا مقصد پاکستان، نیشنل پریس کلب اور یہاں کی صحافتی برادری کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنا تھا۔ ہم نے کوشش کی کہ اس تقریب میں نیشنل پریس کلب کے صدر اور سیکریٹری شرکت فرما کر تقریب کو رونق بخشیں، تاہم ان کے شہر سے باہر ہونے کے باعث کلب میں موجود فنانس سیکریٹری، محترم عابد عباسی سے رابطہ کیا گیا۔ انہوں نے نہایت خوش دلی سے منتخب باڈی کی نمائندگی کرتے ہوئے نہ صرف تقریب میں شرکت کی بلکہ معزز مہمانوں کو اعزازی شیلڈز بھی خود پیش کیں۔
شیلڈز پر دو درجن سے زائد مختلف ممالک کے چھوٹے چھوٹے پرچم کنداں تھے جن کا مقصد عالمی برادری کا پس منظر ظاہر کرنا تھا کہ جن کے مقابلے جن میں وطنِ عزیز پاکستان کا پرچم نمایاں مقام دکھانا مقصود تھا، جو عالمی سطح پر پاکستان کے اہم کردار اور میزبانی کی عکاسی کرتا ہے۔ تقریب میں شریک غیرملکی صحافیوں نے بھی اس بات کا بھرپور اعتراف کیا کہ پاکستان نے ایک بڑے اور حساس بین الاقوامی ایونٹ کی میزبانی نہایت احسن انداز میں کی ہے۔
یہ امر بھی ریکارڈ پر ہے کہ اس تقریب کے انتظامات میں منتخب باڈی کے کچھ اراکین ہمارے شانہ بشانہ موجود رہے، جبکہ چند اراکین مختلف وجوہات کی بنا پر شریک نہ ہو سکے۔ کلب کے سینیئر نائب صدر محترم احتشام الحق ستی کچھ تاخیر سے تقریب کے ہال میں تشریف لائے اور ڈنر میں شرکت کی۔ اس سے قبل وہ پورا دن کلب میں موجود رہے، اور ان کی جانب سے بھی تقریب یا انتظامات پر کسی قسم کا کوئی اعتراض سامنے نہیں آیا۔
یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ یہ تقریب خالصتاً اچھی نیت، کلب کی عزت و وقار اور پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے منعقد کی گئی، جس سے نیشنل پریس کلب کی شان اور منزلت میں اضافہ ہوا۔
افسوسناک سوشل میڈیا مہم
تاہم یہ باعثِ حیرت اور افسوس ہے کہ اس تقریب کے ایک دن بعد ہی سوشل میڈیا پر ایک منظم مہم کا آغاز کر دیا گیا، جس میں نہ صرف بے بنیاد اور بھونڈے الزامات عائد کیے گئے بلکہ اس معاملے کو دانستہ طور پر متنازع بنانے کی کوشش کی گئی جو پریس کلب کے وضع کردہ اصول/پالیسی کی بھی سنگین خلاف ورزی تھی۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس مہم میں نیشنل پریس کلب کے وہ اراکین بھی شامل ہو گئے جو خود منتخب باڈی کا حصہ ہیں اور اسی تقریب کے انتظامات میں بھی شریک رہے۔
مزید تشویش ناک امر یہ ہے کہ انہی افراد میں سے اکثر کو بعد ازاں صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف بنائی گئی تحقیقاتی کمیٹی کا رکن بھی نامزد کر دیا گیا، جو اس کمیٹی کی ساکھ اور نیت پر مزید سوالیہ نشان کھڑے کرتا ہے۔
اسی تسلسل میں صحافی فخر رحمان کی گرفتاری، صحافیوں کے وکلا ایڈوکیٹ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی جیل کی سزا اور مطیع اللہ جان کے اپنے خلاف منشیات کے جعلی مقدمے پر کیے گئے تبصرے کو بھی سیاق و سباق سے ہٹ کر اپنی مرضی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی، جس سے معاملات مزید الجھ گئے اور کلب کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔ غیرملکی مندوبین پہلے بھی پاکستان میں منعقد انسانی حقوق متعلق عالمی کانفرنسوں میں ایسے تبصرے سنتے ہیں، جہاں تک امریکہ ایران مذاکرات کے وقت کی حساسیت کا تعلق ہے تو حکومت کو بھی ایسے موقع پر فخر الرحمان و دیگر کے خلاف غیرانسانی سلوک سے اجتناب کرنا چاہیے۔
باضابطہ مطالبہ اور درخواست
اگر مذکورہ بالا تمام حقائق کے باوجود نیشنل پریس کلب اسلام آباد کی قیادت سمجھتی ہے کہ کسی معاملے میں ابہام ہے اور انکوائری ضروری ہے تو ہم پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ:
1. تحقیقات کے لیے غیرجانبدار، معتبر اور سیزنڈ صحافیوں پر مشتمل ایک نئی کمیٹی تشکیل دی جائے جس کا کسی بھی الیکشن گروپ سے کوئی تعلق نہ ہو۔
2. موجودہ تحقیقاتی کمیٹی، جو واضح طور پر جانبدار، متنازع اور مفادات کے ٹکراؤ کا شکار ہے، کو فوری طور پر تحلیل کیا جائے۔
3. اپوزیشن گروپ کے کچھ منتخب اراکین باڈی اور خاص طور پر خود کو جرنلسٹ پینل کہلوانے والوں کی طرف سے اسی پریس کلب کے چند معزز اراکین کے خلاف سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی غیر ذمہ دارانہ مہم کا بھی سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے، کیونکہ اس سے نہ صرف کلب کی ساکھ بلکہ غیرملکی مہمانوں کی تکریم پر بھی حرف آیا ہے۔
جاگو گروپ گزشتہ ایک دہائی سے آزادیِ اظہار، شفافیت اور حق گوئی کی بات کرتا رہا ہے، اور ہمارا ڈیموکریٹ اتحاد صحافیوں کے لیے ایک صاف ستھرے، باوقار اور غیرجانبدار پریس کلب قائم رکھنے کے عزم کے ساتھ میدان میں اترا اور کلب میں 20 سال بعد نئی تاریخ رقم کی، اس میں جاگو گروپ کا بھی اہم اور فیصلہ کن کردار رہا ہے۔
ڈیموکریٹس پینل کے اتحادی کے طور پر ہم اس بات کی یقین دہانی کراتے ہیں کہ اگر کسی معاملے پر ابہام کی غیرجانبدار تحقیقات کی گئیں تو نہ صرف مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا بلکہ تمام حقائق، شواہد اور پس منظر بھی پیش کیا جائے گا، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ اس تقریب کو کس طرح دانستہ طور پر متنازع بنایا گیا اور اس کے نتیجے میں نیشنل پریس کلب کو کس حد تک نقصان پہنچا۔
ہم امید کرتے ہیں کہ نیشنل پریس کلب کی قیادت اس درخواست کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے انصاف، شفافیت اور ادارے کے وقار کے تقاضوں کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کرے گی۔
جاگو گروپ
نیشنل پریس کلب، اسلام آباد
یاد رہے کہ 12مارچ کو پریس کلب کے ہونے والے انتخابات میں جاگو پینل نے ڈیموکریٹس پینل کے ساتھ اتحاد کیا تھا جس کی بنیاد پر طویل عرصے بعد جرنلسٹس پینل کو شکست کاسامنا کرنا پڑا ۔


