اسلام آباد (ای پی آئی) سپریم کورٹ آف پاکستان نے نجی ٹی وی چینل (اے آر وائی ڈیجیٹل)
پر چلنے والی ڈرامہ سیریل جلن سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف دائر نظرثانی درخواستیں ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کردیں.
جبکہ جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے ہیں کہ پیمرا کا قانون موجود ہے اس پر عمل ہوگا۔ جبکہ جسٹس عائشہ اے ملک نے ریمارکس دیئے کہ فیصلے میں آئین کاحوالہ دیا ہوا ہے۔
جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں جسٹس عائشہ اے ملک پر مشتمل 2رکنی بینچ نے سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق، جمعیت علماء اسلام (ف)اور عاطف منہاس کی جانب سے دائر درخواستوں پرسماعت کی۔
درخواست گزاروں کی جانب سے سینیٹر کامران مرتضیٰ اور عمران شفیق نے بطور وکیل پیش ہوکردلائل دیئے۔سینیٹرکامران مرتضیٰ کا ویڈیو لنک کے زریعہ کوئٹہ سے دلائل میں کہناتھا کہ اس ڈرامہ میں کم چیزیں دکھائی گئی ہیں اور اگر اس کی جازت دی تویہ نظیر بن جائے گی اور مستقبل میں اس سے زیادہ چیزیں دکھائی جائیں گی۔
اس پر جسٹس جمال خان مندوخیل کاکہنا تھا کہ یہ ڈرامہ نظیر نہیں بنے گا۔ جسٹس جمال خان کاکڑ نے سراج الحق کے وکیل عمران شفیق کوہدایت کی کہ وہ آئین کاآرٹیکل 19پڑھیں۔ جسٹس جمال مندوخیل کاعمران شفیق سے مکالمہ کرتے ہوئے کہناتھا کہ آپ ایسے دلائل دے رہے ہیں جیسے ہم بھاگے جارہے ہیں، پیمراکاقانون موجود ہے اس پر عمل ہوگا۔
عمران شفیق کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مغربی معاشرے کی برداشت کو لاگو کیا گیا ہے، اسلام کی روایات کے مطابق فیصلے میں ترمیم کریں۔
جسٹس عائشہ اے ملک کا کہنا تھا کہ فیصلے میں آئین کا حوالہ دیا ہوا ہے۔ بینچ نے درخواستیں ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کردیں۔
جسٹس جمال مندوخیل کا کامران مرتضیٰ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہناتھا کہ تحریری فیصلہ بعد میں جاری کردیں گے۔


