اسلام آباد(محمداکرم عابد)پارلیمینٹ میں سنسرشپ برقرار، اپوزیشن لیڈرمحمودخان اچکزئی کی آوازخاموش کردی گئی بس تصویر چلتی رہی ۔اپوزیشن لیڈرنے حکومت کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان آرمی چیف سمیت کسی سے کوئی جھگڑانہیں ہے۔فوج کے سربراہ سے کوئی اختلاف نہیں ،کبھی آرمی چیف سے نہیں ملا،پارلیمینٹ پاکستان کی زندگی کی لکیرہے۔
قومی اسمبلی اجلاس میں سب ارکان کے مائیک آن رہے۔اپوزیشن لیڈر محمودخان اچکزئی جیسے ہی اظہار خیال کے لئے اٹھے آوازسنسرشپ کا شکار ہوگئی،اسکرینزپر بس تصویر چلتی رہی جب تک بولتے رہے آوازبند رکھی گئی ،وہ ملک میں سیاسی استحکام کے لئے حکومت کو دہائیاں دے رہے تھے ،قومی اسمبلی اجلاس کے نگران نے یہ بھی کسی کو نہ سننے دیا ۔دیگر ارکان آزادی سے اظہار خیال کرتے رہے۔
اجلاس ڈپٹی اسپیکر مصطفے شاہ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت محمودخان اچکزئی نے کہا کہ آرمی چیف خفیہ اداروں سمیت میرا کسی سے کوئی جھگڑانہیں ہے ۔پارلیمینٹ پاکستان کی شہہ رگ ہے ۔سب اس کااحترام کریں ،عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرنے والے مرد وخواتین نوجوانوں کو جیلوں میں ڈال دیتے ہو ۔سیاسی قیدی مائیں بہنیں سب کی عزت ہیں ۔ انکا کیا قصور ہے؟؟؟ انہوں نے کہا کہ آخر یہ چاہتے کیا ہیں۔میں آرمی چیف سے نہیں ملا۔جب کوئی آرمی چیف بنتا ہے تو خودبخود آرمی چیف کی عزت ہو جاتی ہے ۔فوج ایجنسیوں ،کسی سے کوئی اختلاف نہیں ،ہم آئین کا حلف اٹھاچکے ہیں اسی آئین کاحلف ہر ادارے نے اٹھایا ہے ۔جرنیلوں ججز سب نے حلف اٹھایا ہے بس جس آئین کاحلف اٹھایا ہے اس کی پاسداری کریں ۔
محمود اچکزئی نے کہاکہ پارلیمینٹ کو طاقت کا مرکز بنائیں یہ پاکستان کی شہہ رگ ہے ۔دنیا میں جہاں قیدی رہا ہوتے ہیں وہاں آرمی چیف سے نہیں پوچھا جاتا ۔ جہاں جو عمران کی رہائی کی بات کرتا ہے اسے اٹھالیا جاتا ہے ۔ایوان میں یہی بات کررہا تھا کہ پارلیمینٹ کمزورہوگیاہے عدلیہ کے پر کاٹ دیئے گئے ہیں ۔صرف اسٹیبلمشنٹ کو مورداالزام نہیں ٹھہراسکتے ،ہم نے ووٹ دے کر خود عدلیہ کو پارلیمینٹ کو کمزور کیا انتظامیہ کمزورہے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہاکہ اظہار رائے پر پابندیا ں ہیں۔توبہ کرو۔ہم آپ کی غیرمشروط حمایت کے تیار ہیں ۔وزیراعظم میرا دوست ہے پراناتعلق ہے ۔اس کے گھر جایا کرتا تھا ۔نوازشریف کوووٹ کو عزت دوکے بیانیہ کی وجہ سے عزت ملی ۔طاقتورپارلیمان خودمختیارپاکستان کی ضمانت ہے ۔


