دنیا میں ٹیکنالوجی کی دوڑ پہلے سے کہیں زیادہ تیز ہو چکی ہے۔ مصنوعی ذہانت، روبوٹس اور جدید معلوماتی نظام اب صرف سائنسی تجربات تک محدود نہیں رہے بلکہ معیشت، صنعت اور روزمرہ زندگی کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔

ایسے وقت میں چین نے خود کو ایک ایسے ملک کے طور پر منوایا ہے جس کی ٹیکنالوجی اور جدت دنیا بھر کی توجہ حاصل کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رواں سال چین آنے والے کئی عالمی رہنماؤں نے اپنے دوروں میں چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور تحقیقی اداروں کا خصوصی طور پر رخ کیا۔

لاوس کے صدر اور لاؤ پیپلز ریوولیوشنری پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکریٹری تھونگلون سیسولیت کے حالیہ دورۂ چین کے بعد رواں سال چین کا دورہ کرنے والے غیر ملکی رہنماؤں کی تعداد تقریباً بیس تک پہنچ چکی ہے۔ ان میں سے بڑی تعداد نے اپنی مصروفیات میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے مراکز کو نمایاں جگہ دی ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دنیا چین کی تکنیکی پیش رفت کو قریب سے دیکھنا چاہتی ہے۔

جون کے آغاز میں لاؤس کے صدر نے مشرقی چین کے شہر ہانگ چو میں واقع ایک روبوٹکس کمپنی کا دورہ کیا، جو ان کے دورے کا پہلا پڑاؤ تھا۔ اس سے قبل فروری میں جرمنی کے چانسلر فریڈرش مرز بھی جرمن کاروباری شخصیات کے ایک وفد کے ساتھ ہانگ چو کی معروف روبوٹکس کمپنی یونٹری روبوٹکس پہنچے۔ وہاں انہوں نے روبوٹس کی کارکردگی کا مشاہدہ کیا اور جدید ٹیکنالوجی میں چین کی پیش رفت کو قریب سے دیکھا۔

اپریل میں اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے بیجنگ میں چینی اکیڈمی آف سائنسز کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے خود ریموٹ کنٹرول کے ذریعے روبوٹک بازو چلانے کا تجربہ کیا۔ اپنے دورے کے دوران انہوں نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں چین کے ساتھ تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔ اسی طرح مئی کے آخر میں سربیا کے صدر الیگزینڈر ووچیچ نے ایک چینی روبوٹکس کمپنی میں جا کر روبوٹ سے بات چیت کی اور انجینئروں کو روبوٹس کی جانچ اور تیاری کے مراحل پر کام کرتے ہوئے دیکھا۔

رواں سال کے دوروں کا جائزہ لیا جائے تو ایک اور حقیقت سامنے آتی ہے کہ مصنوعی ذہانت نے بھی عالمی رہنماؤں کی غیر معمولی توجہ حاصل کی ہے۔ اپریل میں ویتنام کی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکریٹری اور صدر تو لام نے جنوبی چین کے شہر نان ننگ میں قائم چین-آسیان مصنوعی ذہانت ایپلی کیشن تعاون مرکز کا دورہ کیا۔ وہاں انہوں نے مصنوعی ذہانت سے چلنے والے چشمے استعمال کیے اور ان میں موجود معلوماتی ڈسپلے اور فوری ترجمے کی سہولت کا عملی تجربہ کیا۔

مئی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ چین کے دوران دونوں ممالک کے درمیان مصنوعی ذہانت کے موضوع پر تبادلہ خیال ہوا اور اس شعبے میں بین الحکومتی مکالمے شروع کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ اسی مہینے روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے دورے کے دوران بھی دونوں ملکوں نے مختلف شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے تعاون کو مزید گہرا کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا۔چین کی اس بڑھتی ہوئی کشش کے پیچھے مضبوط اعداد و شمار بھی موجود ہیں۔
گزشتہ سال چین کی نیو جنریشن انفارمیشن ٹیکنالوجی کی صنعت کا حجم 36.9 کھرب یوان تک پہنچ گیا ہےاور اسی سال چین دنیا کا پہلا ملک بنا جہاں مؤثر مقامی ایجاداتی پیٹنٹس کی تعداد پچاس لاکھ سے تجاوز کر گئی۔

یہ کامیابیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ ملک میں جدت اور تحقیق کو مسلسل فروغ دیا جا رہا ہے۔چین میں عالمی تجارتی تنظیم کے مطالعاتی ادارے کے سربراہ تو شین چھوان کے مطابق بہت سے ممالک ترقی کے نئے مواقع تلاش کر رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے چین کے ساتھ اعلیٰ ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون چاہتے ہیں۔ ان کے بقول چین اب عالمی جدت کے نظام کا ایک اہم مرکز بن چکا ہے، جہاں ترقی یافتہ ممالک اور عالمی جنوب کے ممالک یکساں طور پر شراکت داری کے مواقع تلاش کر سکتے ہیں۔

اس رجحان کی ایک مثال پاکستان اور چین کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون بھی ہے۔ مئی کے آخر میں ہانگ چو میں منعقد ہونے والی چین-پاکستان کاروباری سرمایہ کاری کانفرنس کے دوران دونوں ممالک کی کمپنیوں نے مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل معیشت سمیت مختلف شعبوں میں درجنوں بڑے معاہدوں پر دستخط کیے۔ پاکستانی کاروباری شخصیت عامر عباس نے اس موقع پر کہا کہ چین اپنے علم، تجربات اور ٹیکنالوجی کو دوسروں کے ساتھ بانٹنے کے لیے انتہائی کشادہ دل رویہ رکھتا ہے۔آج چین نے ایک سو سے زائد ممالک اور خطوں کے ساتھ سائنسی و تکنیکی تعاون قائم کر رکھا ہے اور ایک سو سے زیادہ بین الحکومتی معاہدے بھی کر چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چین نے عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے تعاون کی تنظیم قائم کرنے اور اس شعبے میں صلاحیت سازی کے لیے ایک جامع منصوبہ بھی پیش کیا ہے۔

یہ تمام اقدامات اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ چین صرف اپنی ترقی تک محدود نہیں بلکہ دنیا کے ساتھ مل کر ٹیکنالوجی کے مستقبل کی تشکیل میں بھی سرگرم کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔