اسلام آباد(ای پی آئی) آزاد کشمیر کے ضلع راولاکوٹ کے رہائشی اور پاکستان آرمی کے ریٹائرڈ اہلکار محمد نسیم کیانی نے الزام عائدکیاہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی پانیوالہ سے وابستہ افراد نے ان کے بیٹے دلاور کیانی کو اغوا کرلیا ہے اسے رہا کرایا جائے.
نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران نسیم کیانی نے کہاکہ انکے بیٹے کو عوامی ایکشن کمیٹی پانیوالہ سے وابستہ افراد نےغیر قانونی طور پر حراست میں لے کر تشدد کا نشانہ بنایا، لوٹ مار کی اور چھوڑنے کے دو دن بعد دوبارہ اسے مبینہ طور پر اغوا کر لیا ہے، جس کے بعد سے اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا، ہمیں محب وطن پاکستانی کشمیری ہونے کی سزا دی جا رہی ہے.
متاثرہ خاندان نے صدر پاکستان آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سے مطالبہ کیا کہ دلاور کیانی کی فوری بازیابی کے لیے اقدامات کیے جائیں، واقعے میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں، سوشل میڈیا پر جاری دھمکی آمیز مہم کا نوٹس لیا جائے اور خاندان کو مکمل سکیورٹی فراہم کی جائے، بیٹے یا خاندان کے کسی فرد کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری عوامی ایکشن کمیٹی پانیوالہ اور ان کے نامزد کردہ افراد پر عائد ہوگی.
اپنے اہل خانہ کے ہمراہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئےمحمد نسیم کیانی نے بتایا کہ انہوں نے پاکستان آرمی اور دیگر قومی اداروں میں 41 برس خدمات انجام دیں اور ملک کے مختلف علاقوں میں فرائض سرانجام دیتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ 6 جون کو انہیں اطلاع ملی کہ ان کا بیٹا دلاور کیانی چند افراد کے قبضے میں ہے۔ جب وہ موقع پر پہنچے تو ان کے مطابق ان کے بیٹے کو جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا جا چکا تھا جبکہ اس کے خلاف نعرے بازی اور فائرنگ بھی کی جا رہی تھی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ عوامی ایکشن کمیٹی پانیوالہ سے تعلق رکھنے والے بعض افراد اور ان کے ساتھیوں نے نہ صرف ان کے بیٹے بلکہ انہیں بھی یرغمال بنایا، تشدد کیا اور ان کی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر پھیلائیں، ان کے مطابق اس دوران انہیں اور ان کے خاندان کو سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں،،محمد نسیم کیانی کا کہنا تھا کہ 15 جون کو انہیں انتہائی خراب حالت میں چھوڑ دیا گیا جبکہ ان کے بیٹے کے زیر استعمال گاڑی اور نقد رقم بھی مبینہ طور پر چھین لی گئی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے خاندان کے خلاف منظم مہم شروع کر دی گئی جس میں ان کے اہل خانہ خصوصاً خواتین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان کے بیٹے کے سر کی قیمت لگانے جیسے اشتعال انگیز پیغامات بھی گردش کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ 16 جون کو ان کے بیٹے دلاور کیانی کو دوبارہ بلایا گیا اور چند افراد اسے اپنے ساتھ لے گئے، جس کے بعد سے اس کا کوئی پتہ نہیں چل سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ خاندان کو خدشہ ہے کہ دلاور کیانی کی جان کو خطرات لاحق ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران دلاور کیانی کے بھائی نے کہا کہ ان کے خاندان کا قصورصرف یہ ہے کہ وہ پاکستان اور نظریہ پاکستان سے محبت کرتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ علاقے میں پاکستان کے حامی افراد کو ہراساں کیا جا رہا ہے اور خوف کی فضا قائم کر دی گئی ہے۔ ان کے مطابق متعدد افراد دباؤ اور دھمکیوں کے باعث سامنے آنے سے گریز کر رہے ہیں۔
متاثرہ خاندان نے صدر پاکستان آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سے مطالبہ کیا کہ دلاور کیانی کی فوری بازیابی کے لیے اقدامات کیے جائیں، واقعے میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں، سوشل میڈیا پر جاری دھمکی آمیز مہم کا نوٹس لیا جائے اور خاندان کو مکمل سکیورٹی فراہم کی جائے۔محمد نسیم کیانی نے کہا کہ اگر ان کے بیٹے یا خاندان کے کسی فرد کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری عوامی ایکشن کمیٹی پانیوالہ اور ان کے نامزد کردہ افراد پر عائد ہوگی۔


