اسلام آباد(ای پی آئی) وفاقی آئینی عدالت نے سندھ پبلک سروس کمیشن کی جانب سے کی گئی تعیناتیاں روکنے کا کیس بغیر کسی آبزرویشن کے نمٹاتے ہوئے کہا ہے کہ ہائیکورٹ نے معاملے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا اس لئے سندھ پبلک سروس کمیشن اپنے اعتراضات ہائیکورٹ میں اٹھائے.

چیف جسٹس امین الدین خان سربراہی میں دو رکنی بینچ نےسندھ پبلک سروس کمیشن کی درخواست پر سماعت کی ہے دوران سماعت بینچ کے رکن جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ نے عبوری حکم دیا ہے کیس کا حتمی فیصلہ تو سندھ ہائیکورٹ نے نہیں کیا۔ سندھ پبلک سروس کمیشن کے وکیل حافظ احسان کھوکھر نے موقف اپنایا کہ سندھ ہائیکورٹ نے 2024 کے پبلک سروس کمیشن امتحان کا ریکارڈ منگوالیا ہے اور اس کے ساتھ عدالت عالیہ نے کامیاب امیدواروں کے انٹرویو کیخلاف حکم امتناع دے رکھا ہے جس سے کامیاب امیدواروں کا مستقبل خطرے میں پڑھ گیا ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آئینی عدالت کے سامنے سندھ ہائیکورٹ کا حکم امتناع کا 14 مئی کا آرڈر چیلنج نہیں کیا گیا آئینی عدالت کے سامنے ہائیکورٹ کا 22 جون کا آرڈر چیلنج ہے۔ہائیکورٹ نے ریکارڑ جائزہ لینے کے لیے منگوایا ہوگا۔

وکیل احسان کھوکھر نے کہاکہ سندھ ہائیکورٹ امیدواروں کی مارکنگ کا جائزہ کیسے لے سکتی ہے۔مارکنگ کا جائزہ لینا ہائیکورٹ کا اختیار نہیں ہائیکورٹ اپنے اختیار سے باہر چلی گئی ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ کے جو بھی اعتراضات ہیں ہائیکورٹ میں اٹھائیں عدالت نے سندھ پبلک سروس کمیشن کی درخواست نمٹا دی.

کیس کا پس منظر
3 جون 2026 کو سندھ ہائیکورٹ نے سندھ پبلک سروس کمیشن (ایس پی ایس سی) کے امتحانی نتائج کے خلاف دائر مختلف درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے بڑا حکم جاری کیا تھا ۔

اپنے حکم میں عدالت نے درخواست گزاروں کی امتحانی کاپیاں اور متعلقہ ریکارڈ سیل کر کے پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔کراچی میں ہونے والی سماعت کا تحریری حکم نامہ عدالت کی جانب سے جاری کر دیا گیا ہے۔

عدالت عالیہ نے سیشن جج حیدرآباد کو حکم دیا ہے کہ وہ سندھ پبلک سروس کمیشن سے امیدواروں کے تحریری امتحانی پرچے حاصل کریں اور تمام ریکارڈ کو سیل کر کے آئندہ سماعت پر عدالتی نمائندے کے ذریعے پیش کریں۔

عدالت نے واضح کیا ہے کہ یہ تمام ریکارڈ بعد میں عدالت کی جانب سے مقرر کردہ مجسٹریٹ کی موجودگی میں ہی ڈی سیل کیا جائے گا۔

عدالتی حکم نامے کے مطابق موجودہ تنازع کمبائنڈ کمپی ٹیٹو ایگزامنیشن (سی سی ای) 2024 کے نتائج سے متعلق ہے۔

درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ انہیں انتہائی کمزور اور غیر معقول بنیادوں پر امتحانات میں ناکام قرار دیا گیا، اس لیے انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے ضروری ہے کہ درخواست گزاروں کے جوابی پرچے عدالتی اسکروٹنی کے لیے پیش کیے جائیں۔

دوسری جانب سندھ پبلک سروس کمیشن نے اپنے مؤقف میں کہا ہے کہ تمام امیدواروں کو میرٹ پر ناکام قرار دیا گیا ہے اور نتائج میں کسی قسم کی بدنیتی کا عنصر موجود نہیں ہے۔

دورانِ سماعت سندھ ہائیکورٹ نے مزید دو امیدواروں کی کیس میں فریق بننے کی درخواست بھی منظور کر لی۔ عدالت نے سندھ پبلک سروس کمیشن، متعلقہ حکام اور ایڈووکیٹ جنرل کو کارروائی میں مکمل تعاون کرنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ ہائیکورٹ کے ایم آئی ٹی ٹو کو عدالتی احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔