اسلام آباد(محمداکرم عابد)خیبرپختونخواکے مشیرخزانہ مزمل اسلم نے کہا ہے کہ پنجاب ،سندھ ہمارے صوبے کے این ایف سی کی رقم استعمال کررہے ہیں ، قبائلی اضلاع کا حصہ ان صوبوں کو جارہا ہے ، وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کرلیا ہے ،قومی اقتصادی کونسل میں قطعاًوفاقی منصوبوں کے لئے صوبے سے گیارہ سوارب روپے لینے پر اتفاق نہیں ہوا تھا، معاشی ماہرین کہہ رہے کہ آبادی کے اعداد وشمار مبالغہ آرائی پر مشتمل ہیں ،پاکستان کی آبادی26نہیں17کروڑ ہے ۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے واضح کیا کہ اسٹریٹیجک منصوبوں کے لئے ہم کم ازکم 1100ارب روپے دینے کی حمایت نہ کی تھی قومی اقتصادی کونسل میں قطاًایسا فیصلہ نہ ہوا تھا،انہوں نے مشروط کرتے ہوئے کہا کہ اس کی اجازت کے لئے بانی چیئرمین سے ملاقات کی اجازت دی جائے جب کی صوبوں سے فنڈ زکاتقاضا کرنا قومی اقتصادی کونسل کا اختیار ہی نہیں ہے.
ان کا کہنا تھا کہ مشترکہ مفادات کونسل کا مئی 2025 میں اجلاس ہواتھا مسلسل آئین سے انحراف کیا جارہا ہے جب کہ ضرورت بڑھ رہی ہے۔کیونکہ صوبوں میں اختلافات بڑھ رہے ہیں ہم نے وفاقی آئین عدالت رٹ کردی ہے کہ این ایف سی ایوارڈ 2010کے بعد نہ آیا ترامیم آگئیں ہم نے بھی پیش رفت نہ کی،پی ٹی آئی بھی زمہ دار ہے این ایف سی نہ آنے کی۔2018سے مالیاتی ایوارڈزائد المعیادہوچکا ہے ،ہمارے صوبے کا حصہ بڑھنا چاہیے.
مزمل اسلم کا کہنا تھاکہ قبائیلی اضلاع ضم ہوئے ہیں۔علاقہ وسیع ہوگیا۔ایوارڈ نہ ملنے پر 160ارٹیکل کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔آئینی ڈسپلن بحال کیا جائے۔ این ایف سی ایوارڈصوابدیدی اختیارنہ ہے۔25ویں ترمیم کی منظوری سے واجبات 984ارب ہوگئے۔ سار ا پیسہ پنجاب سندھ کو چلا گیا۔ موجودہ استعمال کا فارمولا اناڑیوں والا کام نااہلی ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ فصل گندم کا بحران شدید ہوتا جارہا ہے چارماہ ہوئے ہیں کٹائی کو۔پنجاب سندھ گندم خریداری میں ناکام ہوگئے ہیں۔گندم کے نہایت تشویشات زخائر رہ گئے ہیں پاسکو کے پاس بھی بس سترہ لاکھ ٹن ہیں ۔عدم دستیابی کا خطرہ بڑھتا جارہا ہے۔عالمی منڈی سے گندم 90 روپے فی کلوگرام خریدی جاسکتی ہے ۔
مزمل اسلم نے کہاکہ بجلی کھاد ڈیزل کی وجہ سے پاکستان میں پیدواری لاگت بڑھ رہی ہے تیل کا بحران بڑھ رہا ہے۔صارفین کو مسلسل حکومت تیل کا ٹیکا لگارہی ہے۔حکومت نے سستے تیل گیس کے ٹینڈر مسترد کردیے تھے۔زخیرہ اندوزوں کا فائدہ سامنے رکھا گیا ہماری وفاقی آئینی عدالت میں11/226پٹیشن ہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف نے واضح کیا کہ صوبائی ٹارگٹ آئی ایم ایف کاکام نہیں ہے میں ملاتھا ۔ہمیں آبادی کی بنیاد پر این ایف سی شیئر چاہیے سابقہ فاٹا ہماری زمہ داری بنتی ہے پنجاب سندھ کو اس کا حصہ کیوں جارہا ہے کیا واقعی پنجاب کی یہی آبادی ہے اقتصادی ماہر اشفاق حسن تو کہتے ہیں کہ آبادی26کروڑ نہیں 17کروڑ ہے.


