لاہور(ای پی آئی) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ پٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف احتجاجی تحریک میں مزید تیزی لائی جائے گی اور 16 اگست کو چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں دھرنے دیے جائیں گے۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان کی زیر صدارت منصورہ میں مرکزی و صوبائی ذمہ داران کے خصوصی اجلاس میں وسیع مشاورت کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ یوم آزادی تقریبات میں جماعت اسلامی، اس کا یوتھ اور خواتین ونگ بھرپور شرکت کریں گے اور اس دوران جماعت اسلامی ملک میں عادلانہ نظام کے قیام کے لیے عوام کو منظم کرے گی۔ آزادی تقریبات کے دو روز بعد لاہور میں وزیراعلیٰ ہاؤس اور خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان میں گورنر ہاوسز کے باہر دھرنے دیے جائیں گے اورحکمرانوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جائے گا۔
اجلاس میں قائم مقام سیکرٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ، نائب امرا لیاقت بلوچ، ڈاکٹر اسامہ رضی، پروفیسر ابراہیم، ڈاکٹر عطا الرحمن، ڈپٹی سیکرٹریز اظہر اقبال حسن، سید وقاص جعفری، رسل خان بابر، ممتاز سہتو، شیخ عثمان فاروق، سید فراست شاہ، عبدالحق ہاشمی،قیم صوبہ بلوچستان مرتضیٰ کاکڑ، قیم صوبہ سندھ محمد یوسف، امیر پنجاب شمالی ڈاکٹر طارق سلیم، امیر پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری، امیر پنجاب جنوبی سید ذیشان اختر، امیر کے پی وسطی عبدالواسع، امیر کے پی شمالی عنایت اللہ خان، امیر ہزارہ عبدالرزاق عباسی، امیر کراچی منعم ظفر، امیر لاہور ضیا الدین انصاری ایڈووکیٹ، امیر اسلام آباد نصراللہ رندھاوا، معاون خصوصی امیر جماعت عمیر ادریس، سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی اور ڈائریکٹر میڈیا سیل سلمان شیخ شریک تھے۔
حافظ نعیم الرحمن نے اجلاس میں علاقائی اور عالمی صورتحال پر بھی گفتگو کی۔ انہوں نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک جتنا ایک دوسرے کے ساتھ جڑتے جائیں گے، اتنا ہی ایک مضبوط اسلامی بلاک تشکیل پائے گا اور غیر مسلم طاقتوں اور دشمن ممالک پر پاکستان سمیت مسلم دنیا کا انحصار کم ہوگا۔ انہوں نے تجویز دی کہ اس دفاعی تعاون کے دائرے کو مزید وسیع کیا جائے اور ایران، قطر، بنگلہ دیش، ملائیشیا اور انڈونیشیا کو بھی اس میں شامل کرنے کی کوشش کی جائے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ گزشتہ روز کا احتجاج جماعت اسلامی کی جدوجہد کے لیے ایک نیا رخ متعین کر گیا ہے۔ انہوں واضح کیا کہ پٹرولیم مصنوعات پر لیوی کا بھتہ اور موجودہ قیمتیں کسی صورت قبول نہیں، حکومت کو عوام پر مسلط کیا گیا یہ ظلم اور جبر ختم کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جمعہ کو پورے ملک میں 510 سے زائد مقامات پر منظم اور پرامن احتجاج ہوا، سڑکیں بلاک کی گئیں اور کارکنوں نے عوام اور نوجوانوں کے ساتھ مل کر دھرنے دیے۔ احتجاج نے ثابت کردیا ہے کہ جماعت اسلامی قومی یکجہتی کی علامت بن چکی ہے اور بلوچستان کے دور دراز علاقوں سے لے کر اندرون سندھ، پنجاب کے چھوٹے بڑے شہروں، خیبر پختونخوا کے چترال، ملاکنڈ ڈویژن، ہزارہ اور وسطی اضلاع تک پوری قوم ایک آواز بن کر پٹرولیم لیوی کے خلاف کھڑی ہوگئی ہے۔ پورے ملک میں ایک ہی مطالبہ گونجتا رہا کہ پٹرولیم مصنوعات پر لیوی کے نام پر بھتہ قبول نہیں، پٹرول کی موجودہ قیمتیں قبول نہیں، پٹرول 225 روپے فی لٹر کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو اس وقت ناقابل برداشت مہنگائی کی آگ میں جھونک دیا گیا ہے، جبکہ حکمران طبقہ اپنی عیاشیوں، شاہانہ اخراجات اور مراعات میں کمی لانے کے لیے تیار نہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکمران اپنے جہاز ختم نہیں کرتے، سرکاری گاڑیوں کا حجم اور اخراجات کم نہیں کرتے، مفت پٹرول اور مفت بجلی جیسی مراعات ختم نہیں کرتے، لیکن طالب علموں اور موٹر سائیکل سواروں، مزدوروں اور کسانوں کی جیبوں سے ایک ایک روپیہ نچوڑا جا رہا ہے۔ جن لوگوں کی آمدنی ہی قابل ٹیکس نہیں، ان سے بھی پٹرولیم مصنوعات کے ذریعے بالواسطہ ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے، جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی اس سے قبل بھی آئی پی پیز مافیا کے خلاف میدان میں اتری تھی اور اس جدوجہد کے نتیجے میں حکومت کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ ابتدا میں حکمران یہ ماننے کو تیار نہیں تھے کہ آئی پی پیز سے بات بھی ہوسکتی ہے، لیکن عوامی دباو کے نتیجے میں مذاکرات ہوئے اور 17، 18 آئی پی پیز سے مذاکرات کیے گئے، جس کے نتیجے میں بجلی کی قیمتوں میں کچھ کمی بھی ہوئی۔ اس کے بعد حکومت رک گئی، لیکن عوام کا مسئلہ ختم نہیں ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی کا طوفان ہر خاتون، ہر شہری، ہر تنخواہ دار، مڈل کلاس اور غریب خاندان کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔مہنگائی کی اس آگ میں عوام کو مزید جلنے نہیں دیا جائے گا۔ اب یہ سلسلہ مزید نہیں چلے گا، حکمرانوں کو عوام کا حق دینا پڑے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی پٹرولیم لیوی کے خاتمے، بجلی کی قیمتوں میں کمی اور آئی پی پیز کے مسئلے کے حل سمیت عوام کے بنیادی حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔


