اسلام آباد(محمداکرم عابد) پارلیمانی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے وفاقی ترقیاتی ادارے سی ڈی اے کو مافیا قراردیتے ہوئے ڈیپوٹیشن پر آئے افسران کاڈیٹا طلب کرلیا ہے جبکہ چیئرمین سی ڈی اے نے ماضی میں انتہائی اضافی ریٹس پر ٹھیکوں کی الاٹمنٹ کا اعتراف کرتے ہوئے پی اے سی سے مدد بھی طلب کی ہے اور کہا ہے کہ ماضی میں سوچے سمجھے منصوبوں کے تحت نئے سرکاری سیکٹرزمیں ترقیاتی کاموں میں رکاوٹیں پیدا کی گئی تاکہ نجی ہاوسنگ اسکیموں کی چاندی لگی رہے اور کامیاب رہیں ۔
کمیٹی کا اجلاس قائمقام چیئرپرسن شاہدہ اخترعلی کی صدارت میں پارلیمینٹ ہاوس میں ہوا۔ چیئرمین سی ڈی اے کمشنر اسلام آباد ارکان کی جانب سے سی ڈی اے میں خرابیوں کی نشاندہی کی حمایت کرتے رہے اور کہا کہ ماضی میں پرکشش پلاٹس کی بھی الگ معاملات ہیں ۔ہم نے معائنہ شروع کیا ۔
اجلاس میں ایک بار پھرسی ڈی اے کے چیف فنانشل ایڈوائزرکی خیرحاضری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سربراہ پی اے سی نے کہا کہ یہ وہی افسر ہے بار بار وارننگ دی جارہی ہے مگر نظر انداز کیا جارہا ہے۔سی ڈی اے کے مالیاتی مشیرکے خلاف پی اے سی کی تحریک استحقاق آگئی ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی اور تمام جماعتوں کے چیف وہیپس کو اعتمادمیں لیتے ہوئے خصوصی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ سی ڈے اے کو شہریوں کی کال سننے کے لئے کال سنٹر بنانے کی بھی ہدایت کردی گئی ہے ۔
پارلیمانی پبلک اکاونٹس کمیٹی نے سی ڈی اے میں افسران کے دہرے عہدوں پر پابندی عائد کردی ہے ۔ڈیپوٹیشن افسران کا ڈیٹا طلب کرتے ہوئے دوماہ کی مہلت دے دی گئی ہے۔ارکان نے کہا کہ ہر چیئرمین یہی بات کرتا ہے کہ اصلاح کررہے ہیں۔سی ڈی اے مافیا بن گیا ہے .
سینیٹر سلیم مانڈوی نے کہا کہ مافیا کی وجہ سے سی ڈی اے سربراہ بے بس ہے۔بیچارے سی ڈی اے چلے جاتے ہیں کوئی کرپٹ افسران کا کچھ نہ بگاڑ سکے۔ ڈی جی تجاوزات کے پاس چار عہدے ہیں۔چیئرمین سی ڈی نے درخواست کی کہ ان معاملات کے لئے چھ ماہ درکار ہیں تاہم پی اے سی نے دوماہ میں مافیا بے نقاب کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ہے۔
نوید قمر نے کہا کہ جلد اصلاحات درکار ہیں نگران کمیٹی بنادیں ۔وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے سی ڈی اے میں ڈیپوٹیشن افسران کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اچھے برے افسران ہر ادارے میں موجود ہوتے ہیں۔ارکان نے حکومت سے ادھار پر ایک دوسرے اداروں میں افسران بھجوانے پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ رشوت کے بغیر کوئی سی ڈی اے جیسے اداروں میں اُدھارپر افسران نہیں آسکتے۔
آڈٹ پیرا کے مطابق سی ڈے اے نے2023میں بحریہ کو زون فائیو میں894 کینال زمین بغیربنک ضمانت کے الاٹ کردی بعد میں راولپنڈی انتظامیہ اس کی دعویدار بن گئی سپریم کورٹ کی ہدایت پر جیو میپنگ ہوئی ۔ جی ٹی روڈ سے منسلک اس اراضی کی اسلام آباد کی حدود میں نشاندہی ہوئی۔ عدالت نے 15سال بعد اس کا نوٹس لیا تھا پندرہ سالوں تک خلاف ضابطہ تعمیرات جاری رہیں.پنڈی انتظامیہ نے مداخلت کا نوٹس لیا ۔عدلیہ نے اسلام آباد کی حدود میں نشان دہی کی۔ چار لے اوٹ پلان تبادلہ اور ضمانت نہ دی گئی۔ پنڈی انتظامیہ نے ریکارڈ دینے سے انکار کردیا تھا ۔بنک گارنٹی اور سی ڈے اے کو پلاٹس دیے جانے تھے ۔بحریہ پیراڈائز کمرشل زون فائیومیں سکولز کالجز ہسپتال کے پلاٹس میں پچاس فی صد سی ڈی اے کو ملیں گے۔پی اے سی نے حقوق ملکیت کے ریکارڈ کے معائنہ کی ہدایت کی ہے


