اسلام آباد(محمداکرم عابد) سینیٹ خصوصی کمیٹی داخلہ نے مختلف کارخانوں کی1120ارب روپے کی ٹیکس چوری سگریٹ اسکینڈل کی تحقیقات تیزکردیں ۔چوری شدہ ٹیکس کی رقم اداروں کو بدنام کرنے کے لئے استعمال کی جارہی ہے۔ایف بی آرسمیت بعض حلقوں کی جانب سے تحقیقات رکوانے کے لئے کمیٹی پر اثرانداز ہونے کے انکشافات ہوئے ہیں۔
کنوئنیر کمیٹی نے اس معاملے پرسینیٹ سٹاف کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمیٹی کی کاروائی کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے واضح کیا ہے کہ انکوائری کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے قبائلی اضلاع کے تمام کارخانوں کے مالکان کے ناموں ٹیکس معافی کے ایس آراوزکا ریکارڈ طلب کرلیا گیا ہے ۔خفیہ غیر قانونی سگریٹ فیکٹری کی جانب سے چکری کے راستے اسلام آباد سگریٹ سمگل کرنے کے انکشافات ہوئے ہیں ملزمان کی گرفتاری پر گیارہ کو چھوڑ دیا گیا ۔کمیٹی کی طرف سے ریکارڈ فراہم نہ کرنے والی فیکٹریوں کی برآمدات پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کی گئی ہے ۔ وزیراعظم نے کمیٹی کی کاروائی کو نوٹس لیتے ہوئے ملوث افسران کو عہدوں سے ہٹانے کا سلسلہ شروع کردیا ہے ۔ مختلف حلقے سینیٹ کمیٹی کے درپے ہوگئے اجلاس پارلیمینٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔
سینیٹر ہدایت اللہ شاہ، سینیٹر دلاور خان،شریک ہوئے سینیٹر طلحہ محمودشریک نہ ہوئے۔ پشاور ٹیکس کسٹم علاقائی دفتر کی جانب سے خیبرپختونخوامیں کارخانوں کو1120ارب روپے ٹیکس چھوٹ کا ریکارڈ پیش نہ کرنے پر کمیٹی نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے اور کمشنر پشاور ٹیکس کو مزید مہلت دینے سے انکار کردیا ۔
کمیٹی نے تاریخوں کے مطابق ٹیکس استثنی کے لیٹرز پیش کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ کمیٹی نے حیرانگی کا اظہار کیا ہے کہ رینجرز،خفیہ ادارے کی کارخانوں کے باہر موجودگی کے باوجود غیر قانونی سگریٹ کے گیارہ ٹرک چکری اسلام آباد کیسے پہنچ گئے کمیٹی کو شبہ ہے کسی اور کارخانے کے برینڈ کواستعمال کرتے ہوئے یہ ٹرک چکوال سے چکری پہنچے تمام چاروں ٹول پلازوں کا وڈیو ز اور دستاویزی ریکارڈ طلب کرلیا گیا ہے ۔
کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ قبائلی اضلاع کے نام پر یہ کارخانے پنجاب کے شہروں میں ٹیکس چھوٹ کی سہولت لے رہے ہونگے ہرصورت تحقیقات مکمل کریں گے ۔سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ کمیٹی کاروائی کو رکوانے کے لئے بعض لوگوں کا سینیٹ سٹاف سے بھی تعلق ہے ۔ ایف بی آری کی جانب سے بھی کوشش کی گئی وزیراعظم آفس نے ہماری تحقیقات پر ایکشن لینا شروع کیا تیل کمپنیوں کی ٹیکس چوری بھی ہم نے پکڑی ۔ممبر کسٹم ایف بی آر نے بتایا کہ ملک کے تمام پٹرول پمپس کو ڈیجیٹل کیا جارہاہے ایران امریکہ جنگ کے دوران45ہزار لیٹر تیل غائب ہونے ٹینکرز پیمائش میں ناپ تول میں گڑبڑ کی اطلاعات وزیراعظم آفس کو بھی ملیں ۔ سبسڈی بھی خلاف ضابطہ لیتے رہے پی ڈی ایل بھی چوری ہوتا رہا.
اس حوالے سے کمیٹی نے ایف آئی اے کی فوری کاروائی پر حکام کو شاباش دی اور ابتدائی طور پر تیل کمپنیوں کی 23ارب روپے کی ٹیکس چوری پکڑی گئی ہے ۔ گونامی کمپنی سے پانچ ارب سے زائد کی ریکوری کرلی گئی ہے ۔مزید پانچ ارب اداکرنے کی یقین دہانی کروائی گئی ہے آٹھ افسران کے خلاف ایف آئی آر کی کاپی پیش کردی گئی ہے ۔ کمیٹی نے تمام آئل کمپنیوں کی تین سالہ ٹیکس ادائیگیوں ،پیدوار مقدار کراچی سے محمودآباد ترسیل سمیت تمام ڈیٹا طلب کرلیا ہے ۔ممبر کسٹم نے انکشاف کیا کہ وزیراعظم نے ملک کی تمام تیل کمپنیوں کے تین سالہ حسابات کی جانچ پڑتال کی ہدایت کردی ہے پہلا موقع ہے کہ ان کمپنیوں پر ہاتھ ڈالا گیا ہے ۔


