اسلام آباد(محمداکرم عابد) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے اسلام آباد کی ماڈل جیل میں سینما کی تعمیر کی سفارش کی ہے.
سینیٹ کی مکانات وتعمیرات کی مجلس قائمہ نے ماڈل جیل اسلام آباد کا ایک اوردورہ کیا، جیل احاطے میں کمیٹی کااجلاس ہوا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ جیل کی مجموعی لاگت 7،ارب39کروڑ روپے سے زائدہے، تعمیراتی کام کا تقریباً 97 فیصد حصہ مکمل ہو چکا ہے۔ ہسپتال اور کچن 24 گھنٹے کام کریں گے۔
کمیٹی نے منصوبے کی تکمیل میں طویل تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ یہ منصوبہ 2017 میں شروع کیا گیا تھا۔ پہلے مرحلے میں خواتین اور کم عمر قیدیوں کے لیے سہولیات شامل نہ کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا۔ 732 مرد قیدیوں کی گنجائش رکھی گئی ہے۔
چیئرمین کمیٹی سینیٹر ناصر محمود نے مجوزہ ٹائم فریم پرتفصیلی بریفنگ مانگ لی۔ قیدیوں کے لیے پیشہ ورانہ تربیتی پروگراموں میں موٹر مکینک، فریج کی مرمت، دستکاری اور دیگر مختلف ہنر شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ الگ حفاظتی دیوار پہلے ہی تعمیر کی جا چکی ہے ۔دورے کے دوران کمیٹی نے مختلف بلاکس کا معائنہ کیا اور جاری تعمیراتی کام اور سہولیات کی تنصیب کا جائزہ لیا۔
کمیٹی نے فائر الارم سسٹم میں فائر ہائیڈرنٹس اور اسپرنکلر سسٹم ابھی تک نصب نہ کرنے کا نوٹس لیا ہے ۔ تمام ضروری فائر سیفٹی آلات 15 دن کے اندر نصب کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
کمیٹی نے جیل میں تھیٹر یا منی سنیما تعمیر کرنے، بیت الخلا اور غسل خانے کی سہولیات کو بہتر بنانے، قیدیوں سے ملاقات کے مقامات پر حفاظتی جال نصب کرنے کی بھی تجویز دی ہے۔


