اسلام آباد(ای پی آئی) صدرِ پاکستان نے وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت کا ایک اور فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اپیل مسترد کردی ہے ۔
وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت کے ریجنل آفس کراچی نے ایک نجی کلینک کے خلاف دائر شکایت پر فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کو 500,000 روپے ہرجانہ ادا کرنے کا فیصلہ سنایا تھا ۔

شکایت گزار خاتون جو مذکورہ کلینک میں بطور ایستھیٹیشن اگست 2025 میں تقریباً تین ہفتے تک ملازمت انجام دیتی رہی تھیں، نے اپنی شکایت میں الزام عائد کیا کہ اسے مسلسل جسمانی تضحیک پر مبنی اور جنسی نوعیت کے ریمارکس کا سامنا کرنا پڑا، جس کی انتہا 27 اگست 2025 کو اس واقعے کی صورت میں ہوئی جب ملزم نے مبینہ طور پر پروسیجر روم کے اندر اس کا ہاتھ کھینچ کر اس کے گال پر بوسہ دیا۔ خاتون نے اسی روز شام کو ملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔

ملزم نے تمام الزامات کی سختی سے تردید کی اور موقف اپنایا کہ شکایت دراصل کلینک کے موبائل فون اور خفیہ مریض ڈیٹا سے متعلق تنازع کا ردعمل ہے۔

ریجنل آفس کراچی نے 06 مئی 2026 کو جاری کردہ اپنے فیصلے میں دستیاب شواہد بشمول متعلقہ واٹس ایپ گفتگو کا بغور جائزہ لیا اور شکایت گزار خاتون کی شہادت کو قابلِ اعتبار اور یکساں قرار دیا۔

فورم نے ہرجانے کی رقم کے علاوہ شکایت گزار خاتون کی بقایا تنخواہ کی فوری ادائیگی اور کلینک کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے اس کی تشہیری ویڈیو ہٹانے کا حکم بھی دیا۔ کلینک کو ہدایت کی گئی کہ وہ ایکٹ برائے تحفظ بمقابلہ ہراسانی بمقام کار کی دفعہ 3 کے تحت انکوائری کمیٹی کے قیام اور ضابطۂ اخلاق کی آویزاں کیے جانے سے متعلق تعمیل رپورٹ جمع کرائے۔

ملزم نے فیصلے کے خلاف صدرِ پاکستان کے روبرو اپیل دائر کی ۔ 18 اگست 2026 کو صدر مملکت کے سیکرٹریٹ نے اپیل مسترد کرتے ہوئے فورم کے فیصلے کو برقرار رکھا ۔

صدر پاکستان کا فوسپا کے جاری کردہ فیصلے کی حمایت حکومتِ پاکستان کے عزم کو ظاہر کرتی ہے کہ خواتین کے لیے محفوظ اور باوقار کام کے ماحول کو یقینی بنایا جائے اور ہراسانی کے واقعات پر فوری و مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائے۔