اسلام آباد(محمداکرم عابد) سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر سینیٹر راجہ ناصر عباس نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کر دیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں متحدہ اپوزیشن ساتھ نہیں دے گی، متحدہ اپوزیشن نے طے کیا ہے کہ غیر جمہوری قوتوں کو اپنے کندھے فراہم نہیں کیے جائیں گے، صوبائی تقسیم کی بات کرنے والے پارلیمنٹ کی توہین کر رہے ہیں، یہ پارلیمنٹ کا حق و اختیار کہ یہاں کسی بحث کا فیصلہ ہوتا وفاقی کابینہ ،پارلیمینٹ میں تو ایسا کوئی فیصلہ نہیں ہوا،لیکس والوں کوخبردارکرتے ہوئے کہا کہ یہ وقت کا انتظار کریں،آئین رونداجارہا ہے ،آرٹیکل سکس کا نفاذ ہو سکتا ہے۔

پارلیمینٹ ہاؤس میں اپنے چیمبر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبے غیرضروری گفتگو ہے ۔کچھ تھا تو بحث سینیٹ قومی اسمبلی میں ہونی چاہیے تھی۔ کل جماعتی پارلیمانی کانفرنس کی تجویز پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم تمام حکومت اپوزیشن جماعتوں کو اس میں مدعو کریں گے۔ اگرچہ حکومت کو یہ کانفرنس بلانا چاہیے، مشاورت کرنی چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کی سالمیت کو خودمختاری کو خطرات لاحق ہیں۔یہ بند گلی میں جا چکے ہیں،حکومت کو دیوار سے لگا دیا گیا ہے۔ سیاسی جماعتوں کوشہباز شریف حکومت کی وجہ سے ہورہا ہے واحدحل عام انتخابات ہیں ۔وفاقی وزراءنے اپوزیشن لیڈر ز سے ملاقات میں وعدہ کیا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر اورارکان کی تقرری کے لئے وزیراعظم خط کا جلد جواب دیں گے اب تک انتظار کررہے ہیں شاید پوچھ کر جواب دیں گے۔

ان سے جب یہ سوال کیا گیا کہ اگر پیپلز پارٹی وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لاتی ہے تو متحدہ اپوزیشن کا کیا ردعمل ہوگا؟ انہوں نے کہا متحدہ اپوزیشن عدم اعتماد کی تحریک میں کسی کا ساتھ نہیں دے گی۔ عمران خان کے معاملے پر سیاستدانوں نے اپنا نقصان کرتے ہوئے ساکھ کو داو پر لگا دیا تھا۔ اب ہم نے طے کیا ہے کوئی غیر جمہوری قوتوں کو اپنے کندھے فراہم نہیں کرے گا۔ اب توکشمیر کی بات کرنے کو جرم قراردیا جارہا ہے ۔کشمیر کی آواز بلند کرنے پر سابق سینیٹر مشتاق احمد خان جیل میں ہیں، یعنی کشمیر پر بات کرو تو جیل جاؤ۔ سیاسی جماعتوں کے درمیان انڈرسٹینڈنگ ہونی چاہیے یک نکاتی ایجنڈے پر کہ نئے صوبوں کی یہ جو بات کی جارہی ہے ملک کو تقسیم کرنے کی جو بات کی جارہی ہے اس پر حکومت اپوزیشن متحد ہو۔

اپوزیشن لیڈر سینیٹر راجہ ناصر عباس نے دعوت دے دی ہے۔ سہہ فریقی دفاعی معاہدے پر پارلیمنٹ کا فوری طور پر مشترکہ اجلاس بلایا جائے۔ نئے صوبوں کے بارے میں لیک کروائی جاتی ہے اور اس کے بعد ایک ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا جاتا ہے، یہ قومی معاملہ نہیں ہے ۔ نئے صوبے نہیں بن سکیں گے،غیرضروری طورپر الجھ رہے ہیں۔ نئے صوبے کوئی بات ہوتی تو پہلے پارلیمنٹ میں بحث ہوتی۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی وفاقی وزیر کے بیان کی کوئی اہمیت نہیں ہے پارلیمینٹ کو دھمکی دینے والے محسن نقوی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ہاں اگر آئین کو روندا جا رہا ہے توآرٹیکل سکس کا نفاذ ہو سکتا ہے اچھی بات یہ ہے کہ نئے صوبوں کے معاملے پر حکومت ان کے ساتھ نہیں ہے۔

انہوں نے ایک بار پھر حکومت کو پیشکش کی ہے نئے صوبوں کے معاملے پر مشاورت کے لیے کل جماعتی کانفرنس کی۔ تاہم خطرناک حالات میں صوبے کے بنانے کی باتیں پاکستان کی سالمیت کے خلاف ہیں۔سانحہ پمز پر متنازعہ پارلیمانی کمیٹی بنائی جارہی ہے حکومت کی اکثریت ہوگی مساوی نمائندگی ضروری ہے ۔ مریم نوازشریف کے صوبوں پر دہشت گردی کے الزامات کی مذمت کرتا ہوں وزیراعلی پنجاب اپنا بیان واپس لیں۔