لاہور(ای پی آئی) لاہور ہائیکورٹ نےبانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان کی نظر بندی کے خلاف درخواست ابتدائی سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے کیس کی سماعت 25 ستمبر تک ملتوی کردی ہے.
جسٹس عبہر گل خان علیمہ خان کے بیٹے نے شاہ ریز کی درخواست پر سماعت علیمہ خان کی جانب سے بیرسٹر تیمور اور عرفان کلار ایڈووکیٹ پیش ہوئے جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب محمد فرخ خان پیش ہوئے
جسٹس عبہر گل نےدرخواست گزار وکیل سے استفسار کہ کیاانہوں نے متعلقہ اتھارٹی سے رجوع کیا؟
وکیل درخواست گزاربیرسٹر تیمور کا کہنا تھا کہ ہمارا کیس دوسرے کیسز سے مختلف ہے تو جسٹس عبہر گل نے سوال کیا کہ آپکا کیس کیسے مختلف ہے بتائیں؟
ایک ہی تاریخ میں ڈی آئی سی ہوئی اسی تاریخ کو نظر بندی کا نوٹیفکیشن جاری ہوگیاایسا لگتا ہے پہلے گرفتار کیا گیا اور بعد میں نظر بندی کا نوٹیفکیشن جاری ہوجاتا ہے اس پر جسٹس عبہر گل نے کہاکہ عدالت اس کو دیکھ لیتی ہے ابھی فیصلہ محفوظ کررہی ہوں.
بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ وکیل رانا مدثر عمر کی استدعا پر علیمہ خان کی نظری بندی کے خلاف درخواست پر دوبارہ سماعت ہوئی تو وکیل رانا مدثر عمر نے کہا کہ
مجھے اس کے لیے تیاری کا تھوڑا وقت دے دیں جس پر عدالت نے کہاکہ ہم تو سننے کے لیے بیٹھیں ہیں اپ بتائیں کیا کہنا ہے ؟ علیمہ خان کے وکیل نے درخواست کی کہ
اس کیس کو کل کے لیے رکھ دیں میں اس نقطے پر دلائل دے دوں گاجس پر عدالت نے علیمہ خان کی نظر بندی کے خلاف درخواست پر کارروائی 25 ستمبر تک ملتوی کردی.
دوران سماعت جسٹس عبہر گل خان نے کہاکہ اس درخواست پر کارروائی تو ہوچکی ہے جسس پر وکیل رانا مدثر نے کہاکہ میں کچھ گزارشات عرض کرنا چاہتا ہوں ،ہمارا کیس مختلف ہے رپورٹ میں کہا کہ یہ نو مئی میں ملوث تھے رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ شائد یہ دوبارہ سڑک بلاک کریں گے جبکہ نو مئی کے مقدمے کی تفتیش میں علیمہ خان کو بے گناہ قرار دیاگیا .
وکیل رانا مدثر کا کہنا تھا کہ جب علیمہ خان بے گناہ قرار دی جا چکیں تو پھر نو مئی کو بنیاد بنا کر کیسے نظری بندی کی گئی جسٹس عبہر گل خان نے سوال کیا کہ یہ بتائیں کہ کیا علیمہ خان کی تمام مقدمات میں ضمانت منظور ہوچکی ہے ؟ وکیل نے جواب دیا کہ دو سے تین مقدمے رہتے ہیں جن میں ضمانت باقی رہتی ہے.
فاضل جج نے سوال کیا کہ میرا سوال یہ ہے کہ متعلقہ فورم سے رجوع کیے بغیر درخواست کیسے دائر ہوئی ؟ہائیکورٹ کے فل بینچ کا ارڈر ہے کہ پہلے متعلقہ فورم سے رجوع کیا جائے گا.کیا عدالت کے اس حکم کے خلاف سپریم کورٹ میں کچھ ہوا ہے.


