اسلام آباد(ای پی آئی) سپریم کورٹ کے جج جسٹس ملک شہزاد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ بڑے بڑے بندے جیل سے شکایات کررہے ہیں اب بڑے کی کوئی نہیں سن رہا تو اس کیس میں نامزد ملزم کس نے سننی ہے.جبکہ جسٹس شکیل احمد نے ریمارکس میں کہاہے کہ ملک میں گھریلو ناچاقی پر تشدد واقعات میں پہلے کی نسبت اب کچھ کمی آئی ہے.

جسٹس ملک شہزاد کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سپریم کورٹ میں بیوی کو قتل کرنے والے کی عمر قید کے خلاف اپیل کی سماعت کی ،سماعت کے آغاز پر ملزم کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ملزم کے خلاف براہ راست نہ شواہد ہیں نہ دستاویزات ہیں. جس پر جسٹس ملک شہزاد کا کہنا تھا کہ گھر کے اندر ہونے والے قتل کیس میں گواہ کہاں ہوتے ہیں اس کیس کی ایف آئی آر میں گھریلو ناچاقی کا لکھا ہوا ہے.

بینچ کے دوسرے رکن جسٹس شکیل احمد کا کہنا تھا کہ گھریلو ناچاقی کے کونسے ثبوت ہوتے ہیں ؟ ملک میں گھریلو ناچاقی کے 90 فیصد مقدمات تو رپورٹ ہی نہیں ہوتے جسٹس شکیل احمد نے ریمارکس میں کہاکہ بعض مقدمات میں فیملی دباؤ ہوتا یا پھر روایات پر بھی رپورٹ نہیں کیا جاتا گھریلو ناچاقی پر تشدد واقعات میں پہلے کی نسبت اب کچھ کمی آئی ہے.

اس دوران پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ملزم اگر بے قصور تھا تو جیل سے بھی درخواست دے سکتا تھا. جس پر جسٹس ملک شہزاد نے کہاکہ جب کوئی جیل چلا جائے تو پھر کون سنتا ہے بڑے بڑے بندے جیل سے شکایات کررہے ہیں اب بڑے کی کوئی نہیں سن رہا تو اسکی کس نے سننی ہے،

جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ اس کیس میں نامزد ملزم کی پستول میچ کرگئی ہے بہتر ہے ملزم کے وکیل مزید تیاری کریں.

عدالت نے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی