لاہور(ای پی آئی) پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما میاں جاوید لطیف نے حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کو افہام تفہیم کامشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب جلسے جلوسوں اور دھرنوں کی روایت ختم کرکے سب ایک دوسرے کو برداشت کرکے آئین قانون کے مطابق پاکستان کو حقیقی طور پر چلانے کیلئے آگے قدم بڑھائیں تاکہ ملک کی خیر خواہی ہو سکے کیونکہ پاکستان مزید کسی ایڈونچر کا متحمل نہیں ہو سکتا.

اپنے ٹویٹ میں میاں جاوید لطیف نے لکھا ہے کہ تحریک انصاف کے لانگ مارچ کا مقصد اگر عمران خان کو صحت کی سہولیات دلوانا یا پھر ملاقاتوں کی بحالی کیلئے دباؤ ڈالنا ہے تو حکومت وقت کو چاہیے کہ وہ اس لانگ مارچ کے نتیجے کو دیکھنے سے پہلے ہی اس آئینی اور بنیادی حقوق کے مطالبے کو پورا کر دے، اور اگر اس لانگ مارچ کے ذریعے کسی کے ذہن میں یہ بات ہے کہ اداروں پر اور عدالتوں پر دباؤ ڈال کر پھر سے ” گڈ ٹو سی یو” کہلوایا جائے تو میرا خیال ہے کہ اب نہ تو کوئی جنرل فیض حمید اور نہ ہی جنرل باجوہ نظر آتے ہیں، اگر کسی کے ذہن میں 9/10 مئی کی طرح کوئی سہولت کاری ہے تو وہ الگ بات ہے۔باقی ایک وفاقی وزیر کی طرف سے یہ کہا جانا کہ احتجاجی مارچ جلسے جلوسوں پر پابندی کیلئے کوئی قانون سازی کی جائے گی تو یہ سراسر غلط ہوگا، آئین سے کھلواڑ ہوگا،اور یہ ملک کے مفاد میں بھی نہیں ہوگا۔

دوسری طرف خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ اگر پولیس کو سیاسی مقاصد کیلئے دباؤ میں لا رہے ہیں تو یہ ان کے اپنے لیڈر کے ان الفاظ کی نفی ہوگی کہ ہم پولیس کو غیر سیاسی کرنا چاہتے اور اسے مثالی پولیس بنانا چاہتے ہیں ،حقیقت میں اس وقت بھی ایسا کچھ نہیں تھا جب وہ یہ بھاشن دیتے تھے۔ جبکہ دوسری طرف وہ کہتے تھے کہ ہم سب ایک پیج پر ہیں اور جب وہ ایک پیج پھٹا تو بہت سی چیزیں نظر آئیں۔

اب بات کچھ یوں ہے کہ ہر ایک نے اپنا سکور برابر کر لیا ہے وہ بھلے حکومت میں بیٹھا ہے اداروں میں بیٹھا ہے یا پھر اپوزیشن میں بیٹھا ہے۔یقیناً سب نے اسکور برابر کیا ہے بدلہ لے لیا ہے،اب آئندہ کیلئے کوئی قانون کا سہارا لے یا مسلح جتھوں کے ذریعے آنے والے وقت کی منصوبہ بندی کرے تو یہ قوم کے ساتھ سراسر مذاق ہوگا کھلواڑ ہوگا ملک اور قوم کے ساتھ زیادتی ہوگی۔

میں ایک پاکستانی ہونے کے ناطے سب سے گزارش کروں گا کہ اب یہ روایت ختم کرکے سب ایک دوسرے کو برداشت کرکے آئین قانون کے مطابق پاکستان کو حقیقی طور پر چلانے کیلئے آگے قدم بڑھائیں تاکہ ملک کی خیر خواہی ہو سکے کیونکہ پاکستان مزید کسی ایڈونچر کا متحمل نہیں ہو سکتا۔