اسلا م آباد(محمداکرم عابد)کراچی سے پشاور تک پاکستان کے اہم ترین ریلوے ٹریک ایم ایل ون کا سنگ بنیاد اسی سال رکھے جانے کی خوشخبری سنادی گئی ہے2.5ارب ڈالر سے زائدلاگت آئے گی یورپ مغرب کی طرزپر جدید ٹرینزچلیں گی۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی کو بریفنگ میں ریلوے حکام نے بتایا کہ منصوبے کا پی سی ون اور ڈیزائن تقریباً مکمل ہوچکا ہے، ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے منصوبہ مکمل ہوگا۔

ایم ایل ون منصوبہ ایک عرصے تک پاکستان اور چین کے درمیان سی پیک کے تحت زیرِ غور رہا، تاہم بعد میں یہ سی پیک کے منصوبوں میں شامل نہیں رہا۔

اب ایشیائی ترقیاتی بینک کے ذریعے اس منصوبے کو عملی شکل دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔منصوبے کے تحت کراچی سے پشاور تک تقریباً سترہ سو کلومیٹر ریلوے ٹریک کو جدید بنایا جائے گا، جبکہ ٹرین کی رفتار 160 کلومیٹر فی گھنٹہ تک لے جانے کا ہدف ہے۔

یہ منصوبہ صرف مسافروں کے لیے ہی اہم نہیں بلکہ پاکستان کے کارگو نظام کے لیے بھی انتہائی اہم قرار دیا جارہا ہے۔ کراچی سے پشاور تک جدید ریلوے نظام کے ذریعے مال برداری کا وقت اور اخراجات کم کیے جاسکتے ہیں۔

ریلوے حکام کے مطابق نئے اسٹیشنز اور جدید انفراسٹرکچر بھی منصوبے کا حصہ ہوں گے، جبکہ جدید ٹریک پر مختلف عالمی معیار کی کوچز چلانے کی گنجائش پیدا ہوگی۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے ریلوے حکام کو ہدایت کی ہے کہ منصوبے میں پہلے سے شامل اضلاع کو خارج نہ کیا جائے اور سنگ بنیاد کی تاریخ قریب آنے پر منصوبے کی مکمل رپورٹ کمیٹی کو پیش کی جائے۔تاہم پشاور سے طورخم تک ایم ایل ون کی توسیع کے حوالے سے ابھی تک صورتحال واضح نہیں ہے۔

ماضی میں پاکستان اور چین کے درمیان اس توسیع پر بھی مشاورت ہوتی رہی تھی، لیکن موجودہ منصوبے میں اس حصے کی شمولیت پر حکام نے ابھی کوئی واضح اعلان نہیں کیا۔

حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف بھی ایم ایل ون منصوبے کی پیش رفت کی نگرانی کر رہے ہیں۔اگر یہ منصوبہ مقررہ انداز میں آگے بڑھتا ہے تو کراچی سے پشاور تک پاکستان کا ریلوے سفر، مسافر ٹرین سروس اور کارگو نظام تینوں میں نمایاں تبدیلی آسکتی ہے۔

منصوبے کا پی سی ون اور ڈیزائن بڑی حد تک تیار ہے، ایم ایل ون کے تحت کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,700 کلومیٹر ریلوے ٹریک کو اپ گریڈ/تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے، جس پر تیز رفتار ٹرینیں چلائی جائیں گی۔ حکام کے مطابق رفتار 160 کلومیٹر فی گھنٹہ تک لے جانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ کراچی سے پشاور تک ملک کا ایک بڑا کارگو نیٹ ورک موجود ہے۔

جدید ریلوے انفراسٹرکچر بننے سے ملکی تجارت اور صنعت کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔تیز رفتار مسافر ٹرین، جدید اسٹیشنز، بہتر کارگو سہولت اور کراچی سے پشاور تک نسبتاً کم وقت میں سفر کی سہولت اس منصوبے کے اہم پہلو ہوں گے۔