اوکاڑہ(ای پی آئی)صوبہ پنجاب کے ضلع اوکاڑہ میں طلاق کے بعد سابق اہلیہ پر زنا اور ناجائز تعلقات کا الزام لگانامجرم محمد بوٹا کو اس وقت مہنگا پڑ گیا جب وہ عدالت میں اپنا الزام ثابت نہ کر سکا۔ اوکاڑہ میں جج رانا خلیل احمد خان کی عدالت نے شوہر کو قذف کے جرم میں مجرم قرار دیتے ہوئے 80 کوڑوں کی سزا سنادی۔

عدالتی فیصلے کے مطابق اوکاڑہ کی رہائشی صوفیا اسلم کی شادی فروری 2023 میں ہوئی تھی۔شادی کے چند ماہ بعدجب اسے پتہ چلا کہ اسکی اہلیہ حاملہ ہے اور وہ ایک بیٹی کو جنم دے گی تو اس نے بیوی کو گھر سے نکال دیا اور ۔بچی کی پیدائش والے دن زبانی طلاق دیدی چھ ماہ کے بعد جب خاتون صوفیا اسلم نے اپنی بیٹی کے اخراجات اور نان نفقہ کے حصول کے لیے عدالت سے رجوع کیاتوسابق شوہر نے عدالت میں اپنی سابق اہلیہ کے کردار پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بچی اس کی اولاد نہیں بلکہ مبینہ ناجائز تعلقات کا نتیجہ ہے۔

سابق شوہر اپنے عائد کردہ زنا کے الزام کے حق میں عدالت میں قابلِ قبول ثبوت پیش نہ کرسکا۔ اس کے بعد صوفیا اسلم نے اپنے خلاف لگائے گئے الزام پر قانونی کارروائی کے لیے قذف کی شکایت دائر کی۔ابتدائی طور پر ٹرائل کورٹ کی جانب سے شکایت ایک تکنیکی بنیاد پر خارج کردی گئی،

تاہم خاتون اور اس کے بھائی راناسرور نےہمت نہ ہاری اور وفاقی شرعی عدالت سے رجوع کیا۔

سال2025 میں وفاقی شرعی عدالت کے جج جسٹس اقبال حمید الرحمن نے اس واقعے کو قذف کا مقدمہ قراردیکر ٹرائل کورٹ کو دوبارہ مقدمے کی کارروائی آگے بڑھانے کی ہدایت کی ۔ بعد ازاں ٹرائل کے دوران شوہر اپنے سابقہ الزام کو ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

عدالتی کارروائی اور دستیاب شواہد کا جائزہ لینے کے بعد ٹرائل کورٹ نے 26اپریل 2026 کو فیصلہ سناتے ہوئےشوہر کو Offence of Qazf Ordinance, 1979 کے تحت قذف کے جرم میں مجرم قرار دیا اور اسے 80 کوڑوں کی سزا سنائی۔

فیصلہ سنائے جانے کے بعد ملزم عدالت سے فرار ہوگیا، جس کے بعد اس کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کئے گئے اور کچھ عرصہ بعد اسکو گرفتار کرلیا گیا جو اب اوکاڑہ کی جیل میں قید ہے۔

یاد رہے کہ اس سارے مقدمہ کولڑنے میں خاتون کے بھائی رانا سرور نے اس ادارے کو بتایا ہے کہ انہوں اس سنگین معاملے میں انہوں اپنی ہمشیرہ کا ساتھ دیا ان کا کہنا ہے کہ مجرم کو کیفرکردار تک پہنچانے میں کوئی کسرنہیں چھوڑیں گے تاکہ یہ کیس اس معاشرے میں خواتین کے ساتھ ہونے والی ایسی زیادتیوں کو روکنے میں معاون ثابت ہو۔