اسلام‌آباد(ای پی آئی) پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام‌آباد سمیت ملک کے بڑے شہروں میں بحریہ‌ ٹاؤن کے نام سے رہائشی منصوبے بنانے والے ملک ریاض کی جائیداد کی نیلامی کا اشتہار میں شائع ہوا تو سینئرصحافی و کالم نگار رؤف کلاسرا نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے ملک ریاض کو ملکی تاریخ کا حوالہ دے کر دلاسہ دیا ہے.

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اخبار میں شائع نیب کی طرف سے جائیداد نیلامی کا اشتہار شیئر کرکے رؤف کلاسرا نے لکھا ہے کہ کبھی ملک ریاض صاحب کو بھی لگتا تھا کہ اپن ہی بھگوان ہے۔ وقت سب کو روند کر گزر جاتا ہے۔ ایک دور تھا وہ نیب چیرمین بھی اپنی مرضی کا لگواتے تھے۔ بے تحاشہ دولت اور اندھی پاور بندے کو بھگوان بنا دیتی ہے۔
ملک صاحب کی سب سے بڑی غلطی پاور پالٹیکس کا حصہ بننا اور سول بیوروکریٹس،ملٹری اسٹیبشلمنٹ اور بڑے بڑے سیاستدانوں، جرنیلوں، میڈیا ہاوسز اور صحافیوں کو کھلانا پلانا تھا۔
لیکن ملک صاحب کہتے تھے ان سب پر خرچ نہیں کروں گا /فائلوں کو ٹائر نہیں لگائوں تو پاکستان میں بزنس کون کرنے دے گا۔ ؟ سب منہ کھولے ملک صاحب کے آگے بیٹھے ہوتے تھے کہ کچھ ہماری چونچ گیلی کرائو تو بے شک گنگا جمنا سندھ چناب سب کچھ لے لو۔

اب یہ ہوا ہے اس بزنس فلاسفی کا انجام۔۔

سب سیاستدانوں نے ان سے فائدے اٹھائے اور فائدے دیے اور سب اب ایک سائیڈ پر ہوگئے ہیں۔

ملک صاحب کو کیا ان سب طبقات کو کھلا پلا کر اگر آپ پر درجنوں مقدمات ہوں، بچوں سمیت اور جائیدادیں نیلام ہورہی ہوں۔

ہر مشہور/کامیاب بندے کے زوال کی وجہ اس کا کوئی نہ کوئی tragic flaw ہوتا ہے۔ ملک صاحب کا سیاسی گاڈفادر بننے کا شوق ان کے زوال کا ذمہ دار بنا ہے۔

ہمارے آج کے دور کے بھگوان اس اشتہار سے سبق نہیں سیکھیں گے۔ یہ نیب کا بحریہ ٹائون کی جائیدادیں بیچے کا اشتہار ہے۔ یہ کریڈٹ دیں کہ ملک ریاض نے اس ملک میں جدید ہاوسنگ کلچر معتارف کرایا۔ ہزاروں لاکھوں نوکریاں پیدا کیں، بے شمار خاندانوں کا روزگار اس سے وابستہ ہے۔
ملک ریاض کے خلاف قانونی کاروائی کرنی ہے کریں لیکن اس طرح کی نیلامی کوئی اچھا تاثر نہیں چھوڑے گی جس کی پرواہ خیر سے اس ملک میں کسی کو نہیں ہے۔

سینئر صحافی رؤف کلاسر ملک ریاض کو دلاسہ دیتے ہوئے اپنی دوسری ٹویٹ میں لکھتے ہیں کہ ملک صاحب کو دل چھوٹا نہیں کرنا چاہیے کبھی نیب نے اسحاق ڈار صاحب کو مفرور ڈیکلئر کر کے ان کے لاہور گھر کی نیلامی کا اشتہار بھی دیا تھا۔
آج وہی ڈار صاحب پاکستان کی خارجہ پالیسی کے سیاہ سفید کے مالک ہیں اور ڈپٹی وزیراعظم بھی۔
دلچسپ اتفاق دیکھیں، ہنسیں یا روئیں نیب نے جس جس کو بھی کرپشن الزمات پر قید کیا، ان کی جائیداد نیلام کیں وہ ملک کا صدر، وزیراعظم، وزیراعلی ہی بنا۔۔ اس سے کم تو ترقی نہیں ہوتی۔ نیب نے ان سب کے جرمانے اور جائیدادیں بھی واپس کیں۔