اسلام آباد: انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین کی عدالت میں ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ایڈووکیٹ ہادی علی چٹھہ کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی، جہاں تفتیشی افسر کے ریکارڈ سمیت عدالت میں پیش نہ ہونے پر جج نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔
سماعت کے دوران تفتیشی افسر فخر عباس کی عدم موجودگی پر عدالت نے ڈی ایس پی لیگل کو ریکارڈ سمیت فوری طلب کیا۔ بعد ازاں ڈی ایس پی لیگل کی جانب سے بتایا گیا کہ تفتیشی افسر گلگت بلتستان میں موجود ہیں اور ان سے رابطہ بھی نہیں ہو پا رہا۔
ڈی ایس پی لیگل نے تفتیشی افسر کے گلگت بلتستان میں ہونے سے متعلق ایک سرٹیفیکیٹ عدالت میں پیش کیا، جس پر جج ابو الحسنات نے اسے وکیل ریاست علی آزاد کو دکھاتے ہوئے کہا کہ اگر یہ سرٹیفیکیٹ غلط ثابت ہوا تو وہ ذمہ داروں کو نہیں چھوڑیں گے۔
جج ابو الحسنات نے ریمارکس دیے کہ لوگوں کی آزادی کا مسئلہ ہے، لوگ ذلیل ہو رہے ہیں اور پھر عدالتوں پر الزام لگایا جاتا ہے۔ انہوں نے ڈی ایس پی لیگل اور تفتیشی افسر کو جیل بھیجنے تک کی وارننگ دی اور کہا کہ وہ ایس ایس پی کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔
عدالت نے تفتیشی افسر کی غیر حاضری اور ریکارڈ پیش نہ کیے جانے پر سخت کارروائی کی تنبیہ کرتے ہوئے عدالتی سیکیورٹی انچارج کو بھی طلب کرلیا۔ اس دوران عدالت نے عدالتی عملے کو ہتھکڑیوں کا بندوبست کرنے کی ہدایت بھی کی۔
سماعت کے دوران وکلا نے عدالت کو آگاہ کیا کہ جب استغاثہ کو نوٹس جاری ہو چکا ہو تو ریکارڈ پیش نہ ہونے کی صورت میں بھی عدالت ضمانت کی درخواست پر فیصلہ سنا سکتی ہے۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی جانب سے ایڈووکیٹ ریاست علی آزاد عدالت میں پیش ہوئے۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ تفتیشی افسر غیر حاضر ہو اور ملزم جیل میں پڑا رہے، عدالت کو ایک آلہ بنا کر استعمال کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ اس وقت ایک کیس میں گرفتار ہیں، جبکہ سپریم کورٹ کی جانب سے پیکا کیس میں دی گئی سزائیں معطل کیے جانے کے بعد انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم بھی دیا جا چکا ہے۔
بعد ازاں انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج ابو الحسنات نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
ایک صحافی نے جج ابو الحسنات سے سوال کیا کہ "ہتھکڑیوں والی خبر چلا دیں؟” جس پر جج نے جواب دیا: "جی بالکل، آپ کو کبھی ہم نے روکا ہے کسی خبر سے؟”
ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ تقریباً آدھے گھنٹے میں سنایا جائے گا۔


