اسلام آباد: سپریم کورٹ نے اپنے پانچ سالہ بچے کو قتل کرنے کے الزام میں ملزمہ انیقہ کو عدم شواہد پر بری کردیا۔وکیل پرنس ریحان نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمہ کے خلاف بچے کو جلا کر مارنے کا الزام ہے، تاہم ملزمہ کے خلاف کوئی بھی ٹھوس شواہد نہیں۔وکیل ملزمہ نے عدالت کو بتایا کہ نہ پٹرول اور نہ ہی کچھ اور برآمدگی ہوئی، جبکہ ملزمہ کے خلاف کوئی براہِ راست گواہ بھی موجود نہیں۔سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمہ کا اپنا ویڈیو بیان موجود ہے۔ ملزمہ نے ایک ٹی وی شو میں بچے کو قتل کرنے کا اعتراف بھی کیا ہے۔

جسٹس شکیل احمد نے ریمارکس دیے کہ صرف ٹی وی پروگرامز قابل قبول شواہد نہیں۔ ٹی وی پروگرام کے ساتھ دیگر شواہد بھی ہونے چاہیے۔جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ تفتیشی افسر نے اس مقدمہ میں اپنی ذمہ داری کو پورا نہیں کیا۔جسٹس ملک شہزاد نے ریمارکس دیے کہ گواہیاں میڈیکل رپورٹ سے متضاد ہیں۔جسٹس ملک شہزاد کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔ملزمہ انیقہ پر اپنے پانچ سالہ بچے کو قتل کرنے کا الزام تھا۔ ملزمہ کے خلاف اسلام آباد کے تھانہ سہالہ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔