لندن: برطانوی مہم جو کارل بشبی نے دنیا کا چکر پیدل مکمل کرنے کی اپنی غیر معمولی مہم کے دوران 28 سال بعد برطانوی سرزمین پر قدم رکھ دیا۔ تقریباً تین دہائیوں پر محیط اس طویل سفر میں انہوں نے جہاز، ٹرین یا گاڑی کے بجائے اپنے قدموں پر بھروسا کیا اور اب اپنی منزل سے چند سو کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔رپورٹ کے مطابق 57 سالہ کارل بشبی، جو سابق پیراٹروپر بھی ہیں، نے 1998 میں چلی سے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا۔ ان کا مقصد دنیا کا چکر پیدل مکمل کرنا تھا، جس کے لیے انہوں نے دو سخت اصول طے کیے تھے: سفر کے دوران کسی قسم کی ٹرانسپورٹ استعمال نہیں کریں گے اور مہم مکمل ہونے تک گھر واپس نہیں جائیں گے۔تقریباً 28 سال کے دوران کارل بشبی نے 29 ممالک سے گزرتے ہوئے لگ بھگ 50 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔ تاہم یہ سفر محض جسمانی مشقت تک محدود نہیں رہا بلکہ انہیں جنگ زدہ علاقوں، ویزا پابندیوں، مالی مشکلات، کورونا وبا کے باعث عائد پابندیوں اور دشوار گزار جغرافیائی راستوں سمیت متعدد چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔
کارل بشبی کی مہم کے مشکل ترین مراحل میں ڈیرین گیپ جیسے خطرناک علاقے کو عبور کرنا بھی شامل تھا۔ وہ بیرنگ آبنائے کو مشرق سے مغرب کی جانب پیدل عبور کرنے والے پہلے شخص بھی بنے۔ اس کے علاوہ انہوں نے بحیرہ کیسپین میں تقریباً 184میل تیراکی کرکے اپنے سفر کے ایک اور غیر معمولی مرحلے کو مکمل کیا۔اب 28 سال بعد برطانیہ واپسی ان کی طویل مہم میں ایک اہم سنگ میل بن گئی ہے۔ انگلش چینل تیر کر ڈوور پہنچنے کے بعد بھی ان کا سفر ختم نہیں ہوا، کیونکہ انہیں اپنی والدہ کے گھر ہل (Hull) پہنچنے کے لیے مزید تقریباً 400 کلومیٹر پیدل چلنا ہے۔برطانوی سرزمین پر قدم رکھتے ہوئے کارل بشبی نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اتنے برسوں بعد برطانیہ کی زمین کو اپنے قدموں تلے محسوس کرنا بہت اچھا لگ رہا ہے۔
سفر کے دوران وہ اپنا تمام سامان ایک ریڑھی میں رکھ کر دھکیلتے ہیں، جسے انہوں نے ’دا بیسٹ‘ کا نام دیا ہے۔ان مواقعے پر وہ اپنا سفر روک دیتے تھے اور خاص طور پر میکسیکو میں رہتے تھے۔ حالات بہتر ہونے کے بعد وہ اسی جگہ سے دوبارہ سفر شروع کرتے جہاں اسے روکا تھا۔انگلینڈ کے قریب پہنچ کر بشبی کو اپنے سفر کے ابتدائی دن یاد آتے ہیں، جب انہوں نے اینڈیز کے پہاڑوں میں پیدل سفر کیا اور کولمبیا اور پاناما کے درمیان دشوار جنگل ڈیرین عبور کیا۔انہوں نے کہا: ’پھر آہستہ آہستہ یہ سفر ایک کام بن جاتا ہے۔ عمر بڑھتی جاتی ہے اور سفر مشکل ہوتا جاتا ہے۔‘کارل بشبی کی زندگی اور سفر پر ایک دستاویزی فلم تیار ہو رہی ہے۔ سفر مکمل ہونے کے بعد وہ اس فلم پر کام کرنے اور اپنے تجربات کے بارے میں تقریریں کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’مجھے دوبارہ عام زندگی میں اپنی جگہ بنانی ہوگی کیوں کہ جب میں گھر پہنچوں گا تو میرے پاس کچھ بھی نہیں ہوگا۔‘لیکن پہلے انہیں انگلش چینل عبور کرنا ہے۔ مشکل کے باوجود وہ پرامید ہیں۔
انہوں نے کہا: ’میرا خیال ہے کہ ہم کوئی راستہ نکال لیں گے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو میں باقی زندگی فرانس میں ہی رہوں گا!‘کارل بشبی کی یہ مہم غیر معمولی عزم، مستقل مزاجی اور انسانی حوصلے کی مثال بن گئی ہے۔ جس سفر کا آغاز انہوں نے 1998 میں کیا تھا، اس کا اختتام اب اپنے آبائی گھر کی دہلیز پر ہونے جا رہا ہے۔ تقریباً تین دہائیوں کی جدوجہد کے بعد ان کی منزل اب صرف چند سو کلومیٹر دور ہے، اور یہی طویل مہم کا سب سے جذباتی مرحلہ ثابت ہو سکتا ہے۔


