اسلام آباد(ای پی آئی) اڈیالہ جیل میں قید وکلا ایمان مزاری اور انکے شوہرہادی علی چٹھہ کے کیس کا ٹرائل انسدادِ دھشت گردی عدالت پانچ میں جج طاہر عباس سپرا نے جاری رکھا اس دوران عدالت میں آج ایڈوکیٹ ریاست علی آزاد پیش ہوئے، جج سپرا نے ٹرائل کی سماعت پرسوں تک ملتوی کر دی اور اڈیالہ جیل سپرینٹنڈنٹ کو ایمان اور ھادی سے تین وکلا کی ملاقات کا حکم دے دیا۔

سماعت کا احوال
انسدادِ دہشت گردی کیس ٹرائل میں رکن قومی اسمبلی علی وزیر کیخلاف مقدمے میں اڈیالہ جیل حکام نے لکھا انٹرنیٹ خراب ہونے کے باعث علی وزیر کو ۱۰ اکتوبر کو ویڈیو لنک پر پیش نہیں کیا جا سکا، جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ پھر اُسی تاریخ پر ایمان مزاری اور ھادی کو کیسے ویڈیو لنک پر پیش کر دیا گیا، جج سپرا نے جیل سپرینٹنڈنٹ کو ایک اور شو کاز نوٹس جاری کر دیا۔

ایک دوسرے کیس میں مطیع اللہ جان نامی ملزم کا نام پکارا گیا تو جج سپرا نے صحافی مطیع اللہ جان کیطرف سے دیکھ کر کہا کہ انگھوٹھے لگوائیں فردِ جرم پر جس پر صحافی نے کہا کہ یہ انکا کیس نہیں کسی اور کا ہے اور جج صاحب ویسے ہی خوش ہو رہے ہیں، اس پر جج سپرا نے کہا کہ او اچھا میں سمجھا یہ کیس بھی آپکا ہی ہے۔

ایڈوکیٹ ایمان مزاری اور ھادی علی چٹھہ کے کیس میں ایڈوکیٹ ریاست علی آزاد پیش ہوئے اور دو درخواستیں برائے التوا سماعت پیش کی، ایک وجہ یہ کہ عدالت کا حکم ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے جس پر ڈائری نمبر لگ گیا ہے، دوسرا حکم فردِ جرم والا بھی چیلنج کر رہے ہیں، جج سپرا نے کہا کہ ابھی کوئی سٹے آرڈر نہیں ملا اور بعد میں ہائی کورٹ کا آرڈر آ بھی جائے تو ساری سماعت از سرِ نو ہو جائیگی تو یہاں سماعت جاری رکھنے سے کیا فرق پڑتا ہے، ایڈوکیٹ ریاست نے دونوں درخواستوں پر دلائل شروع کر دئیے۔

ایڈوکیٹ ریاست آزاد نے کہا کہ ملزمان نے 10 اکتوبر کی سماعت میں بار بار شکایت کی تھی کہ وہ ویڈیو لنک پر عدالتی کاروائی سن ہی نہ پا رہے، اور یہ بھی کہ انکے وکیل کیساتھ انکو ملاقات اور وہ بھی علیحدگی میں ملاقات ہی نہیں کرنے دی جا رہی، ملزمان نے انکی ٹرائل میں شرکت کے بغیر گواہان کے بیانات قلمبند ہونے کے خلاف بھی عدالتی کاروائی کا حصہ بنے سے انکار کیا۔

اس دوران ویڈیو لنک پر اڈیالہ جیل سے ایمان مزاری اور ھادی علی چٹھہ کو پیش کیا گیا، کچھ دیر آواز میں خلل کے بعد جب رابطہ بحال ہوا تو ایڈوکیٹ ریاست نے ایڈوکیٹ مزاری کو اس وقت تک کی کاروائی کا مختصر خلاصہ بتایا کہ ہم ٹرائل میں مکمل شامل ہونا چاہتے ہیں مگر مجھے آپ سے ملاقات اور مشاورت کے بغیر ٹرائل آگے کیسے بڑ سکتا ہے، آپکے فردِ جرم پر بھی سائن نہیں تھے۔ جج سپرا نے ایڈوکیٹ ریاست علی آزاد سے کہا کہ جو باتیں آپ ایڈوکیٹ ایمان مزاری اور ہادی کو بتا رہے ہیں وہ تمام باتیں میں آپکے دلائل کے طور پر ریکارڈ پر لا رہا ہوں، جج سپرا نے کہا کہ آپکی بات درست ہے کہ جب تک ملاقات نہیں ہوتی آپ موکل کی ھدایات کے بغیر جائے وقوعہ پر واقعات بارے موقف نہیں اپنا سکتے۔

ایڈوکیٹ ریاست علی آزاد نے کہا کہ hurried justice is hurried justice جج سپرا نے کہا کہ جن وجوہات کی بنا پر آج آپ التوا مانگ رہے ہیں اُن وجوہات کیساتھ آپ نے ابھی ہائی کورٹ میں اپیل دائر بھی نہیں ہوئی تو پھر میں آپ اس بنیاد پر آج التوا کیسے مانگ سکتے ہیں، استغاثہ کے وکیل نے کہا کہ جب وکالت نامہ دستخط ہو رہا ہوتا ہے تو اُس وقت تمام ہدایات موکل سے مل جاتی ہیں، جج سپرا نے کہا کہ اصل شکایت ہی یہ ہے کہ وکیلوں کو اس کیس میں مشاورت کے لئیے ملنے ہی نہیں دیا گیا اور ایڈوکیٹ زینب کا اس حوالے سے حلفیہ بیان بھی جمع ہے۔