اسلام آباد(ای پی آئی) پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما خواجہ سعد رفیق نے سندھ کی تقسیم کیخلاف سندھ ترقی پسند پارٹی کی طرف سے حیدرآباد میں منعقدہ کانفرنس سے خطاب میں نظام میں موجود خامیوں‌ کو اجاگرکرتےہوئے صوبوں‌کی تقسیم کے معاملے میں جلدبازی میں پر سوالات اٹھائے ہیں.

رہنما مسلم لیگ نے کہا کہ میں وہ کچھ بھی کہیں گے وہ انکے ذاتی خیالات ہیں۔ چھوٹے صوبوں کے حوالے سے یا چھوٹے ایڈمنسٹریٹو یونٹس (انتظامی اکائیوں) کے حوالے سے مطالبات اور آوازیں ایک طویل عرصے سے سننے میں آ رہے ہیں، اور یہ آوازیں اور یہ مطالبات ملک کے مختلف حصوں سے اٹھتے رہے ہیں۔ لیکن کچھ عرصے سے ہم سب یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان میں شدت آ گئی ہے اور بعض حلقے اس کو ایک مہم بنا کے چلا رہے ہیں۔

خواجہ سعدد رفیق نے کہا کہ پاکستان میں یہ تاثر پیدا کیا گیا ہے کہ اگر چھوٹے ایڈمنسٹریٹو یونٹس بن گئے تو ہمارے سارے مسائل حل ہو جائیں گے اور لوگوں کے لیے بہت بڑی سہولت پیدا ہو گی۔ میں ذاتی طور پہ چھوٹے ایڈمنسٹریٹو یونٹس کا مخالف نہیں ہوں، لیکن ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس انتہائی حساس اور اہم معاملے پر کسی عجلت یا جلد بازی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ اگر ہم نے چھوٹے ایڈمنسٹریٹو یونٹس کی طرف جانا ہے تو اس سے پہلے ایک اتفاقِ رائے پیدا کرنا پڑے گا اور ایک ماحول پیدا کرنا ہو گا۔ یہ اتنا آسان کام نہیں ہے۔

خواجہ سعدد رفیق نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد مرکز کے اختیارات صوبوں کو چلے گئے، لیکن افسوس کہ صوبوں نے ان اختیارات کو ضلعوں تک منتقل نہیں کیا؛ جس کی وجہ سے یہ سارا عمل خراب ہوا اور اس کا آرڈر ڈسٹرب ہو گیا۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ سب سے پہلی ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں بااختیار بلدیاتی نظام لایا جائے، اور پراونشل فنانس کمیشن کو اتنی ہی اہمیت ملے جیسی کہ این ایف سی کو ہے، اور بلدیاتی اداروں کو آئینی تحفظ دیا جائے۔

انہوں نے کہاکہ ان بلدیاتی اداروں کو اپنے اضلاع میں تعلیم، صحت، اربن پلاننگ، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، واٹر سپلائی، ڈیویلپمنٹ سمیت وہ تمام محکمے ان کے سپرد کیے جائیں جن کا تعلق براہِ راست ایک عام آدمی کی زندگی کے ساتھ ہے، تاکہ لوگوں کو اپنے مسائل کے حل کے لیے بار بار صوبائی دارالحکومت کو اپروچ نہ کرنا پڑے۔ تو یہ سب سے پہلی، ہمارے خیال میں، شرط یہ ہونی چاہیے اور پہلا قدم یہ ہے کہ ہم لوکل باڈیز سسٹم کو بااختیار کریں اور کیپیسٹی بلڈ کریں ڈسٹرکٹ لیول پہ کہ لوگ اپنے مسائل کو خود حل کر سکیں۔

خواجہ سعد رفیق نے کہاکہ دوسری اہم بات یہ ہے کہ پاکستان میں، پاکستان کی اسمبلیاں اور سینیٹ اس طریقے سے ویل ریپریزنٹیڈ نہیں ہیں جو ہونے چاہئیں۔ یہ بھی میری ذاتی رائے ہے، مگر میں اس کا اظہار کھل کے کروں گا۔ خاص طور پہ جو نیشنلسٹ پارٹیز ہیں ان کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ سوچیں موجود ہیں، پولیٹیکل شیڈز موجود ہیں، لیکن ایک ایسا سرمایہ دارانہ جمہوریت کا نظام ہمیں دیا گیا ہے جس میں مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔

انہوں نے کہا میں سنجیدگی سے یہ سمجھتا ہوں کہ وقت آگیا ہے کہ ہم سب کو مل کے اس، یہ جو وفاقی پارلیمانی نظام ہے، اس میں متناسب نمائندگی کے پارٹ کو بھی شامل کروانا چاہیے، تاکہ آپ کی نمائندگی اور دوسری قوم پرست قوتوں کی نمائندگی بھی صوبائی اسمبلیوں میں، قومی اسمبلی میں اور سینیٹ میں ہو۔ اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ وہ سیاست جو سڑک پہ کی جاتی ہے وہ اسمبلیوں کے اندر آئے گی۔

انہوں نے کہاکہ آج صورتحال یہ ہے کہ وفاقی جماعتوں اور آپ(سندھ ترقی پسند پارٹی) کے درمیان مکالمے کے لیے کوئی پلیٹ فارم موجود نہیں ہے اور یہ کوئی اچھی صورتحال نہیں ہے، اور یہ پاکستان کے تقریباً سبھی صوبوں کے یہ حالات ہیں۔ پنجاب 1947ء میں بھی تقسیم ہوا، اب پھر پنجاب کی تقسیم کی باتیں ہو رہی ہیں۔ ہمیں اس تقسیم پہ اس صورت میں اعتراض نہیں ہے اگر اس کے پیچھے کوئی تعصب نہ ہو اور اس کے پیچھے صرف ایک بات ہو کہ ڈیویلپمنٹ کیسی ہو گی اور ایک عام آدمی کو فیسیلیٹیٹ کیسے کیا جائے گا۔

خواجہ سعدد رفیق نے کہا کہ لیکن ہم یہ چاہتے ہیں کہ یہ عمل پورے ملک میں مساوی ہو۔ اس میں کوئی جلد بازی نہ ہو اور اس پہ اچھی طرح سوچا جائے۔ اور اس کے لیے ایک ایسی پارلیمنٹ ہونی چاہیے جس کے وجود پر سوالیہ نشانات نہ ہوں، نہ وہ تنازعات کا شکار ہو۔ ایک ایسی پارلیمنٹ جس میں وفاقی جماعتوں کی نمائندگی بھی ہو اور نیشنلسٹ پارٹیز کی نمائندگی بھی ہو۔ اس پارلیمان کے پاس یہ اختیار ہو گا کہ وہ فیصلے کر سکے۔

خواجہ سعدد رفیق نے کہا کہ پاکستان کے موجودہ آئین میں، بھارتی آئین کے برعکس، صوبائی اسمبلیوں کے پاس اپنے صوبے کی حدود میں تبدیلی کا اختیار یا نئے یونٹس بنانے کا اختیار ہے، اس کے بغیر بات نہیں بنتی۔ بھارت میں 24 کروڑ کا صوبہ بھی ہے اور 24 لاکھ کا صوبہ بھی ہے، مگر بنگلہ دیش میں کوئی صوبہ نہیں ہے اور وہاں 8 ڈویژنز اور 64 اضلاع ہیں، اور ان دونوں ملکوں کی اکانومی کم از کم پاکستان سے بہتر ہے۔

خواجہ سعدد رفیق نے کہا کہ ہمارے پالیسی سازوں کو، ہمارے فیصلہ کرنے والوں کو، ڈیسیژن میکرز کو تمام حالات کا جائزہ لینا چاہیے اور میں اپنی بات کو سمیٹتے ہوئے یہ کہنا چاہوں گا کہ چھوٹے ایڈمنسٹریٹو یونٹس اچھی بات ہے لیکن امرت دھارا نہیں ہے۔ اور دوسری یہ ہے کہ کوئی ایسا اقدام نہیں اٹھانا چاہیے جس سے مزید پولیٹیکل کمپلیکیشنز پیدا ہوں۔ پہلے ہی پاکستان میں بدقسمتی سے سیاسی کشمکش بہت تیز ہے اور ملک کے دو صوبوں میں مسلح گروپس کے ساتھ باقاعدہ لڑائی لڑی جا رہی ہے

انہوں نے کہاکہ تو ایسے میں جو پُر امن ڈیموکریٹک فورسز ہیں، وہ اسمبلیوں میں ہیں یا اسمبلیوں سے باہر ہیں، ان سب کے ساتھ مکالمہ کیا جانا چاہیے، مشاورت کی جانی چاہیے اور جب تک ہم کوئی اتفاقِ رائے حاصل نہیں کرتے، کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا جانا چاہیے جس کے نتیجے میں انتشار پیدا ہو یا ہمارے بیچ خلیج پیدا ہو۔

خواجہ سعدد رفیق نے کہا کہ میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے مجھے اپنے خیالات کے اظہار کا موقع فراہم کیا، ان شاء اللہ ہم آپس میں بات کرتے رہیں گے اور مل کر پاکستان کو ایک جمہوری ملک بنانے کی کوشش کریں گے۔ بدقسمتی سے اس ملک میں آئین کو بار بار پامال کیا گیا ہے، اس ملک میں جمہوریت کو بار بار روندا گیا ہے اور اس میں سبھی نے حصہ ڈالا ہے اور سیاستدان بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے اس معاملے میں۔

خواجہ سعد رفیق نے کہاکہ وقت آگیا ہے کہ جمہوری سوچ رکھنے والے لوگ کسی بھی جماعت میں یا کسی بھی سیاسی فکر کے ساتھ موجود ہیں انہیں ہم آواز ہونا چاہیے اور پاکستان کے سلگتے ہوئے مسائل پہ بات کرنی چاہیے، اور خاص طور پہ ایک عام آدمی کی زندگی کو کیسے آسان بنایا جا سکتا ہے اور کیسے اسے اس استحصال سے اس کی جان چھڑائی جا سکتی ہے جس کا سامنا ہر قدم پہ ہے، ہمیں ہم آواز ہونا ہو گا۔

خواجہ سعدد رفیق نے کہا کہ اس موقع پر میں آپ کی خدمت میں یہ ضرور عرض کرنا چاہوں گا کہ آپ کا موقف بڑا واضح ہے اور آپ سندھ دھرتی کی کسی بھی طرح کی، کسی تقسیم کی حمایت نہیں کرتے، یہ آپ کا بنیادی حق ہے، یہ آپ کا موقف ہے۔ لیکن ہمیں اس وقت حیرت ضرور ہوتی ہے جب سندھ کی پولیٹیکل بیس رکھنے والی ایک وفاقی جماعت سندھ کے بارے میں تو کہتی ہے کہ اسے تقسیم نہیں کیا جا سکتا لیکن پنجاب کے ٹکڑے کرنے کی بات کرتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ دہرے معیارہیں، ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ ہر ایک کو اپنا موقف رکھنے کا حق ہے، ہر ایک کو اپنی دھرتی اور اپنی مدر لینڈ کو پروٹیکٹ کرنے کا حق ہے، لیکن آپ جب یہ کہیں کہ ہمارا صوبہ تو تقسیم نہیں ہو گا لیکن آپ کے صوبے کے ٹکڑے کیے جائیں تو یہ بات پھر پھبتی نہیں ہے۔