اسلام آباد: (ای پی آئی )، پاکستان اور جمہوریہ کوریا کی سپریم کورٹس کے درمیان عدالتی تعاون، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور عدالتی نظام میں اصلاحات کے حوالے سے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کر دیے گئے۔
چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کے دورۂ جنوبی کوریا کے دوران دونوں ممالک کے درمیان عدالتی روابط کو مزید مستحکم بنانے کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
معاہدے کے تحت پاکستان اور جنوبی کوریا کی سپریم کورٹس کے درمیان عدالتی وفود کے تبادلوں، ججز اور عدالتی عملے کی تربیت اور مشترکہ تحقیق کے شعبوں میں تعاون کیا جائے گا۔
مفاہمت کی یادداشت میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈیجیٹل انصاف کے شعبوں میں تعاون کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اسمارٹ عدالتوں کے قیام، سائبر سکیورٹی اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے عدالتی نظام کو مؤثر بنانے کے امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
دورے کے دوران چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کورین سپریم کورٹ کی ہم منصب جسٹس جو ہی دے سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے عدالتی نظاموں کے درمیان تعاون بڑھانے اور جدید عدالتی تجربات سے استفادے پر گفتگو ہوئی۔
چیف جسٹس پاکستان نے کورین سپریم کورٹ کے آئی ٹی سینٹر کا بھی دورہ کیا، جہاں انہیں عدالتی امور میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور ڈیجیٹل نظام کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔
دورے کا اہم مقصد پاکستان میں عدالتی اصلاحات کے عمل کو مؤثر بنانے کے لیے جنوبی کوریا کے تجربات اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنا ہے۔
اس حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز شاہد حسین کمبوہ کی جانب سے پریس ریلیز بھی جاری کر دی گئی ہے۔


