اسلام آباد(ای پی آئی) سپریم کورٹ نے رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کی مبینہ جعلی ڈگری کے معاملے میں فوجداری کارروائی سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے ان کی ضمانت میں 16 نومبر تک توسیع کردی، جبکہ معاملہ تین رکنی بینچ کی تشکیل کے لیے چیف جسٹس کو بھجوا دیا۔
جسٹس ملک شہزاد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
دورانِ سماعت جسٹس ملک شہزاد نے ریمارکس دیے کہ ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ کا فیصلہ ہے، اس معاملے کو تین رکنی بینچ سن سکتا ہے۔
جمشید دستی کے وکیل دل محمد علیزئی نے مؤقف اختیار کیا کہ ہائیکورٹ کا حتمی حکم نامہ جاری نہیں ہوا بلکہ عبوری حکمنامہ موجود ہے۔
اس پر جسٹس ملک شہزاد نے ریمارکس دیے کہ اگر آپ کے مطابق ہائیکورٹ کا حکم عبوری ہے تو پھر آپ کو ہائیکورٹ ہی جانا ہوگا۔ عدالت نے مزید کہا کہ ہائیکورٹ نے آپ کی درخواست مسترد کردی ہے۔
سماعت کے دوران جمشید دستی کے خلاف مختلف صوبوں میں درج مقدمات کی تفصیلات بھی عدالت میں پیش کی گئیں۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ آئی جی پنجاب کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق جمشید دستی کے خلاف پنجاب میں 6 مقدمات درج ہیں، جبکہ اسلام آباد میں ان کے خلاف 4 مقدمات درج ہیں۔
عدالت کو بتایا گیا کہ سندھ اور خیبر پختونخوا میں جمشید دستی کے خلاف کوئی مقدمہ ریکارڈ پر موجود نہیں۔
دوسری جانب ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے مقدمات کا ریکارڈ جمع کرانے کے لیے مہلت طلب کی، جس پر عدالت نے آئندہ سماعت سے قبل رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کردی۔
سپریم کورٹ نے جمشید دستی کی ضمانت میں 16 نومبر تک توسیع کرتے ہوئے تین رکنی بینچ کی تشکیل کے معاملے پر فائل چیف جسٹس کو بھجوا دی۔


