جنیوا (ای پی آئی)پاکستان نے اقوام متحدہ میں کم عمری کی شادیوں کی روک تھام، بچوں کے تحفظ اور خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کیلئے کئے گئےاقدامات پیش کئے ہیں۔ اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے اقتصادی، سماجی و ثقافتی حقوق کے اجلاس میں پاکستان کے حوالے سے جائزہ لیا گیا
وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے اقوام متحدہ کے جائزہ اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کی۔ وفاقی سیکرٹری برائے انسانی حقوق عبد الخالق شیخ اور ڈائریکٹر بین الاقوامی تعاون ڈاکٹر محمد عارف اور ٹرانسجینڈ ر رائٹس ایکسپرٹ نایاب علی بھی پاکستانی وفد میں شامل تھیں۔اجلاس میں پاکستان نے اقتصادی، سماجی اور ثقافتی حقوق کے فروغ کے لیے قانون سازی، پالیسی اقدامات اور ادارہ جاتی اصلاحات سے آگاہ کیا۔ پاکستانی وفد نے تعلیم، صحت، سماجی تحفظ، مزدوروں کے حقوق اور خواتین کو بااختیار بنانے کے اقدامات اجاگر کیے۔- پاکستان نے کم عمری کی شادیوں کی روک تھام، بچوں کے تحفظ اور خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے اقدامات پیش کیے۔- وزارتِ انسانی حقوق نے وفاقی و صوبائی اداروں کی مشاورت سے پاکستان کی رپورٹ کی تیاری میں مرکزی کردار ادا کیا۔ پاکستانی وفد نے اقوام متحدہ کی کمیٹی کے اراکین کے سوالات اور مشاہدات کے تفصیلی جوابات دیئے۔-اس موقع پر بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا تھاکہ پاکستان اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اداروں کے ساتھ تعمیری تعاون جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے- انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی ہم آہنگی اور مؤثر پالیسی اقدامات ناگزیر ہیں، ۔- پاکستان معاشرے کے کمزور اور پسماندہ طبقات کے حقوق کے تحفظ اور اقتصادی و سماجی ترقی کے لیے پُرعزم ہے پاکستان کمیٹی کی آئندہ سفارشات کا جائزہ لینے اور ان پر مناسب اقدامات کے لیے وفاقی و صوبائی سطح پر مشاورت جاری رکھے گا۔


