اسلام آباد(ای پی آئی)ملک بھر کے سینئر صحافیوں اور اینکرز پرسنز نے سینئر صحافی اور بول نیوزکے اینکر عمران ریاض خان کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ۔سوشل میڈیا پر سینئر صحافی اور جیونیوز کے اینکر حامد میر نے لکھا ہے کہ” میں نے اس وقت بھی بہت سے صحافیو ں کی گرفتاریوں کی مذمت کی تھی جب عمران خان اقتدار میں تھے اور آج بھی صحافیوں کی گرفتاری کی مذمت کرتا ہوں جب شہباز شریف اقتدار میں ہیں ۔صحافی عمران ریاض کی گرفتاری شرمناک ہے ”۔
I condemned arrest of many journalists when @ImranKhanPTI was in power. I condemn arrest of journalists when @CMShehbaz is in power. Latest arrest of Imran Riaz Khan is shameful. @RSF_inter @CPJAsia @FreedomofPress https://t.co/GIc9vnN1sr
— Hamid Mir (@HamidMirPAK) February 2, 2023
سینئر صحافی مظہر عباس نے عمران ریاض کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ” میں اس گرفتاری پر حیران ہوں کہ حکومت اور ریاست اس طرح کے اقدامات سے کیا حاصل کرنا چاہتی ہے ،اس طرح کی پالیسیاں ماضی میں غیر مفید رہی ہیں ماضی کی غلطیوں سے سیکھنا چاہیے انھیں دہرانا نہیں چاہیے”۔
I strongly condemned the arrest of journalist/anchor #ImranRiazKhan just wonder what government or the State would achieve with such actions. The policies of persecution and arrest historically proven counter productive. Time to learn from historic mistakes not to repeat it.
— Mazhar Abbas (@MazharAbbasGEO) February 2, 2023
سینیئر صحافی ارشاد بھٹی نے لکھا ہے کہ رات کے آخری پہر فواد چوہدری کو بغیر وارنٹ گھر سے اٹھانا ،آدھی رات کو بغیر وارنٹ کے پرویز الہی کے گھر ریڈ کرنا ،آدھی رات کو شیخ رشید کی گرفتاری ،ڈھلتی رات ق لیگ کے عامر سعید کو پکڑ لینا ،رات کے تیسرے پہر دوست عمران ریاض کی گرفتاری ۔ پیاری پی ڈی ایم جب دن چڑھے گا تو کالی راتوں کے کالے کرتوتوں کا کیا جواب دو گے ؟
رات کےآخری پہر فوادچوہدری کو بنِا وارنٹ گھرسےاٹھانا،آدھی رات کو بِنا وارنٹ پرویزالہٰی کےگھر ریڈ،آدھی رات کو شیخ رشیدکی گرفتاری،ڈھلتی رات ق لیگ کےعامرسعیدکو پکڑلینا،رات کےتیسرےپہر دوست عمران ریاض کی گرفتاری،پیاری پی ڈی ایم جب دن چڑھےگا تو کالی راتوں کےکالےکرتوتوں کا کیاجواب دو گے؟
— Irshad Bhatti (@IrshadBhatti336) February 2, 2023
سینئر صحافی شاہین صہبائی نے لکھا ہے کہ عمران ریاض پھر گرفتار ،جیسے حکومت اور گھبرائے گھبرائے ، سہولت کار صحافیوں اور لیڈروں کو پکڑ رہے ہیںان کی دماغی حالت پر شک ہوتا ہے مگر زیادہ افسوس میڈیا کے” پہلوانوں” پر ہوتا ہے جو ڈر یا لالچ کی وجہ سے خاموش ہیں اور ایک نیا بہادر چینل ” بول” پہاڑ کی طرح سب کے ساتھ کھڑا ہے۔” بول کی طرح جیو”
عمران ریاض پھرگرفتار: جیسے حکومت اور گھبراے گھبراے
سہولتکارصحافیوں اور لیڈروں کو پکڑ رہے ہیں انکی دماغی حالت پہ شک ہوتا ہے مگرزیادہ افسوس میڈیا کے بڑے پہلوانوں پہ ہوتا ہے جو ڈر یا لالچ کی وجہ سےخاموش ہیں اورایک نیا بہادرچینل 'بول' پہاڑکی طرح سب کے ساتھ کھڑا ہے – "بول کی طرح جیو"— SHAHEEN SEHBAI (@SSEHBAI1) February 2, 2023


