اسلام آباد(ای پی آئی)ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست پر فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے شیخ رشید کی درخواست ضمانت مسترد کر دی ہے، دوران سماعت مدعی مقدمہ کے وکیل نے استدعا کی کہ عمران خان کو بھی شامل تفتیش کر لیا جائے۔
سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست پر سماعت ایڈیشنل سیشن جج طاہر عباس سپرا نے کی، شیخ رشید کے وکلا سردار عبد الرازق اور انتظار پنجوتھہ عدالت میں پیش ہوئے جبکہ پراسیکیوٹر عدنان اور مدعی مقدمہ کے وکیل بھی عدالت میں پیش ہوئے۔شیخ رشید کو 2 فروری کو رات گئے گرفتار کیا گیا تھا، گزشتہ روز اسلام آباد کی مقامی عدالت نے انہیں ایک روزہ راہداری ریمانڈ پر مری پولیس کے حوالے کیا جب کہ اس سے ایک روز قبل ہی ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کی گئی تھی۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں ایڈیشنل سیشن جج طاہر عباس سپرا نے شیخ رشید کی درخواست ضمانت پر بعد از گرفتاری پر سماعت کی۔شیخ رشید کے وکلا سردار عبد الرازق، انتظار پنجوتھا ، پراسیکیوٹر عدنان اور مدعی مقدمہ کے وکیل عدالت میں پیش ہیں، شیخ رشید کے وکیل سردار عبد الرازق نے ضمانت کی درخواست پر دلائل دیتے ہوئے ایف آئی آئی کا متن پڑھا۔
انہوں نے کہا کہ شیخ رشید نے تیار کردہ سازش کے تحت بیان دیا، پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کے درمیان تصادم کروانا چاہتا ہے، ان الزامات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی، ایف آئی آر کے مطابق شیخ رشید نے تیار کردہ سازش کے تحت بیان دیا۔انہوں نے موقف اپنایا کہ ایف آئی آر کے مطابق شیخ رشید پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کے درمیان تصادم کروانا چاہتے ہیں، ان الزامات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی، ایف آئی آر سے قبل پولیس کی جانب سے نوٹس بھیجا گیا جس کا میڈیا کے ذریعے علم ہوا۔
شیخ رشید کے وکیل نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے نوٹس کو معطل کیا پھر بھی ایف آئی آر درج کی گئی، درخواست گزار نے کہا شیخ رشید نے جس سازش کا ذکر کیا ہے اس پر شیخ رشید سے تحقیقات کروائی جائے ، جو دفعات ایف آئی آر میں لگائی گئی وہ دفعات وفاقی یا صوبائی حکومت لگا سکتی ہے، کوئی شہری درج نہیں کروا سکتا۔
انہوں نے استدلال کیا کہ جن دفعات کے تحت مقدمہ درج ہوا یہ دفعات لگائی ہی نہیں جا سکتی، مذہبی گروپوں ،لسانی گروپوں یا کسی قومیت پر کوئی ایسا بیان نہیں دیا جس پر یہ دفعات لگ سکیں، شیخ رشید عمران خان سے ملاقات کر کے آئے اور انہوں نے عمران خان کے بیان کا ذکر کیا۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے بیان دیا ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی، آصف علی زرداری کی جان ب سے صرف ہتک عزت کا دعوی کیا گیا، شیخ رشید کے وکیل سردار عبد الرازق نے عدالت سے درخواست ضمانت منظور کرنے کی استدعا کی جس کے بعد ان کے انتظار پنجوتھا اپنے دلائل میں کہا کہ شیخ رشید نے کسی بھی گروپ کو نشانہ نہیں بنایا۔
انہوں نے موقف اپنایا کہ بینظیر بھٹو شہید نے بھی ایسابیان دیا اور بعد میں ان پر حملہ کردیاگیا، شیخ رشید نیکہاکہ عمران خان کی جان کو خطرے ہے۔دوران شیخ رشید کے وکلا انتظار پنجوتھا اور سردار عبدرازق نے درخواستِ ضمانت پر دلائل مکمل کرتے ہوئے پراسیکیوٹر عدنان نے شیخ رشید کی درخواست ضمانت پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے نوٹس معطل کیا، مقدمہ درج کرنے سے نہیں روکا، مقدمہ کے دوران تفتیش کرناقانون کے مطابق ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے روکابھی نہیں ہے۔
انہوں نے استدلال کیا کہ شیخ رشید کے وکلا نے کیس سے ملزم کو خارج کرنے کے مطابق دلائل دیے، اس دوران جج نے ریمارکس دیے کہ وکیلِ ملزم کی جانب سے کیس سے خارج کرنے کے مطابق دلائل دیے ہی جاتیہیں، آصف علی زرداری سابق صد رہے، پیپلز پارٹی کے سربراہ ہیں۔پراسیکیوٹر عدنان نے کہا کہ عمران خان سابق وزیراعظم ہیں، پی ٹی آئی کے سربراہ ہیں، عمران خان اور آصف علی زرداری دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنما ہیں، شیخ رشید کا بیان میں کہناکہ آصف علی زرداری عمران خان کو مروانا چاہتے ہیں کوئی چھوٹی بات نہیں۔
انہوں نے کہا کہ شیخ رشید کا بیان انتہائی اشتعال پھیلانے پر مبنی ہے، شیخ رشید نے کوئی عام جرم نہیں کیا، سزا سات سال تک ہے، ملک کی موجودہ صورتحال میں ایسا بیان دینا ملک میں اشتعال پھیلانا ہے، ایسے بیانات پر مبنی عالمی جنگ یوم کے دوران ایک شہزادے کا قتل ہوا۔پروسیکیوٹر عدنان نے کہا کہ شیخ رشید نے اپنیجرم کوکئی بار دہرایا، بار بار ایک ہی بیان دیا، اس دوران پراسیکیوٹر عدنان نے شیخ رشید کی درخواست ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے دلائل مکمل کرلیے۔جج نے پراسیکیوٹر سے مکالمہ کیا کہ دفعات کے مطابق شیخ رشید کے بیان کا اثر پوری قوم پر ہے, ایسا ہی ہے؟ جج نے ریمارکس دیے کہ آصف علی زرداری کہہ رہے ہیں کہ بیان شیخ رشید نے نہیں دیا، عمران خان نے دیا۔
جج نے ملزم کے وکیل سے استفسار کیا کہ پولیس نے شیخ رشید کو بلایا معلومات کے حوالے سے تفتیش کرنے کے لیے؟ وکیل سردار عبدرازق نے جواب دیا کہ انفارمیشن پولیس ریکارڈ میں موجود ہے جو شیخ رشید نے شئیر کردی۔جج نے وکیلِ ملزم سے استفسار کیاکہ ٹرانسکرپٹ میں کہاں لکھاہوا ہیکہ عمران خان نے شیخ رشید کو قتل کی سازش کے حوالے سے بتایا؟ جج نے ریمارکس دیے کہ شیخ رشید نے کہا کہ عمران خان سے میٹنگ ہوئی جس میں قتل کی سازش کے حوالے سے آگاہ کیاگیا، اس اسٹیج پر صرف پولیس ریکارڈ کے مطابق فیصلہ کرناہے۔
جج نے ریمارکس دیے کہ کیا شواہد تھیجس پر شیخ رشید نے بیان دیا؟ انہوں نے تو کہا شواہد موجود نہیں، وکیل سردار عبدرازق نے کہا کہ عمران خان نے جو کہا اس پر شیخ رشید یقین رکھتیہیں، ان پر قاتلانہ حملہ بھی ہوچکا، آصف علی زرداری پر الزام لگایاگیا ان پر مرتضی بھٹو سے لے کر بینظیر بھٹو کے قتل کی سازش کا الزام ہے۔وکیل سردار عبدرازق نے کہا کہ پولیس کو ان کے خلاف کاروائی کرنی چاہیے تھی جنہوں نے سازش کی، وکیل انتظار پنجوتھا نے کہا کہ شیخ رشید نے کہا جو عمران خان نے انہیں بتایا وہی انہوں نے بیان میں بولا، شیخ رشید کہتے ہیں عمران خان کا فالوور ہوں تو ان پر یقین رکھتاہوں۔
وکیل سردار عبدرازق نے کہا کہ عمران خان نے ٹویٹ کیا کہ دو بندے ہیں جن سے آصف علی زرداری نے مجھے قتل کرنے کے لیے رابطہ کیا، سیاسی بیانیاں پر مقدمات نہیں ہوتے، جھوٹے الزام لگانے والوں پر مقدمہ درج ہونا چاہیے، شیخ رشید پر صرف ہتک عزت کا مقدمہ درج ہوسکتاہے۔جج نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ شیخ رشید کی جس کے ساتھ میٹنگ ہوئی ان کو تفتیش میں شامل کیا ؟ کیا پولیس نے عمران خان کو تفتیش میں شامل کیا؟ تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ شیخ رشید نے کہا کہ ثبوت نہیں ہیں، اس لیے عمران خان کو شامل تفتیش نہیں کیا۔
جج نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ شیخ رشید نے تو کہاکہ عمران خان نے انہیں بتایاتو عمران خان کو شامل تفتیش کیوں نہیں کیا؟اس دوران مدعی کے وکیل کی جانب سے عمران خان کو شامل تفتیش کرنے کی استدعا کردی گئی، جج نے ریمارکس دیے کہ پولیس نے چالان بنا لیا ہے، عمران خان پر جھوٹے الزامات پر تفتیش ہوگی، عمران خان پر سازش کے لیے تفتیش نہیں بنتی۔
مدعی کے وکیل نے کہا کہ عمران خان اور شیخ رشید مل کر آصف علی زرداری کیخلاف سازش کررہے، بیرونِ ملک بھی ان بیانات کا اثر پڑ رہاہیکیونکہ سیاسی کارکنان سمندر پار بھی ہیں، سیاسی جماعتوں کے درمیان نفرت پیدا ہورہی ہے، شیخ رشید دونوں سیاسی جماعتوں کے درمیان اشتعال پیداکررہے، ضمانت منظور نہیں کرنی چاہیے۔مدعی وکیل نے مقف اپنایا کہ شیخ رشید ماضی میں وزیر رہ چکے، انہیں معلوم نہیں کہ ان کے الفاظ کا کیا اثر پڑ سکتا؟ شیخ رشید نے ٹیلیویژن پر بیٹھ کر مسخرہ پن اور اشتعال ہی پھیلایاہے۔
اس دوران مدعی وکیل کی جانب سے شیخ رشید کو مسخرہ کہنے پر شیخ رشید کے وکلا نے اعتراض اٹھایا۔فریقین کے دلائل سننے کے بعد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج طاہر عباس سپرا نے شیخ رشید کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری سماعت پر فیصلہ محفوظ کرلیا


