لاہور (عابدعلی آرائیں) لاہور ہائیکورٹ کے فاضل جج جسٹس جواد حسن نے پنجاب اسمبلی کے انتخابات کیلئے دائر درخواستوں پر تحریری حکم نامہ جاری کیا ہے جو 16صفحات اور 20پیراگراف پر مشتمل ہے.
یہ درخواستیں پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری اسد عمر، منیر احمد،زمان خان وردگ اور صابر رضاگل کی جانب سے دائر کی گئی تھیں جن میں الیکشن کمیشن ،گورنر پنجاب ، چیف سیکرٹری حکومت پنجاب،آئی جی پنجاب کوفریق بنایا گیا تھا ۔
ان درخواستوں پرکل چار سماعتیں ہوئیں ۔
پہلی سماعت 30جنوری،دوسری سماعت 3فروری،تیسری سماعت 9فروری اور آخری چوتھی سماعت 10فروری کو ہوئی
عدالت نے اپنے فیصلے کے ابتدائی پیراگرافس میں تمام درخواستوں میں دیئے گئے حقائق بتائے ہیں کہ چوہدری پرویز الہی نے 12جنوری 2023کو اسمبلی تحلیل کرنے کیلئے تجویز بھجوائی لیکن گورنر نے اس پر اسمبلی تحلیل نہیں کی تو قانون عمل پورا ہونے پر14جنوری کو خود بخود اسمبلی تحلیل ہوگئی۔ فیصلے میں فریقین کے دلائل،ان کے جوابات اور موقف کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے کی وجوہات کا آغاز کرتے ہوئے
فیصلے کے پیراگراف نمبر 12 میں لکھا ہے کہ ان رٹ پٹیشنز کا مرکزی قانونی نقطہ یہ تھا کہ کیا عدالت آئین کے آرٹیکل 199 کا دائرہ کار استعمال کرتے ہوئے فریقین کو انتخابات کی تاریخ جاری کرنے کا حکم دے سکتی ہے ؟
عدالت نے لکھا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ آئین پاکستان میں بالکل واضح ہے کہ اگر کوئی صوبائی اسمبلی آرٹیکل 105 آرٹیکل 112 اور آرٹیکل 224 کے تحت تحلیل ہوتی ہے تو 90 دن کے اندر انتخابات کرانا لازمی ہیں اسی طرح بطور سربراہ صوبہ گورنر پنجاب کی آئینی ذمہ داریاں بھی آئین میں بالکل واضح کی گئی ہیں آئین کے مطابق صدر پاکستان وزیراعظم کی ایڈوائس پر گورنر کی تعیناتی کرتے ہیں اور گورنر صدر پاکستان کی منشا کے مطابق دفتر سنبھالتا ہے آئین میں بتایا گیا ہے کہ گورنر اپنے امور وزیراعلی اور یا کابینہ کی ایڈوائس پر سرانجام دیتا ہے ۔
عدالت نے لکھا ہے کہ آئین کے آرٹیکل ایک سو ایک کے تحت گورنر بالکل اسی طرح صوبے کے سربراہ کے طور پر امور انجام دیتا ہے جیسے صدر پاکستان آئین پاکستان کے تحت ادا کرتا ہے لیکن آئین کے آرٹیکل 44 کے تحت صدر کی مدت پانچ سال ہے صدر بھی آئین کے آرٹیکل 41 کے تحت کابینہ کی ایڈوائس پر ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں لیکن گورنرآئین کے آرٹیکل 105 کے تحت اپنی ذمہ داریاں ادا کرتا ہے اور اس آرٹیکل 105 میں کہا گیا ہے کہ جب گورنر صوبائی اسمبلی تحلیل کرے گا تو پہلے عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے گا اور اس کے بعد نگران حکومت تشکیل دے گا۔
عدالت نے لکھا ہے کہ فریقین کے درمیان ہونے والی خط و کتابت (correspodennce) اور صدر کی طرف سے گورنر کو لکھا گیا خط اس بات کو بالکل عیاں کرتا ہے کہ انتخابات کاانعقاد لازمی ہے لیکن آئین کے آرٹیکل 224 کے اندر یہ واضح نہیں ہے کہ 90 دن کے اندر انتخابات کس نے کرانے ہیں۔ عدالت نے لکھا ہے کہ یہ بالکل واضح ہے کہ آئین کا آرٹیکل 224 چیف الیکشن کمیشن اور الیکشن کمیشن سے متعلق ہے آرٹیکل 224 کی ذیلی شق 2 انتخابات کے وقت سے متعلق ہے لیکن اس میں بھی یہ بات واضح نہیں ہے کہ کون سی اتھارٹی انتخابی قوانین اور انتخابات کے انعقاد سے متعلقہ ہے۔عدالت نے لکھا ہے کہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ آئین کا چیپٹر 2 انتخابات کے انعقاد کے معاملات کو ڈیل کرتا ہے۔
پیراگراف نمبر13
عدالت نے لکھا ہے کہ آئین کا آرٹیکل105 معاملے کے دو پہلوؤں کو ڈیل کرتا ہے
ایک پہلویہ کہ گورنر وزیراعلی کی ایڈوائس پراپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے اسمبلی تحلیل کرتا ہے
دوسرا پہلویہ ہے کہ گورنر وزیراعلی کی اسمبلی تحلیل کرنے کی تجویزپر گورنر اپنے ئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے اس معاملے کوروک لیتا ہے اور اسمبلی قانونی راستے کے مطابق تحلیل ہوجاتی ہے
عدالت نے لکھا ہے کہ پہلی صورت میں اگر گورنر اپنے ئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے اسمبلی تحلیل کرتا ہے تو آئین کے رٹیکل 105کے تحت گورنر اس بات کا پابند ہے کہ اسمبلی کی تحلیل کے دن سے90دن کے اندر انتخابات کی تاریخ مقرر کرے لیکن دوسری صورتحال میں آئین بالکل خاموش ہے کونسی اتھارٹی انتخابات کی تاریخ کا تعین کرے گی۔
پیراگراف 14
فیصلے میں عدالت نے لکھا ہے کہ دونوں فریقین میں سے کسی کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 224کی ذیلی شق دو کے تحت انتخابات کے 90دن کے اند رانعقاد کے خلاف بات نہیں کی گئی ۔ اس لئے اصل تنازعہ یہ ہے کہ کونسی اتھارٹی ان انتخابات کا اعلان کرے گی۔
اس تنازعہ کو حل کرنے کیلئے گورنر کی جانب سے یکم فروری2023 اور صدر کی جانب سے 8فروری2023کوالیکشن کمشنرکو لکھے گئے خطوط کا سہار الیتے ہیں ۔عدالت نے لکھا ہے کہ الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری، آئینی مینڈیٹ اور سکوپ کا جائزہ لینا ہوگا ۔
عدالت نے لکھا ہے کہ یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ گورنر نے پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈرکو یکم فروری کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں و فرائض ئین وقانون کے مطابق ادا کرینگے۔
پیراگراف نمبر15
عدالت نے فیصلے میں لکھا ہے کہ آئین کے آرٹیکل218کے مطابق الیکشن کمیشن قومی وصوبائی اسمبلیوں اور بلدیاتی انتخابات صاف شفاف اندازمیں کرانے کا پابند ہے اور وفاقی و صوبائی حکام الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کی معاونت کے پابند ہیں۔ الیکشن کمیشن کے یہ اختیارات سپریم کورٹ سمیت دیگر اعلی عدالتوں نے اپنے فیصلوں میں واضح کردیئے ہیں ۔ اس حوالے سے عدالت نے سپریم کورٹ کے پانچ فیصلوں طارق اقبال بنا م الیکشن کمیشن کیس ،ورکرز پارٹی بنام وفاق پاکستان، صدر عارف علوی کی جانب سے بھجوائے گئے صدارتی ریفرنس،شیخ رشید بنام حکومت پنجاب ایڈ منسٹریشن میونسپل کارپوریشن پشاوربنام تیمور حسین امین کیسزمیں دیئے گئے فیصلوں کا حوالہ بھی دیا ہے۔
پیراگراف نمبر16
عدالت نے فیصلے میں لکھا ہے کہ سپریم کورٹ نے قراردیا ہے کہ الیکشن کمیشن قانون کے مطابق انتخابات کے انعقاد کی حتمی اتھارٹی ہے اور یہ اتھارٹی صرف الیکشن کے انعقاد کے دن کے لئے نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے اور بعد کے تمام عمل کیلئے بھی الیکشن کمیشن کے پاس اختیارات موجود ہیں ۔ الیکشن پروگرام کا عمل انتخابات کی تاریخ دیئے جانے سے شروع ہوتا ہے ۔
پیراگراف نمبر17
پیراگراف نمبر18
ان دونوں پیرا گراف میں الیکشن کمیشن کے اختیارات سے متعلق عدالتی فیصلوں کے متعلقہ حصے شامل کئے گئے ہیں
پیراگراف نمبر19
عدالت نے لکھاہے کہ اگرچہ آئین کے آرٹیکل 224،آرٹیکل105اورآرٹیکل 112میں کسی مخصوص اتھارٹی کا ذکر نہیں کیا گیا لیکن اوپر ذکرکئے گئے تمام فیصلوں میں بنائے گئے قانون کی روشنی سے یہ واضح کے کہ اگر قانونی راستہ اختیارکرتے ہوئے کوئی اسمبلی تحلیل ہوجاتی ہے تو بطور اعلی،آزاد اور غیر جانبدار اتھارٹی الیکشن کمیشن پاکستان میں کسی بھی قسم کے انتخابات کے انعقاد کااختیار رکھتا ہے ۔
پیراگراف نمبر20
عدالت نے فیصلے میں لکھا ہے کہ الیکشن ایکٹ2017اور آئین کے آرٹیکل 219 آرٹیکل224اور220کی روشنی میں درخواستیں سماعت کیلئے منظور کی جاتی ہیں اور الیکشن کمیشن کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ آئینی مینڈیٹ کے مطابق فوری طور پرصوبے کے سربراہ گورنر سے مشاورت کرکے صوبہ پنجاب کی اسمبلی کیلئے90دن کے اندر انتخابات کے انعقادکیلئے انتخابات کی تاریخ کا نوٹیفکیشن جاری کرے ۔


