اسلام آباد(ای پی آئی)کامسیٹس یونیورسٹی میں غیر اخلاقی سوال کا معاملہ سامنے آ گیا،انگریزی کے پرچہ میں دو بہن بھائیوں میں غیر فطری تعلق کا سوال پوچھا گیا، غیر اخلاقی سوال سے طلبا میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی، بہن بھائی کے مقدس رشتے کے بارےمیں غلط سوال دئیے جانے پر ملک بھر شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے،
وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے فوری نوٹس لیتے ہو ئے انگلش کے لیکچرار کو یو نیورسٹی سے نکال دیا ہے ۔کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس کے پروگرام بی ای ای کے پہلے سمسٹر کے امتحان میں پوچھاگیا،نامناسب سوال انگلش کمپوزیشن کے پیپر میں طلبہ سے پوچھاگیا،نامناسب سوال پر طلبہ کو 300الفاظ پر مشتمل چار پیراگراف لکھنے کاکہاگیاہے،کامیسٹس یونیورسٹی انتظامیہ نے سارا ملبہ پیپر وزیٹنگ لیکچرار پر ڈال دیا، انچارج،کنٹرولر امتحانات، رجسٹرار اور ریکٹر جامعہ بری الزمہ قرار دیتے ہوئے جامعہ میں کام کرنے والے وزیٹنگ لیکچرار کو نوکری سے نکال دیا گیا،
یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ وزارت سائنس کے احکامات پر انکوائری کی گئی، انکوائری میں وزیٹنگ لیکچرار پرچہ میں سوال شامل کرنے کے ذمہ دار قرار پائے جس پروزیٹنگ لیکچرار خیر البشر کو نوکری سے فارغ کردیا گیاہے وزیٹنگ لیکچرار خیر البشر پر کامسیٹس میں آئندہ نوکری پر پابندی عائد کر دی گئی ہے ،ملک کی صف اول کی جامعہ کامسٹیس یونیورسٹی کے امتحان میں اسلامی اقدار کے برخلاف بہن بھائی کے مقدس رشتے بارے غلط سوال دئیے جانے پر ملک بھر شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے،کامسٹیس یونیورسٹی انتظامیہ نے کسی بھی ممکنہ ردعمل سے بچنے کے لئے سوال بنانے والے جز وقتی لیکچرار کو نوکری سے نکال کر بلیک لسٹ قرار دیدیا دوسری جانب وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے وزیر کے علم میں آنے پر انہوں نے ایکشن لینے کے لئے جامعہ کو مراسلہ لکھ دیا جس پر یونیورسٹی نے کمال مہارت کا ثبوت دیتے ہوئے کہا کہ ہم پہلے ہی اس پر ایکشن لے چکے ہیں ۔
کامسیٹس یو۔یورسٹی BEEکے پہلے سمسٹر میں کوئز سوال دیا گیا کہ جولی اور مارک بہن بھائی ہیں، وہ کالج سے گرمیوں کی چھٹیوں میں فرانس میں اکٹھے سفر کر رہے ہیں۔اور غیر فطری تعلق قائم کرتے ہیں لیکن انہوں نے فیصلہ کیا کہ یہ بات کسی اور کو نہیں بتانی اور ایسا پھر کبھی نہیں کرنا ۔ کوئز میں پوچھا۔گیا بتائیے کہ کیا دونوں نے جو کام کیا وہ درست تھا، اپنے جواب کے لیے مناسب دلائل بھی دیجیے اور اپنے مشاہدے کی حد تک کچھ مثالیں بھی دیجیے۔اور مضمون 300الفاظ پر مشتمل ہو۔جس پر طلبا و طالبات سراپا احتجاج بن گئے تو یونیورسٹی انتظامیہ نے پانچ جنوری کو جز وقتی لیکچرار خیر البشر کو فوری نوکری سے نکال کر بلیک لسٹ کر دیا جبکہ خیر البشر نے اپنے موقف میں یونیورسٹی کو بتایا کہ یہ سوال پی ایم اے کے نفسیاتی ٹیسٹ کی تیاری کے مواد سے نقل کیا گیا تھا اور کئی بار آئی ایس ایس بی میں آچکا ہے۔
دوسری جانب وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کو 19جنوری کو خیال آیاکہ اس پہ انکوائری کرائی جائے تو انہوں نے کامسٹس یونیورسٹی کو مراسلہ لکھ دیا تاکہ وہ اس معاملے پر خودبری الزمہ ہو۔جائیں 19جنوری کو لکھے گئے وزارتی مراسلے پر فوری ردعمل دینے کے بجائے یونیورسٹی نے دو فروری کو وزارت کو جواب دینا گوارہ کیا اور بتایا کہ ہم پہلے ہی اس پہ ایکشن لے چکے ہیں اور متعلقہ لیکچرار کو نوکری سے نکال کر بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے۔


