اسلام آباد ( ای پی آئی ) پاکستان بار کونسل سمیت چھ بار کونسلز نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر علی اکبرنقوی کے خلاف آڈیو لیکس پر ریفرنس دائر کرنے کا متفقہ فیصلہ کرلیا بار کونسلز نے حکومت سے جسٹس قاضی فائیز عیسی کے خلاف عدالت میں دائر کیوریٹو ریویو بھی واپس لینے کا مطالبہ کردیا ہے.

پاکستان بار کونسل کے وائس چیر مین ایڈوکیٹ ہارون رشید اور چیر مین ایگزیکٹو کمیٹی حسن رضا پاشا نے دیگر بار ایسوی ایشنز کے عہدیداران کے ہمراہ پریس کانفرنس کی جس میں چیرمین ایگزیکٹو کمیٹی حسن رضا پاشا نے کہا پاکستان بار کونسل کی زیر صدارت آج تمام بار کونسلز کا اجلاس ہو اجس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ تما م چھ بار ایسوسی ایشنز آڈیو لیک پر سپریم کورٹ کے جج کے خلاف ریفرنسز دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے . اس حوالے سے ہم نے پہلے ہی چیف جسٹس سے تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا لیکن اس پر کوئی کاروائی نہیں کی گئی اور نہ ہی رجسڑار سپریم کورٹ نے بار کو اس بارے میں آگاہ کیا انہوں نے مطالبہ کیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر درخواست حکومت واپس لے۔

انہوں نے کہا یہ بار کی منشاء اور عوامی امنگوں کے مطابق فیصلہ ہے ۔سینئر جج قاضی فائز عیسی کے خلاف درخواست صرف فاضل جج صاحب کو پریشر میں لانے کے لیے درخواست دائر ہوئی تھی۔

انہوں نے کہا اجلاس میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایک متفقہ طور لائر ایکٹ کا مسودہ وزیراعظم پاکستان کو بھیجوایا تھا متفقہ مطالبہ ہے لائر پروٹیکشن ایکٹ کو اسمبلی سے منظور کروا کر قانون بنایا جائے۔ اس وقت ملک میں وکلا کو کوئی تحفظ نہیں ہے۔ وکلاء کو ہر جگہ نشانہ بنایا جاتا ہے۔

حسن رضا پاشا نے مزید کہا آرٹیکل 184/3 پر سپریمْکورٹ کوئی فیصلہ کرتی ہے تو فیصلہ کے بعد اپیل کا حق دیا جائے۔ایسے فیصلوں سے عوام اور لوگوں کے حقوق متاثر ہوتے ہیں۔یہ مطالبہ بھی آج ہی حکومت وقت کے سامنے رکھیں گے انہوں نے مزید کہا رئٹائرڈ جنرل اور ججز کو دوبارہ نوکری پر نہ رکھا جائے ملک کی موجودہ معاشی حالت کو نظر میں رکھتے ہوئے ریٹائرڈ ججز اور جنرل کی بجائے حق داروں کو موقع دیا جائے÷

ایک سوال پر انہوں نے کہا آڈیو لیکس میں جن وکلا کے نام آئے ہیں انکے خلاف بھی کاروائی کی جائے گئی اس کے پہلے باقاعدہ نوٹس کے ذریعے ان وکلا کو بلا کر سنا جا ئے گا ایک سوال کے جواب میں چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی نے کہا 1997 میں اسطرح ایک واقع پیش آیا تھا جسٹس راشد عزیزسپریم کورٹ ، جسٹس ملک قیوم لاہور ہائیکورٹ کے جج تھے تو انہوں نے استعفی دے دیا تھا اس لئے ہم ہم توقع کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ جج مستعفی ہو جائینگے۔