لاہور(ای پی آئی)مسلم لیگ ن کے رہنما و وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ عمران اپنی ضمانت کرا رہے ہیں اور ساتھیوں کو جیل بھیج رہے ہیں، پرویز الہی صاحب اور عمران خان کو مبارک باد دیتے ہیں، پرویز الہی کو برے برے لقب بھی عمران خان نے دیے۔
یہ بات مسلم لیگ ن کے رہنما و وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے لاہور کی احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران پرویز الہی کے پاکستان تحریکِ انصاف میں شمولیت اختیار کرنے پر اپنے ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہی ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ عمران خان اپنی ضمانت کرا رہے ہیں اور ساتھیوں کو جیل بھیج رہے ہیں، جنہیں وہ گالیاں دیتے ہیں ضرورت پڑنے پر انہیں سینے سے لگاتے ہیں۔سعد رفیق نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی بیسیوں پیشیاں بھگت چکے ہیں، ایک پیشی میں ٹریفک میں پھنس گئے تو ان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری ہو گئے۔
ان کا کہنا ہے کہ آفتاب سطان ایک دیانت دار آدمی ہیں، سیاسی انتقام ختم ہونا چاہیے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ عمران خان کے ساتھ تو ابھی کچھ ہوا ہی نہیں، ہماری پوری جماعت کو جیلوں میں ڈالا گیا مگر ہم نے چیخیں نہیں ماریں۔مسلم لیگ ن کے رہنما نے کہا کہ کسی کو غلط پکڑے جانے کی حمایت نہیں کریں گے، تاہم سب سے پہلے لیڈر کو جیل جانا چاہیے۔ان کا مزید کہنا ہے کہ نواز شریف اس بھگوڑیکی طرح نہیں، لمبی جیل کاٹ کر گئے، ریاست کے خلاف کھیل کھیلنے والوں کے ساتھ قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔
مسلم لیگ ن کے رہنما و وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کا یہ بھی کہنا ہے کہ عمران خان پر کسی کا اعتبار نہیں، سب جانتے ہیں کہ انہیں جب موقع ملے گا یہ گند کریں گے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی کارکنان کا جیل جانا اچھا نہیں، میرے بس میں ہوتا تو کسی کو گرفتار نہ کرتا، یہ خود ہی تھک ہار کر واپس چلے جاتے، ذاتی طور پر سیاسی کارکنان کے جیل جانے کو اچھا نہیں سمجھتا۔ اخلاقی طور پر لیڈر کو پہلے جیل جانا چاہیے لیکن عمران خان اپنی ضمانتیں کروا رہے ہیں اور ساتھیوں کو جیل بھجوا رہے ہیں، جیل بھرو تحریک کے حوالے سے کیا حکمت عملی ہے میں نہیں جانتا، نگران حکومت بہتر جانتی ہے، کسی کو غلط پکڑنے کی حمایت نہیں کریں گے۔
قبل ازیں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ بہروپیے کیلئے صادق اور امین کے جھوٹے سرٹیفکیٹ اور نواز شریف کیلئے بلیک لا ڈکشنری ہے۔دوسری جانب احتساب عدالت لاہور نے خواجہ سعد رفیق کے خلاف پیراگون ہاوسنگ ریفرنس کی سماعت ملتوی کر دی۔دورانِ سماعت تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ چیئرمین نیب نے استعفی دے دیا ہے اس لیے آج رپورٹ پیش نہیں کر سکتے۔لاہور کی احتساب عدالت نے کیس کی سماعت 7 مارچ تک ملتوی کر دی۔


