اسلام آباد(ای پی آئی)اسلام آباد ہائی کورٹ نے پبلک اکانٹس کمیٹی میں طلبی کے خلاف نیب افسران کی جانب سے حکم امتناع کی درخواست مسترد کردی۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے طلبی کے خلاف نئی درخواست کو طیبہ گل کیس کے ساتھ یکجا کردیا اور پی اے سی کے دائرہ اختیار کے خلاف نئی درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کردیے۔دوران سماعت نیب کی جانب سے پراسیکیوٹر جہانزیب بھروانہ اور محمد رافع عدالت میں پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ پی اے سی نے 23فروری کو نیب حکام کو طلب کیا ہے۔

چیئرمین نیب، پراسیکیوٹر جنرل ،نیب کے پی سے موجودہ اور سابقہ تمام ڈی جیز کو طلب کیا گیا ہے جب کہ پی اے سی کا نوٹس دائرہ اختیار سے تجاوز اور رولز کی خلاف ورزی ہے۔جہانزیب بھروانہ نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے پبلک اکانٹس کمیٹی کا دائرہ اختیار چیلنج کیا ہے۔ متعلقہ ڈی جی خواہ پی اے سی جائیں مگر سب کو کیوں بلایا گیا؟۔ کل طلبی کے لیے جاری پی اے سی کے نوٹس زمعطل کیے جائیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ اس رِٹ کے اسکوپ سے زیادہ مانگ رہے ہیں۔ بعد ازاں عدالت نے پبلک اکانٹس کمیٹی کو نیب کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 8 مارچ تک ملتوی کردی۔واضح رہے کہ پبلک اکانٹس کمیٹی نے نیب حکام کو خیبر پختونخوا سے متعلق کیسز پر بلا رکھا ہے۔ پی اے سی نے بی آر ٹی پشاور، خیبر بینک، ہیلی کاپٹر کیس اور بلین ٹری سونامی پر بریفنگ طلب کر رکھی ہے۔