اسلام آباد(ای پی آئی) سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات کی تاریخ کے تعین کے حوالے سے از خود نوٹس کی سماعت کے دوران 9 رکنی لارجر بینچ کے ارکان کے درمیان اختلافات سامنے آگئے ہیں.
چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 9 رکنی بینچ نے ازخود نوٹس اور اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے دائر کی گئی درخواستوں کی سماعت کی۔ بینچ میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس اطہر من اللہ شامل تھے۔
سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس عمرعطابندیال نے کہا کہ عدالت نے تین معاملات کو سننا ہے، صدر پاکستان نے الیکشن کی تاریخ کا اعلان کیا، عدالت کے پاس وقت کم ہے، الیکشن کے حوالے سے وقت جا رہا ہے۔
دوران سماعت بییرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہم صدر پاکستان سے متعلق چیزیں ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں۔ وکیل علی ظفر نے کہا کہ ہماری درخواست زیر التوا ہے اسے بھی ساتھ سنا جائے۔
چیف جسٹس عمر عطابندیال نے ریمارکس دیے کہ سیکشن 57 کے تحت صدر مملکت نے انتخابات کا اعلان کیا،چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے سامنے 3 معاملات ہیں، دیکھنا ہے اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد الیکشن تاریخ دینے کا اختیار کس کو ہے، ہمارے سامنے ہائیکورٹ کا 10 فروری کا آرڈر تھا، ہمارے سامنے بہت سے عوامل تھے۔
اس دوران اٹارنی جنرل نے کیس کی تیاری کے لیے وقت دینے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ اتنے لوگوں کو نوٹس ہوگا تو کل کے لیے تیاری مشکل ہوپائے گی، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کل ہم صرف چند ضروری باتوں تک محدود رہیں گے،کیس کی تفصیلی سماعت پیر کو کریں گے، ہمارے سامنے بہت سے فیکٹرز تھے جن کی بنیاد پر از خود نوٹس لیا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ہائی کورٹ میں لمبی کارروائی چل رہی ہے، وقت گزرتا جار ہا ہے، اس موقع پر جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ از خود نوٹس پر تحفظات ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ از خود نوٹس بعد میں لیا، پہلے اسپیکرز کی درخواستیں دائر ہوئیں۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی بینچ میں تھے جس میں چیف الیکشن کمشنر کو بلایا گیا، چیف جسٹس نے کہا کہ بہت سی وجوہات تھیں جن کی وجہ سے ازخود نوٹس لیا گیا، آئین انتخابات کا وقت بتاتا ہے جو ختم ہورہا ہے، ہائی کورٹ کا فورم بایی پاس کیا جا سکتا ہے اگر ایمرجنسی ہو، سپریم کورٹ کے لیے آسان تھا کہ دو دائر درخواستیں مقرر کر دیتی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ سیکشن 57 انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے ہے، بہت سے نیے نکات آگیے ہیں جن کی تشریح ضروری ہے، سپریم کورٹ آئین کی خلاف ورزی برداشت نہیں کرے گی، انتہائی سنگین حالات ہوں تو انتخابات کا مزید وقت بڑھ سکتا ہے، ہم نے آئین کو دیکھنا ہے اس پر عمل درآمد ہورہا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے سامنے 2 درخواستیں تھیں اور سمپل تھا کہ وہ سنتے، ہم آئین پر عملدرآمد چاہتے ہیں ، سپریم کورٹ آٸین کی خلاف وزری کسی صورت برداشت نہیں کرے گا ، دورخواستیں ہیں وہ اب آ وٹ ڈیڈڈ ہوگئی ہیں ، اس پر وضاحت کی ضرورت ہے، 20فروری کو صدر کے انتخابات کی تاریخ کے اعلان کے بعد صورتحال بدل گئی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کچھ سوال دونو ں اسمبلی کے اسپیکرز نے اپنی درخواستوں میں شامل کیے ہیں، سپریم کورٹ نے صرف آئینی نکتہ دیکھنا ہے اور اس پر عملدرآمد کرانا ہے، انتحابات کا ایشو وضاحت طلب ہے۔ چیف جسٹس ہم اردارہ رکھتے ہیں اپ سب کو سنیں، ہم نے ائیندہ ہفتے کا شیڈول منسوخ کیا ہے، تاکہ یہ کیس چلا سکیں۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ میرے ازخود نوٹس سے متعلق کچھ تحفظات ہیں، یہ ہمارے سامنے دو اسمبلیوں کے اسپیکر درخواست ہیں، یہ ازخود نوٹس جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے نوٹ پر لیا گیا، اس کیس میں چیف الیکشن کمشنر کو بھی بلایا گیا ہے جو کہ فریق نہیں ہیں۔
دوران سماعت وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ازخود نوٹس میں اگر فیصلہ انتخابات کرانے کا آتا ہے تو سب کو ہو فائدہ ہوگا، جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ اگر عدالت فیصلہ دیتی ہے تو سب سیاسی جماعتیں فائدہ حاصل کرینگی، شعیب شاہی نے کہا کہ یہ ٹائم باونڈ کیس ہے اس میں انتخابات کرانے کا ایشو ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل 224 کہتا ہے 90 روز میں انتخابات ہونگے، وقت جلدی سے گزر رہا ہے، ہائیکورٹ میں معاملہ زیر التوا تھا مگر کوئی فیصلہ نہیں ہو پارہا تھا۔دوران سماعت جسٹس جمال جان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ چھ آڈیو سامنے آیی ہیں، جس میں عابد زبیری کچھ ججز کے حوالے سے بات کر رہے ہیں، ان حالات میں میری رائے میں یہ کیس 184(3) کا نہیں بنتا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب، خیبرپختونخواانتخابات میں تاخیر کیخلاف از خود نوٹس کی سماعت آج ہوگی
اس موقع پر جسٹس اطہر من االلہ نے کہا کہ ہم نے اس کیس میں آئنی شق پر بات کر رہے ہیں، پہلا سوال یہ ہوگا کہ اسمبلی آئین کے تحت تحلیل ہوئی یا نہیں، دوسرا سوال یہ ہے کہ اسمبلی کو بھی 184(3) میں دیکھنا چاہیے۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ میرے خیال میں تمام سیاسی جماعتوں کو سننا چاہیے، جمہوریت میں سیاسی جماعتیں حکومت بناتی ہیں۔
دوران سماعت وکیل نے کہا کہ سیاسی جماعتوں اور حکومت کو قانونی مؤقف دینا چاہیے، اس لیے بلایا جاسکتا ہے، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ یہ ایک اہم ایشو ہے ،اس کا مقصد ٹرانسپرنسی اور عدالتوں پر اعتماد کی بات ہے۔
وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ : ہائیکورٹ کا ریکارڈ منگوایا جائے ، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو بھی سنا جائے ، وکیل عابد زبیری نے کہا کہ صدر مملکت نے انتخابات کی تاریخ جاری کی ہے، آج ہم نوٹس کے علاؤہ کچھ نہیں کریں گے۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ جب اسپیکرز نے درخواست دی اس وقت صدر اور الیکشن کمیشن میں خط وکتابت شروع ہوئی، درخواستوں میں گورنرز کی جانب سےالیکشن اعلان نہ کرنے کو چیلنج کیا گیا۔
وکیل نے کہا کہ سیاسی جماعتوں اور حکومت کو قانونی مؤقف دینا چاہیے، اس لیے بلایا جاسکتا ہے، اس دوران سپریم کورٹ نے صدر پاکستان حکومت پاکستان الیکشن کمشن کو نوٹس جاری کردیا، سپریم کورٹ کی جانب سے گورنر پنجاب، گورنر خیبر پختونخوا اور چیف سیکریٹری کو بھی نوٹس جاری کردییے۔
عدالت نے کہا کہ صدر مملکت، گورنرز کے پرنسپل سیکریٹری ریکارڈ پیش کریں، عدالت نے پاکستان بار کونسل، صدر سپریم کورٹ بار سمیت چاروں صوبوں کے ایڈوکیٹ جنرل کو بھی نوٹس جاری کردیے، عدالت نے کہا کہ پی ڈی ایم پیپلز پارٹی کو نوٹس جاری عدالت کی معاونت کریں۔
جسٹس اطہر من االلہ نے کہا کہ کیا ہائی کورٹ بار کی درخواست کے لیے منظوری ہے، شیعب شاہین نے کہا کہ دس ایک سے قرارداد منظور کی ہے، الیکشن کا حکم کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں ہوگا، یہ درخواست کسی کے خلاف نہیں۔
بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ فریقین کو آنے دیں اور بتانے دیں کہ الیکشن چاہتے ہیں یا نہیں، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ یہاں ایشو ہے کہ اسمبلی کی تحلیل اور عام انتخابات کیسے ہوں گے، اسپیکر رولنگ از خود نوٹس کیس میں پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعتوں کو نوٹس کیا گیا تھا، موجودہ کیس اسپیکر رولنگ سے مختلف ہے۔
وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ ہائیکورٹ کا ریکارڈ منگوایا جائے ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو بھی سنا جائے، وکیل عابد زبیری نے کہا کہ صدر مملکت نے انتخابات کی تاریخ جاری کی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آج ہم نوٹس کے علاؤہ کچھ نہیں کریں گے، اس دوران عدالت عظمیٰ نے اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس کردیا۔اور کیس کی سماعت کل گیارہ بجے تک ملتوی کردی.


