وزیراعظم میاں شہباز شریف نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان پر ہونے والے حملے کی تحقیقات کے لیے بھی جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کے لئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو خط لکھا ہے
یہ خط دو صفات اور چار پیراگراف پر مشتمل ہے اس خط میں بھی پانچ سوالات اٹھائے گئے ہیں
وزیراعظم شہباز شریف نے خط میں کہا ہے کہ گزشتہ چند دنوں سے ملک میں امن و امان کی خطرناک صورتحال پیدا ہو چکی ہے وزیر آباد میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کی ریلی پر فائرنگ کا بدقسمت واقعہ پیش آیا اس واقعہ کے بعد تحریک انصاف کی قیادت کے بیانات سے ملک میں خوف کی فضا قائم ہو گئی ہے کیونکہ ان بیانات کے بعد پر تشدد مظاہرے شروع ہو گئے ہیں جن کی وجہ سے عام شہری کی زندگی کو خطرات لاحق ہوچکے ہیں ان واقعات کو ملکی اور عالمی سطح پر بڑے پیمانے پر میڈیا کوریج مل رہی ہے
پیراگراف نمبر دو
وزیراعظم نے کہا ہے کہ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ عمران خان پر حملے کو 72 گھنٹے سے زائد وقت گزر چکا ہے اور اس واقعے کی ایف آئی آر درج نہیں ہو سکی معذرت کے ساتھ پی ٹی آئی کی سربراہی میں چلنے والی پنجاب حکومت کے ماتحت قانون نافذ کرنے والے ادارے ایف آئی آر درج کرنے میں ناکام رہے ہیں ادارے اس طرح کی سنگین نوعیت کے واقعے کے بعد آئین و قانون میں دیئے گئے طریقہ کار پر عمل کرنے میں بھی ناکام رہے ہیں
وزیراعظم نے کہا ہے کہ یہ بدقسمتی ہے کہ کرائم سین کو محفوظ نہیں کیا گیا اور وہ کنٹینر جس پر پی ٹی آئی کی قیادت کو زخم آئے وہ ابھی تک فارنزک معائنہ کے لیے تحویل میں نہیں لیا گیا
شہباز شریف نے کہا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف کی کوئی میڈیکو لیگل رپورٹ بھی تیار نہیںکی گئی ہے عمران خان کو براہ راست کینسر کے نجی ریسرچ ہسپتال لے جایا گیا جو کہ ایک رجسٹرڈ میڈیکولیگل سینٹر نہیں ہے یہ بات بھی مزید نظر رکھی جائے کہ حکومت پنجاب اور اس کے حکام کی طرف سے انویسٹی گیشن کے طریقہ کار تو درست انداز میں نہیں اپنایا گیا اس طرح ان اقدامات کی وجہ سے موقع کے شواہد پر کمپرومائز کیا گیا ہے جس کو صوبائی تفتیشی ایجنسیوں ،قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی براہ راست ناکامی کہا جا سکتا ہے اور اس سے بدنیتی بھی ظاہر ہوتی ہے
وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت پہلے ہی صوبائی انتظامیہ کو خط لکھ چکی ہے جس میں اس معاملے کو درست انداز میں ہینڈل نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے وزیراعظم نے مزید لکھا ہے کہ عوامی تنصیبات پر اورنجی املاک پر بھی پنجاب اور خیبر پختونخوا حکومتوں کے ایما پر حملے کیے گئے ہیں ملک کے اداروں بالخصوص مسلح افواج کے خلاف تضحیک آمیز مہم شروع کی گئی ہے ، اداروں اور وفاقی حکومت کو سابق وزیراعظم کے خلاف واقعے کاملزم ٹھہرایا جارہا ہے
پیراگراف نمبر 3
وزیراعظم نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی یہ رائے ہے کہ زیر التوا کریمنل انوسٹی گیشن اور ریاست کے اداروں پر عوام کا اعتماد بحال کرنے اور صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے ضروری ہے کہ ایک غیر جانبدار باڈی سے اس واقعہ کی تحقیقات کرائی جائیں تاکہ حقائق کوسامنے لایا جاسکے، ملزمان کی نشاندہی کی جا سکے اور اس واقعے کے ذمہ داران کو سامنے لایا جاسکے وزیراعظم نے کہا ہے کہ اس طرح کے معاملات میں سپریم کورٹ پاکستان نے ہمیشہ ملک میں آئین اور کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے
وزیراعظم نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں عوامی تحفظ کو لاحق شدید خطرے کی وجہ سے قومی سلامتی کوبھی خطرات لاحق ہیں اس لیے حکومت پاکستان فاضل چیف جسٹس سے درخواست کرتی ہے کہ سپریم کورٹ کے تمام دستیاب فاضل ججز پر مشتمل ایک جوڈیشل کمیشن قائم کرے جو مندرجہ ذیل پانچ سوالوں کا جائزہ لے
سوال نمبر ایک
کونسی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں پاکستان تحریک انصاف کے کارواں کو سیکورٹی فراہم کرنے کی ذمہ داری تھیں؟ کیا کارواں کو سیکورٹی پروٹوکولز اور ایس او پیز کے تحت محفوظ بنایا گیا تھا؟
سوال نمبر2
واقعے کے حقائق کیا ہیں موقع پر زیادہ فائرنگ کرنے والوں کی رپورٹس کی بھی تحقیقات ہونی چاہیئے اور جوابی فائرنگ کرنے والوں کل کتنے زخمی ہوئے؟ اور ان کی کے زخموں کی نوعیت کیا ہے؟
سوال نمبر 3
کیا قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں اور انتظامی حکام نے واقعے کے بعد قانونی طریقہ کار کے تحت تفتیش کی ؟شواہد اکٹھے کیے یا نہیں اگر ایسا نہیں کیا گیا تو کمیشن یہ دیکھے گا کہ طریقہ کار میں کیا خامیاں ہوئی؟ اور کون کونسے انتظامی وقانون نافذ کرنے والے ادارے اور صوبائی حکام اس کے ذمہ دار ہیں
سوال نمبر 4
کیا اس واقعے کی تحقیقات کو جان بوجھ کر خراب کیا جا رہا ہے اگر ایسا ہے تو اس کے ذمہ دار کون ؟
سوال نمبر 5
کیا جو فائرنگ (شوٹنگ )کی گئی وہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کو قتل کرنے کی کرمنل سازش ہے یا یہ صرف ایک حملہ آور(شوٹر )کا عمل تھا اس سارے سانحہ کے ذمہ دار کون لوگ ہیں
خط کے پیراگراف نمبر4 میں وزیراعظم نے کہا ہے کہ اگر عدالت ملک میں قانون کی حکمرانی اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے یہ درخواست منظور کرتی ہے تو حکومت انتہائی شکر گزار ہو گی اور حکومت یہ وعدہ کرتی ہے کہ کمیشن کو اس ٹاسک کی تکمیل کے لئے مکمل حمایت اور تعاون فراہم کیا جائے گا


