پاکستان تحریک انصاف کے رہنما مراد سعید نے شہید صحافت ارشد شریف کی تحقیقات کے سلسلے میں15نومبر کو ایف آئی اے کی طرف سے واٹس ایپ پر بھجوائے گئے نوٹس پر اپنا تحریری جواب بھجوایا ہے جو چار صفحات اور 8پیراگرافس پر مشتمل ہے ،
مراد سعید نے ارشد شریف کیس کی تحقیقات کرنے والی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کے سامنے دس سوالا ت اٹھائے ہیں۔

21نومبر 2022کو ڈائریکٹر ایف آئی اے ڈاکٹر محمد اطہر وحید اور ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس بیورو کو بھجوائے گئے جواب میں مراد سعید نے کہا ہے کہ یہ خط آپ کے15نومبرکو بھجوائے گئے اس خط کے جواب میں لکھ رہا ہوں جو جس کو میڈیا غلط طور پر بطور نوٹس نشر کررہا ہے جس مبینہ نوٹس کا میں جواب دے رہا ہوں وہ نوٹس ڈائریکٹر ایف آئی اے ڈاکٹر محمد اطہر وحیدکے موبائل فون نمبر سے بھجوایا گیا ہے

پیراگراف نمبر ایک
مراد سعید نے کہا ہے کہ کسی بھی مقصد یاارادے کے تحت لکھاگیا یہ خط یا نام نہاد نوٹس جس کا جواب دے رہا ہوں قانون کی نظر میں اس کی کوئی وقعت نہیں ، یہ غیر موثر،نقائص سے بھرپور، مبہم اور تضادات پر مبنی ہے اور مجموعہ ضابطہ فوجداری1898 کے قانونی تقاضوں پر پورا نہیں اترتا اس لئے یہ نوٹس مسترد کئے جانے کے قابل ہے
مراد سعید نے کہا ہے کہ یہ نوٹس اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دیگر تما م قابل اطلاق قوانین اور قواعدو ضوابط کے خلاف ہے ۔ اسی طرح یہ نوٹس پاکستان کی اعلی عدالتوں کی طرف سے بنائے گئے اصولوں کے بھی منافی ہے ۔

پیراگراف نمبر 2
مراد سعید نے کہا ہے کہ جس فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کی نمائندگی آپ کررہے ہیں وہ حکومت پاکستان کی طرف سے شہید صحافی ارشد شریف کے پراسرار قتل کی تحقیقات کے لئے بنائی گئی ہے ، ریکارڈ کے لئے یہ بتارہا ہوں کہ اس ٹیم میں سے ایک آپ ایف آئی اے سے ہیں جبکہ دوسرے انٹیلی جنس بیورو آف پاکستان سے ہے ،
یہ بات حقیقیت ہے کہ آپ دونوں فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ رانانثااللہ کی سربراہی میں چلنے والی وزارت داخلہ کے پاس جمع کرائیں گے ۔ یہ انکوائیری ہر طرح سے وفاقی حکومت کی ایما پر ہورہی ہے یہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی اپنی ساخت اور حیثیت کے اعتبار سے وفاقی حکومت کی نمائندگی کرتی ہے۔
مراد سعید نے کہا ہے کہخود کو وفاقی حکومت کہنے والی امپورٹڈ حکومت ارشد شریف کو متعدد کیس درج کرکے ستا رہی تھی ، ارشد شریف کی زندگی اور آزادی کوکچھ وجوہات کی بناپر خطرات لاحق تھے لیکن ریاست اس کی حفاظت کی بجائے اس پر ظلم ڈھا رہی تھی ، ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے اور یہ بات ریکارڈ پر لانی چاہیئے کہ جیسے ہی امپورٹڈ حکومت قائم ہوئی اس وقت سے ارشد شریف کو ستایا جارہا تھا اور ان کے خلاف ظالمانہ کارروائیوںwitch hunting کا آغاز کردیا گیا ۔یہاں تک کہ وزیرداخلہ راناثنااللہ نے ارشد شریف کی شہادت کے بعد بھی غیرذمہ دارانہ بیانات دیئے اور ان کی شہادت کو کینیا میں سونے کی سمگلنگ سے جوڑنے کی کوشش کی ۔ اس لئے انتہائی ادب سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ یہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی آزادانہ ، غیر جانبدارانہ انداز میں کام کرسکے گی کیونکہ اس حوالے سے ٹھوس وجوہات کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس معاملے میں مفادات کے ٹکراؤکا ایک سنجیدہ مسئلہ موجود ہے ۔

پیراگراف نمبر تین
مراد سعید نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ شہید ارشد شریف کی والدہ پہلے ہی موجودہ حکومت کی طرف سے اپنے بیٹے کے حوالے سے کی جانے والی اس انکوائری پر تحفظات کا اظہار کرچکی ہیں ،جس طرح یہ حکومت تحقیقات کررہی ہے ارشد شریف کی والدہ نے ان تحقیقات پر تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے انصاف کی اپیل کی ہے ، ارشد شریف کی والدہ نے واضح طور پر کہا ہے کہ انہیں پاکستانی حکومت پر کوئی اعتماد نہیں ہے ۔
مراد سعید کے مطابق ارشد شریف کی والدہ نے چیف جسٹس پاکستان کو ایک خط لکھا ہے جس میں انہوں نے ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کے لئے اعلی سطحی جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کی درخواست کی ہے ، ارشد شریف کی والدہ نے چیف جسٹس سے اس کیس کو سیاسی منافرت سے بچانے اورخاندان کو انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی ہے ۔
مراد سعید نے اپنے خط میں کہا ہے کہ سات نومبر کو چیف جسٹس عمر عطابندیال نے کھلی عدالت میں کہا کہ سپریم کورٹ ارشد شریف کی والدہ کے اس خط پر ایکشن لے گی ۔ سولہ نومبر کو ارشد شریف کی والدہ نے سپریم کورٹ کے حقوق انسانی سیل کو ایک خط لکھا جس میں انہوں نے
موقف اپنایا کہ ان کے بیٹے کے بیہمانہ قتل کی تحقیقات اور اس ضمن میں ہونے والی پیش رفت سے مطمئن نہیں ہیں ۔

پیراگراف نمبر چار
مراد سعید نے خط میں کہا ہے کہ ارشد شریف کے معاملے میں وفاقی حکومت کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ارشدشریف کی والدہ کو اپنے بیٹے کی پمز سے پوسٹ مارٹم رپورٹ لینے کے لئے اسلام آبادہائیکورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا۔

پیراگراف نمبر 5
مراد سعید نے کہا ہے کہ یہ بات بھی نوٹ کی جائے کہ پاکستان تحریک انصاف نے بھی متعدد آئینی درخواستوں کے ذریعے سپریم کورٹ آف پاکستان نے استدعا کی ہے کہ ارشد شریف کے کینیامیں ہونے والے بیہمانہ و خوفناک قتل کی تحقیقات کے لئے قابل اعتماد جوڈیشل کمیشن قائم کیاجائے ۔
حکومت پاکستان یا اس کی جانب سے قائم کی گئی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی اس معاملے میںآزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے، صرف سپریم کورٹ ہی واحد آزاد ادارہ ہے جوحکومت کی کسی انتظامی برانچ کے ماتحت کام نہیں کررہا ، وہ سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن قائم کرکے اس کیس کی شفاف تحقیقات کرسکتا ہے ۔
مراد سعید نے کہا ہے کہ اسی طرح وفاقی حکومت نے بارے میں ان کی بھی یہی رائے ہے انہیں وفاقی حکومت کی قائم کردہ اس فیکٹ فائنڈنگ ٹیم پربھی کوئی اعتبار و اعتماد نہیں ہے جس کی نمائندگی آپ لوگ کررہے ہیں ۔

پیرا گراف نمبر 6
مراد سعید نے جواب میں کہا ہے کہ وہ صرف سپریم کورٹ کے قائم کردہ جوڈیشل کمیشن کے سامنے پیش ہوکر ارشد شریف کے حوالے سے موود معلومات فراہم کرنا چاہتے ہیں ۔

پیراگراف نمبر سات
مراد سعید نے کہاہے کہ ان تمام وجوہات کے باوجود میں آپ یعنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی سے کہتا ہوں کہ وہ ان سوالات کے جوابات ڈھونڈی جو کہ ارشد شریف کے خاندان ، ارشد شریف کے دوستوں ،ارشد شریف کے ساتھ کام کرنے والے ساتھیوں ، ارشد شریف کے پرستاروں اور عوام کی جانب سے پوچھے جارہے ہیں۔

سوال نمبر ایک
ارشد شریف کے خلاف 16فوجداری مقدمات درج کرانے کے پیچھے کون تھا ؟فوجداری مقدمات درج کرانے والے کون تھے اور ان کا بیک گراؤنڈ کیا تھا؟
سوال نمبردو
شہیدارشد شریف کی تحقیقاتی صحافت سے کون خوش نہیں تھا ؟
سوال نمبرتین
شہیدارشد شریف کو زندگی اور تشدد کی دھمکیاں کس نے دیں ؟
سوال نمبر چا ر
جب شہیدارشد شریف پاکستان میں تھے تو ان کے پاس کون لوگ گئے ، کس نے انہیں دھمکیاں دیں اورہراساں کیا ؟
سوال نمبر پانچ
شہیدارشد شریف کی پشاور ائیرپورٹ کے امیگریشن کاونٹرپر لی گئی تصویر کس نے لیک کی ؟
سوال نمبر چھ
شہیدارشد شریف کو جبری طور پر دبئی سے کینیابھجوانے کے پیچھے کون تھا ؟
سوال نمبر سات
دبئی کے ہوٹل کی لابی میں ارشد شریف سے کون ملا ؟ اور اسے دبئی چھوڑنے کا کہا؟

سوال نمبر 8
23اکتوبر کو پاکستان کے الیکٹرونک میڈیا کو کس نے ہدایت کی کہ میڈیا ارشد شریف کے قتل کو بطور حادثہ نشر کرے ؟
سوال نمبر 9
ارشد شریف حال ہی میں بطورصحافی کس کے خلاف تحقیقات کررہے تھے اور اس کے آخری چند وی لاگز میں سب سے زیادہ کس کو ڈسکس کیا گیا تھا؟
سوال نمبر 10
ارشد شریف کی شہادت کے فوری بعد جلد بازی میں غیر ضروری طور پرپے در پے کانفرنسز کیوں کی گئیں،جس کی وجہ سے حقیقت میں ارشد شریف کو ملنے والی دھمکیوں،ان کے سفر ،اور ارشد شریف کے ریاستی اداروں کے ہاتھوں قتل بارے غلط معلومات فراہم کی گئیں۔

پیرا گراف نمبر 8
مراد سعید نے کہا ہے کہ ان کے تمام حقوق محفوظ ہیں ، یہ جواب بغیر کسی تعصب کے دیا جارہاہے اس جواب میں کئے گئے تمام دعوے ، دفاع ، دلائل اٹھانے کا حق رکھتا ہوں اور مناسب قانونی پروسیڈنگز چاہتاہوں ۔ میرا یہ جواب سپریم کورٹ کے حکم پر بننے والے جوڈیشل کمیشن تک بھی محدود نہیں ہے۔