اسلام آباد (ای پی آئی )چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق نے عدالت کے احاطہ میں اسلام آباد پولیس کے صحافیوں پر تشدد کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی اور کمشنر کو طلب کرلیا،

قبل ازیں اسلام آباد پولیس نے ایکسپریس نیوز اور نیو نیوز کے کورٹر رپورٹرز کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے تمام کورٹ رپورٹرز کو دھکے دے کر احاطہ عدالت سے باہر نکال دیا۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے دوران اسلام آباد پولیس نے ہائی کورٹ میں موجود کورٹ رپورٹرز کو دھکے دے کر باہر نکال دیا۔اس موقع پر ہائی کورٹ کے سیکیورٹی رجسٹرار بھی موجود تھے تاہم وہ بے بس رہے،

پولیس نے ہائی کورٹ رجسٹرار آفس کی بات بھی ماننے سے انکار کر دیا۔پولیس نے اسلام آباد ہائیکورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے سابق صدر ایکسپریس نیوز کے سینئر کورٹ رپورٹر ثاقب بشیر اور نیو نیوز کے کورٹ رپورٹر ذیشان سید پر تشدد کیا اور انہیں ہائی کورٹ سے اٹھا کر باہر پھینک دیا۔

اسلام آباد پولیس کے اہل کاروں نے دونوں پر تشدد کرتے ہوئے کورٹ رپورٹر ذیشان سید کا موبائل فون بھی چھین لیا۔ہائی کورٹ کی چار دیواری پر موجود صحافیوں نے اس تشدد کی ویڈیو بنالی جو کہ وائرل ہوگئی، صحافیوں کی جانب سے واقعے پر احتجاج کیا گیا اور آئی جی سے واقعے کی تحقیقات اور اہلکاروں کی غنڈہ گردی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

دریں اثنا ترجمان اسلام آباد کیپیٹل پولیس کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں صحافیوں پر تشدد کے معاملے میں آئی جی اسلام آباد ڈاکٹر اکبر ناصر خاں نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا۔دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس عمر فاروق نے صحافیوں پر تشدد کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی اسلام آباد اور کمشنر اسلام آباد کو بدھ 01 مارچ 2023ء کو پیش ہونے کی ہدایت کردی۔

چیف جسٹس نے اے سی عبداللہ کی احاطہ عدالت میں موجودگی پرحیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چیف کمشنر وضاحت دیں اسسٹنٹ کمشنر احاطہ عدالت میں کیا کرنے آئے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صحافیوں پر پولیس کی جانب سے کیے جانے والے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کا یہ عمل ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن صحافیوں پر تشدد ہوا ہے اور جو ان کا نقصان ہوا ہے وہ واپس کیا جائے۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ آرٹیکل کے مطابق الیکشن نوے دن میں ہونے ہیں اور انتخابات کی تاریخ کا اعلان کون کرے گا ؟ یہ مدعا آج زیر بحت رہا۔ یہ دو بنیادی نکات وہ تھے جن پر بحث رہی تھی، کل فیصلہ گیارہ بجے سنایا جائے گا، کل اہم دن ہو گا، فعدالت سے یہی استدعا کی ہے کہ آئین کے تحت فیصلہ سنایا جائے