اسلام آباد(ای پی آئی)ملک کی پہلی ڈیجیٹل مردم شماری کا آغاز یکم مارچ سے ہوگیاہے، پاک فوج کے 86 ہزار افسران و جوان سکیورٹی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔
پاکستان میں کتنے افراد بستے ہیں اور گھروں کی تعداد کتنی ہے؟، ملک میں پہلی مرتبہ ڈیجیٹل بنیادوں پر ڈیٹا اکٹھا کرنے کیلئے فیلڈ ورک یکم مارچ سے شروع ہوگیاہے، ایک لاکھ 21 ہزار شمار کنندگان ملک بھر کے 495 شماریاتی اضلاع میں گھر گھر جائیں گے، ادارہ شماریات نے انتظامات مکمل کر لئے۔ادارہ شماریات حکام کے مطابق تمام اہم عمارتوں اور تنصیبات کی جیو ٹیگنگ ہوگی، سندھ سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کو طریقہ کار پر کوئی اعتراض نہیں،
ساتویں مردم شماری کے نتائج کی بنیاد پر ہی نئی حلقہ بندیاں اور پھر عام انتخابات ہوں گے۔رکن ادارہ شماریات محمد سرور گوندل کا کہنا ہے کہ آپ کا شمار کنندہ جب آپ کے گھر جائے گا تو آپ کے گھر کو ٹیبلٹ کے ساتھ جیو ٹیگ کرے گا، ہر انومریٹر کے ساتھ ہمارا پولیس کا جوان ہو گا اور آٹر بانڈری پر آرمی فورسز تعینات ہوں گی۔رپورٹ کے مطابق خود شماری کے ذریعے لاکھوں افراد اپنی تفصیلات پہلے ہی آن لائن جمع کرا چکے، یہ سلسلہ 3 مارچ تک جاری رہے گا، ڈیجیٹل مردم شماری میں اکنامک سنسز فریم ورک کی تیاری بھی شامل ہے۔
ساتویں مردم شماری کی مجموعی لاگت 34 ارب روپے ہے، جس میں سے تقریبا ساڑھے 7 ارب روپے سکیورٹی پر خرچ ہوں گے، مردم شماری کے ابتدائی نتائج کا اجرا 30 اپریل کو مشترکہ مفادات کونسل کی منظوری سے ہو گا۔


