اختلافی نوٹ۔۔۔
جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے دو صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ میں لکھا ہے کہ وہ اس حکم کی تفصیلی وجوہات بعد میں دیں گے تاہم قرار دیتے ہیں کہ

پیراگراف نمبر 1
یہ ازخود سماعت کیس کے حقائق اورصورتحال کے حوالے سے بالکل غیر منصفانہ ہیںجس طریقہ کار اور انداز میںآئین کے آرٹیکل 183 تین کے تحت یہ معاملہ اٹھایا گیا ہےوہ درست نہیں ہے۔

پیراگراف نمبر 2
فاضل ججز نے لکھا ہے کہ ازخود نوٹس کیس نمبر 1/2023 اور آئین کے آرٹیکل 183 تین کے تحت دائر 2 آئینی پٹیشنز منظور الہی اور بینظیر بھٹو کیسز میں طے کئے گئے اصولوں کی روشنی میںازخود نوٹس کیس کے معیار پر پورا نہیں اترتیں اس لئے اس معاملے میں عدالت آئین کے آرٹیکل 183 تین کے تحت حاصل غیر معمولی دائرہ اختیار استعمال نہیں کر سکتی اس لئے یہ درخواستیں ناقابل سماعت ہیں۔ کیونکہ انہی قانونی سوالات کے حوالے سے لاہور اور پشاور ہائیکورٹ میں ریلیف کے لئے مقدمات زیر التواء ہیںاور یہ معاملات ان عدالتوں میں تاخیر کا شکار بھی نہیں ہیں۔

پیراگراف نمبر 3
فاضل ججز نے لکھا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 183 تین کے تحت دائر کی گئی ان درخواستوں پر ازخود پروسیڈنگ اور ان درخواستوں کو سماعت کے لئے منظور کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں ہے کیونکہ لاہور ہائیکورٹ کا سنگل بینچ 10 فروری 2023 کو درخواست گزار کے حق میں پہلے ہی فیصلہ دے چکا ہےاور لاہور ہائیکورٹ کا وہ فیصلہ ابھی تک فیلڈ میں موجود ہے اس حکم کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلیں لاہور ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ کے سامنے زیر سماعت ہیں ان درخواستوں میں جتنے بھی درخواست گزار موجود ہیں کسی نے بھی لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف آئین کے آرٹیکل 185 تین کے تحت سپریم کورٹ میں اپیل دائر نہیں کی۔

پیراگراف نمبر 4
فاضل ججز نے لکھا ہے کہ جب صوبائی ہائیکورٹ میں ایک آئینی معاملہ زیر التواء ہے تو ہمارے آئین کے وفاقی سٹرکچر کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبائی آئینی عدالت کی آزادی و خودمختاری میں مداخلت نہیں کی جانی چاہئے اور صوبائی آئینی عدالتوں کی خودمختاری کو انڈر مائن کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے انہیں مضبوط کرنے کے لئے سپورٹ کیا جانا چاہئے۔

پیراگراف نمبر 5
فاضل ججز نے لکھا ہے کہ ہائیکورٹ کے سامنے زیر سماعت مقدمات میں کوئی غیر ضروری تاخیر نہیں ہو رہی اس صورتحال میں سپریم کورٹ میں جو کارروائی شروع کی ہے اس کی وجہ سے ہائیکورٹس میں معاملہ غیر ضروری تاخیر کا شکار ہوا ہے ہم اس معاملے کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے توقع کرتے ہیں کے متعلقہ ہائیکورٹس آج کے بعد سے تین ایام میں ان معاملات کا فیصلہ سنا دیں گی۔

پیراگراف نمبر 6
فاضل ججز نے لکھا ہے کہ اگر معاملات عدالتوں میں نہ بھی ہوں تو ایسے معاملات پارلیمنٹ کے اندر حل ہونے چاہئیں اس لئے ہم اس بات پر 23 فروری 2023 کے جسٹس یحی آفریدی اور اطہر من اللہ کی طرف سے جاری احکامات سے اتفاق کرتے ہیںاور یہ آئینی درخواستیں خارج کرتے ہیں اور ازخود کارروائی ختم کرتے ہیں۔