اسلام آباد (عابدعلی آرائیں) پاکستان میں جبری طور پرلاپتہ کئے گئے افراد کی بازیابی کےلئے قائم کمیشن نے انکشاف کیا ہے کہ رواں سال کے دوسرے ماہ فروری میں 3لاپتہ افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں اس طرح 12 سال قبل اس کمیشن کے قیام سے اب تک کل244لاپتہ افراد کی لاشیں برآمد ہوچکی ہیں ۔
ای پی آئی نیوز کو دستیاب تازہ رپورٹ کے مطابق فروری کے دوران کمیشن کو 99لاپتہ افراد کے لواحقین نے درخواستیں دیں۔ جن میں سب سے زیادہ 73درخواستیں بلوچستان، 9پنجاب،چارسندھ،گیارہ خیبر پختونخوا،اسلام آباد اور گلگت بلتستان سے ایک ایک لاپتہ شہریوں کی درخواستیں کمیشن کو موصول ہوئی ہیں ۔ بلوچستان کی73درخواستوں میں سے43لاپتہ شہریوں کی درخواستیں بلوچستان میں سرگرم سماجی کارکن نصراللہ بلوچ نے صوبے کے قبائلی امور کے محکمے کے ذریعے بھجوائی ہیں۔
کمیشن کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ فروری میں مجموعی طور پر 46لاپتہ افراد اپنے گھروں کو واپس پہنچے ہیں جن میں سب سے زیادہ 36بلوچستان، تین پنجاب ، دو سندھ ، تین خیبر پختونخوا جبکہ اسلام آباد کے دو لاپتہ شہری شامل ہیں ۔
رپورٹ کے مطابق حراستی مراکزمیں تین افراد کی نشاندہی کی گئی ہے ان تینوں افراد کا تعلق خیبر پختونخواسے ہے۔کے پی صوبے کی جیل میں موجود ایک لاپتہ شہری کی بھی نشاندہی کی گئی ہے ۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جن تین افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں ان تینوں کا تعلق بھی خیبر پختونخوا سے ہے۔
اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ فروری میں کل 53لاپتہ افراد کو ٹریس کیا گیا ہے جن میں پنجاب کے تین، سندھ کے دو ، خیبر پختونخواکے دس، بلوچستان کے چھتیس اور اسلام آباد کے دو شہری شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق چودہ لاپتہ افراد کے مقدمات اس بنیاد پر نمٹائے گئے ہیں کیونکہ انکے ایڈریس موجود نہیں تھے یا وہ لاپتہ افراد کے ذمرے میں نہیں آتے تھے۔ اس طرح لاپتہ افراد کمیشن نے فروری میں کل 67لاپتہ شہریوں کے مقدمات نمٹائے ہیں۔
کمیشن کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق کمیشن کو اپنے قیام سے لیکر اب تک بارہ سال میں کل9393مقدمات موصول ہوئے ہیں جن میں سے اب تک 7105مقدمات نمٹائے گئے ہیں اور 2288مقدمات زیر سماعت ہیں ۔
کمیشن نے قیام سے اب تک 1407مقدمات یہ قراردے کر نمٹائے ہیں کہ انکے ایڈریس موجود نہیں تھے یا وہ لاپتہ افراد کے ذمرے میں نہیں آتے یالواحقین نے درخواستیں واپس لے لیں اور ۔اب تک مجموعی طور پر 3850افراد گھروں کو واپس آئے ہیں۔ 980افراد کی حراستی مراکزجبکہ624لاپتہ افراد کی جیلوں میںموجودگی کی نشاندہی کی گئی ہے ۔تمام افراد کوملاکر اب تک کمیشن نے 5698افرادکوٹریس کیا ہے جن میں244وہ افراد بھی شامل ہیں جن کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔
ان زیرسماعت مقدمات میں پنجاب کے 253، سندھ کے 165،خیبر پختونخواکے سب سے زیادہ 1328،بلوچستان کے479،اسلام آباد کے 48، آزاد کشمیرکے گیارہ اور گلگت بلتستان کے چار لاپتہ افراد کے مقدمات شامل ہیں۔
یاد رہے کہ جسٹس ریٹائرڈجاوید اقبال اس کمیشن کے سربراہ ہیں اس کمیشن کا قیام مارچ 2011میں عمل میں لایا گیا تھا.


