اسلام آباد (ای پی آئی) پاکستان میں تارکین وطن کو ووٹ کے‌حق سے بحث طویل عرصے سے چل رہی ہے لیکن تارکین وطن کو ابھی تک نہیں مل سکا. اس حوالے سے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ میں مقدمہ درج کررکھا ہے . جس کی آج سماعت ہوئی ہے تاہم کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوسکی..

سماعت کا احوال
سپریم کورٹ نے اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کے حق دینے کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران اہم آئینی سوال اٹھایا ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں جسٹس منیب اختر اور جسٹس مظاہر اکبر نقوی پر مشتمل تین رُکنی عدالتی بینچ نے عمران خان، شیخ رشید اور دیگر درخواست گزاروں کے وکلا کو سُنا۔وکلاکی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ نادرا نے اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ دینے کا طریقہ کار وضع کرنے کے لیے ایک سال کا وقت مقرر کیا ہے اور اس کے لیے الیکشن کمیشن کے تعاون کی شرط رکھی ہے۔

ایک درخواست گزار داؤد غزنوی کے وکیل عارف چوہدری نے کہا کہ یہ معاملہ الیکشن کمیشن میں رُکا ہوا ہے اور پہلے بھی عدالتی ہدایت پر سب کچھ کیا گیا۔ الیکشن کمیشن چاہے تو یہ مراحل جلدی سے طے کیے جا سکتے ہیں۔جسٹس منیب اختر نے درخواست گزار کے وکیل کو بتایا کہ وہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ آئے ہیں جہاں اُن کی مقدمہ خارج کر دیا گیا تھا۔
جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ سنہ 2017 میں الیکشن ایکٹ آیا جس کے سیکشن 94 کو چیلنج کیا گیا ہے۔ اس پر سنہ 2018 میں سپریم کورٹ فیصلہ دے چکی ہے اور اس کو غیر آئینی قرار نہیں دیا گیا۔ صرف چند ہدایات دی گئیں۔

فاضل جج نے وکیل کو بتایا کہ سنہ 2021 میں پچھلی حکومت نے پارلیمان کے ذریعے اس قانون میں ترمیم کی اور اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ کو ہر صورت کاسٹ کرنے کے لیے کہا گیا جبکہ اس سے قبل اس کے لیے پائلٹ پراجیکٹ پر عدالت کے سامنے آمادگی ظاہر کی تھی۔جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ اب سنہ 2022 میں نئی حکومت کے آنے کے بعد پارلیمان نے 2017 کے الیکشن ایکٹ کو پرانی صورت میں بحال کر دیا ہے تو اس میں غیر آئینی کیا ہے؟

بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں May کے لفظ کو shall سے بدلنے کے لیے کہا تھا سیکشن 94 کو غیر آئینی قرار نہیں دیا تھا۔ اب جبکہ پرانے قانون کو اصل حالت میں بحال کیا گیا ہے تو جس کو پہلے عدالت نے آئینی قرار دیا اب کیسے غیر آئینی قرار دے؟ صرف اس پر عمل درآمد کا مسئلہ درپیش ہے۔ بینچ کے رکن جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے کہا کہ وکیل صاحب، درخواست میں ترمیم کر لیں۔ جسٹس منیب اختر نے وکیل کو بتایا کہ وہ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف یہاں آئے ہیں اس لئے درخواست میں ترمیم نہیں کر سکتے۔

اس کے بعد عدالت نے لاہور سے ویڈیو لنک کے موجود عمران خان کے وکیل عزیر بھنڈاری سے اُن کی درخواست میں سپریم کورٹ سے کئ گئی استدعا پڑھنے کے لیے کہا۔وکیل نے موقف اپنایا کہ الیکشن ایکٹ کی سیکشن 94 کو آئین کے خلاف قرار دے کر کالعدم کرنے کے استدعا ہے۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اب یہ کیسے ممکن ہے؟ آپ کے لیے بھی وہی آئینی سوال چھوڑ رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جب سپریم کورٹ سنہ 2018 میں اس کو آئینی قرار دے چکی ہے تو اب الیکشن ایکٹ کی اس شق کو کیسے آئین کے خلاف قرار دے؟

جسٹس اعجاز الاحسن نے عمران خان کے وکیل سے کہا کہ وہ بہت زبرست ریسرچ کرتے ہیں، اپنی سکلز کو استعمال کرتے ہوئے اس معاملے میں عدالت کی معاونت کریں۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ووٹ کا حق بہت اہم ہے۔سپریم کورٹ نے اس سوال پر جواب طلب کرتے ہوئے کہ اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ کے حق کے قانون میں ترمیم آئینی طور پر کیسے درست نہیں؟ سماعت ملتوی کر دی۔

عدالت نے عمران خان اور شیخ رشید کو جواب جمع کرانے کی مہلت دے دی۔دوران سماعت الیکشن کمیشن کے وکیل نے بتایا کہ نادرا کی سفارشاتی رپورٹ کے تناظر میں کام مکمل کر لیا ہے، عدالت میں اپنی رپورٹ جمع کرا رہے ہیں۔عدالت عظمی نے الیکشن کمیشن سے سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق یقینی بنانے کے لیے اب تک کئے گئے اقدامات پر مبنی رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔