اسلام آباد(ای پی آئی) پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ (پاس) نے ایکسپریس نیوز کے سینئر صحافی ثاقب بشیر ، نیو ٹی وی سے ذیشان سید ، اے آر وائی نیوز سے شاہ خالد ، بول نیوز سے عباس شبیر اور جی این این نیوز سے ادریس عباسی پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں تشدد کے واقعے کے پانچ روز گزرنے کے باوجود مقدمہ درج نہ کرنے کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ احاطہ عدالت کے اندر ہونے والے واقعے کی واضح فوٹیجز موجود ہونے کے باوجود مقدمہ کا اندراج نہ ہونا موجود حکومت اور وزیر داخلہ کی بےحسی کو ظاہر کرتا ہے ۔

ملک بھر کے کورٹ رپورٹرز کی نمائندہ تنظیم پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ اس واقعے کے مقدمہ کے اندراج کیلئے صحافی ساتھیوں کے ساتھ کھڑی ہے۔

پاس کے صدر سجاد حیدر ، جنرل سیکرٹری چوہدری اعظم گل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وزیرداخلہ رانا ثنااللہ اور وزیرداخلہ کی اس معاملے پر خاموشی صحافیوں پر تشدد کے معاملے کو دبانے کی مذموم کوشش ہے ہم اس معاملے کو دبنے نہیں دیں گے پاکستان بارکونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی معاونت سے یہ معاملہ ملک کے اعلی عدالتی فورمز پر اٹھایا جائے گا اور ہرصورت ذمہ داران کے خلاف مقدمہ درج کرایا جائے گا.

ان کا کہنا تھا کہ سابق دور میں یہی حکمران آزادی اظہار رائے کے چیمپیئن بن کر تقریر کرتے تھے اب یہ خود صحافیوں پر تشدد کے واقعے کا مقدمہ درج ہونے کی راہ میں رکاوٹ بن گئے ہیں۔ پاس کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ حکمران ہوش کے ناخن لیں ورنہ سڑکوں پر احتجاج سمیت تمام آئینی و قانون راستے اختیارکئے جائیں گے۔

پاس کے رہنماؤں نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لے کر آئی جی اسلام آباد کو فوری طور پر مقدمہ کے اندراج کا حکم دیں ۔

پاس کے رہنماؤں نے کہا کہ تمام ارباب اختیار اس معاملے میں خاموش تماشائی کا کردار اداکر رہے ہیں ہم چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطابندیال سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ اس حوالے سے انتظامی حکم جاری کرکے ملزم پولیس اہلکاران کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم دیں کیونکہ ماضی میں عدالت عظمی کے احاطے میں شہریوں کو ہراساں کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے عدالت متعدد بار پولیس کیخلاف کارروائی کا حکم دے چکی ہے۔