اسلام آباد(ای پی آئی)سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میںنئی درخواست دائر،درخواست میں جسٹس نقوی کیخلاف ریفرنس کی فوری سماعت اور عدالتی امور واپس لینے کی استدعا کی گئی ہے ،میاں دائود ایڈووکیٹ نے2صفحات پر مشتمل درخواست سپریم جوڈیشل کونسل میںد ائر کی ہے ،درخواست کے نقول سپریم جوڈیشل کونسل کے دیگر4ممبران کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔
درخواست گزارمیاں دائود ایڈووکیٹ نے درخواست میں کہا ہے کہ جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں زیر التوا ہے، رواں ہفتے کی پیشی فہرست سے معلوم ہوا کہ جسٹس نقوی ابھی بھی مقدمات کی سماعت کر رہے ہیں، چیف جسٹس پاکستان نے جسٹس نقوی کو اپنے ساتھ بنچ میں بھی شامل کیا ہے، چیف جسٹس پاکستان نے جسٹس نقوی کو الگ سے ایک بنچ کا سربراہ بھی بنایا ہے، میاں دائود ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ پورے ملک سے جسٹس نقوی کے احتساب کیلئے آوازیں اٹھ رہی ہیں،
چیف جسٹس پاکستان کا جسٹس نقوی کو بنچوں میں شامل کرنا انصاف کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے،چیف جسٹس پاکستان کے اس اقدام سے عوام میں جسٹس نقوی کی پشت پناہی کرنے کا پیغام گیا، جسٹس نقوی کے سامنے مقدمات سماعت کیلئے مقرر کرنا انصاف کے اصولوں کیخلاف ورزی ہے، چیف جسٹس پاکستان کے اس اقدام سے جسٹس نقوی کے روبرزیرالتو مقدمات کے فیصلوں کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگے گا، سائلین کے دماغ میںیہ شک اور تاثر موجود رہیگا کہ کہیں جسٹس نقوی نے ان کے مقدمے کی سودے بازی نہ کر دی ہو،
جس بنچ میںبھی جسٹس مظاہر نقوی موجود ہونگے، اس بنچ کے فیصلے مشکوک تصور ہونگے، میاں دائود ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان کے اس اقدام سے عوام میںعدلیہ کا وقار مزید مجروح ہوا ہے، چیف جسٹس پاکستان کے اقدام سے پیدا شدہ تاثر سپریم کور ٹ کی ساکھ کیلئے نقصان دہ ہے، استدعا کی گئی ہے کہ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کیخلاف ریفرنس فوری طور پر سماعت کیلئے مقرر کیا جائے ، ریفرنس کے فیصلے تک جسٹس نقوی کے سامنے کوئی مقدمہ سماعت کیلئے مقرر نہ کیا جائے، ریفرنس کے فیصلے تک جسٹس نقوی کو کسی بھی بنچ میں شامل نہ کیا جائے۔


