اسلام آباد(ای پی آئی )نگران وزیر اعلیٰ پنجاب کے معاون خصوصی برائے قانون اورسابق سیکرٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان کنور محمد دلشاد نے کہا ہے کہ مجھے نظر یہ آرہا ہے کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد ظفر اقبال کی عدالت عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں سزادے گی اورالیکشن کمیشن آف پاکستان اس کیس میں مدعی ہے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سیکشن 137کے تحت عمران خان کے خلاف مقدمہ درج کروایاہے، یہ کیس بہت اہم ہے۔باقی عدالتوںجو کیس چل رہے ہیں وہ چلتے رہیں گے لیکن الیکشن کمیشن آف پاکستان جو پاکستان کاآئینی ادارہ ہے اس کی طرف سے جو کیس گیا ہے وہ بڑی اہمیت کاحامل ہے۔ عمران خان اسی ظفر اقبال کی عدالت سے ہی ڈرے ہوئے تھے اورخوفزدہ تھے اور اپنی مدد کے لئے پورے پاکستان سے اپنے کارکنوںکو بھی بلالیا۔ان خیالات کااظہارکنور محمد دلشاد نے ایک نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کیا۔کنور دلشاد نے کہا کہ توشہ خانہ کیس میں فرد جرم عائد ہونے کے بعد اس کیس میں عمرا ن خان کو تین سال قید کی سزا ہونی ہے،سیکشن 137میں لکھا ہوا ہے کہ جو حقائق چھپائے گااس کو کرپٹ پریکٹس کے تحت تین سال کی سزادی جائے گی۔

عمران خان خوش فہمی میں نہ رہیں ضمانتیں ہوتی رہتی ہیں۔ الیکشن کمیشن نے 28یا29مارچ کو عمران خان پر توہین الیکشن کمیشن میں جو فردجرم عائد کرنی ہے وہ بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے،الیکشن کمیشن بھی فردجرم عائد کرے گا، بے شک عمران خان بے شک ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ سے ضمانتیںلے لیں لیکن یہ کیسز چلتے رہیں گے اور ضمانتوں کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔کنور دلشاد نے کہا کہ پنجاب کی نگران حکومت کے ایڈووکیٹ جنرل نے بڑی مضبوطی کے ساتھ لاہور ہائی کورٹ میںکیس لڑااور کہا کہ عمران خان کو کیسز میں ضمانت نہ دی جائے ، باہر کے صوبوں سے لوگوں کو منگواکرہنگامہ کرایا گیاا ورہلڑبازی کی گئی اورہماری نگران حکومت کی رٹ کو چیلنج کیا ہے ، ل

اہور ہائی کورٹ ایڈووکیٹ جنرل کی بات نہیں سنی، اٹارنی جنرل آف پاکستان کہاں تھے، یہ اٹارنی جنرل کا کام تھا کہ وہ پیش ہو کردلائل کے ساتھ کیس پیش کرتے اورکہتے کہ آپ اس کو ضمانت نہ دیں۔انہوںنے کہا کہ لاہورہائی کورٹ کے ایک سنگل رکنی بینچ کے جج نے یکے بعد دیگرے فیصلے سنا کر عمران خان کو 9کیسز میں ضمانت دے دی۔

ہم عدلیہ سے اب یہ درخواست کریں گے کہ آپ عمران خان کو تاحیات ضمانت کیوں نہیں دے دیتے، عمران خان کو تاحیات ضمانت دے دیں اوران سے کہیں کہ آپ آئندہ عدالتوں میں نہیں آئیں گے۔ کنور دلشاد نے کہا کہ وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ خان نے کہا تھا کہ وفاقی پولیس عمران خان کو گرفتار کے ہی واپس جائے گی لیکن بعد میں وہ اپنے بیان سے پیچھے ہٹ گئے اور کہا کہ ہمارا ارادہ دبائو ڈال کر ان کو عدالت میں پیش کرنا تھااور ہماراان کو گرفتار کرنے کاارادہ نہیں تھا،پنجاب حکومت نے رینجرز بھی طلب کی تھی اورتمام تیاریاں مکمل تھیں لیکن جب وفاقی حکومت اورعدالتوں نے عمران خان کو ریلیف دے دیا ۔

انہوںنے کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پانچ اگست 2022کوپاکستان تحریک انصاف کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کیس کا فیصلہ دیتے ہوئے قراردیا تھا کہ سیکشن 212کے تحت وفاقی حکومت پی ٹی آئی کو غیر ملکی فنڈڈ پارٹی قراردلوانے کے لئے سپریم کورٹ آف پاکستان میں ریفرنس بھجوائے تاہم وفاقی حکومت نے یہ ریفرنس نہیں بھجوایا اوراگر ریفرنس بھجوایا ہوتاتواس کا فیصلہ بھی آجاتا۔ الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں تمام ثبوت پیش کئے تھے اور دلائل کے ساتھ بتایا تھا کہ یہ جماعت ممنو عہ فنڈنگ میں ملوث ہے اورتمام حقائق پیش کئے تاہم وفاقی حکومت نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی۔

ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کیس میں چیف جسٹس آف پاکستان عمرعطابندیال نے قراردیا کہ قاسم سوری کا فیصلہ غیر آئینی اورغیرقانونی تھا اوراس کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت مقدمہ دائر کیا جائے، اس پر وزیراعظم شہبازشریف نے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں کابینہ کی ایک کمیٹی قائم کی اورکہا آپ اس پر آرٹیکل چھ کا فیصلہ کریں اور کیس چلائیں لیکن وہ آج تک نہیں چلا۔