اسلام آباد(ای پی آئی) پاکستان میں جاری سیاسی بحران کے حوالے سے ملک کی سب سے بڑی عدالت میں کیس کی سماعت جاری ہے، سپریم کورٹ کا بینچ دوسری مرتبہ ٹوٹنے پر پاکستان کے صحافیوں اور اینکرز و تجزیہ نگاروں نے فوری ردعمل دیا ہے .

سینیئرصحافی حامد میر نے لکھا کہ جسٹس جمال مندوخیل نے بینچ سے علیحدہ ہوتے ہوئے کہااللہ تعالی ہمارے ادارے پر رحم کرے ،یہ الفاظ چیف جسٹس پر عدم اعتماد کا اظہار ہیں اب تین رکنی بینچ کے کسی فیصلے کی کوئی حیثیت نہیں ہو گی چیف جسٹس فل کورٹ بنا لیں حکومت اور تحریک انصاف فل کورٹ پر متفق ہیں ،چیف جسٹس حکمت دکھائیں،

سینیئر صحافی حسن ایوب نے لکھا کہ اب معاملہ پانچ رکنی سے تین رکنی بنچ پر آ گیا ہے ۔ ایک بار پھر فول کورٹ تشکیل نہیں دیا گیا ۔ پنجاب ،کے پی انتخابات کیس کی سماعت کے لیئے تین رکنی بینچ تشکیل دیا گیا ہے چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں بینچ میں قائم بنچ میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر شامل ہیں،

مطیع اللہ جان نے سوالیہ انداز میں لکھا ہے کہ سپریم کورٹ کی یکجہتی مزید خطرے میں ڈالنے کی بجائے چیف عمر عطا بندیال کو استعفی نہیں دے دینا چاہئیے؟ وگرنہ پھر سپریم جوڈیشل کونسل میں یہ ریفرنس اپنی نوعیت کا پہلا ریفرنس ہو گا جو ساتھی ججوں کی طرف سے بھیجا جا سکتا ہے۔

اوریا مقبول جان لکھتے ہیں کہ نظام عدل پر اس سے برا وقت کیا ہوگا کہ اس کے اختیارات وہ لوگ طے کر رہے ہیں جو یا تواس کے مفرور ہیں یا اس کی ضمانت پر آزاد ہیں اور ایک تو وہ ضامن ہے جس پر ایک مجرم کو مفرور کرانے میں مدد دینے پر مقدمہ بننا چاہئے تھا۔

عارف حمید بھٹی نے لکھا کہ حکومتی وزرا نے الیکشن کروانے کے سلسلے میں سپریم کورٹ کی طرف فیصلے آنے پر اسکو تسلیم نہ کرنے کا عندیہ دے دیا،سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے بنچ بناننے کا اختیار لے کر سیاستدان میڈیا ٹاک میں کس قانون کے تحت بنچ بناننے کا فیصلہ کر رہیں ہیں۔#عدالتوںکودھمکانابندکرو،

ملیحہ ہاشمی لکھتی ہیں کہ ! چلیں سیاسی جماعتوں کا تو شکست کے خوف سے الیکشن سے بھاگنا سمجھ میں آتا ہے۔لیکن کچھ جج صاحبان تو سیاسی جماعتوں سے بھی زیادہ سپیڈ سے الیکشن تاریخ دینے سے بھاگ رہے ہیں اور چیف جسٹس صاحب کو آئین کی بات کرنے پر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیںیہ کیا ماجرا ہے بھئی؟ دوسری ٹوئیٹ میں لکھتہ ہیں کہ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ تشکیل دے دیا گیا ہے۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بینچ میں شامل۔امید ہے یہ خصوصی بینچ ملکی سلامتی کیلئے بہتر فیصلہ دے سکے۔

غریدہ فاروقی نے لکھا کہ حکومت؛ چیف جسٹس پاکستان کیخلاف کھل کر سامنے آ گئی۔وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کی سپریم کورٹ کے باہر دبنگ پریس نفرنس۔ تین رکنی بینچ کا فیصلہ نہیں مانیں گے۔