اسلام آباد(عابدعلی آرائیں)جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے چھ رکنی بینچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس امین الدین خان کی جانب سے از خود نوٹس کی کارروائیاں روکنے سے متعلق دیئے گئے فیصلے کو غیر موثر کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا ،
آٹھ صفحات،9پیراگراف پر مشتمل فیصلہ جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس ،منیب اختر، جسٹس سیدمظاہر علی اکبر نقوی، جستس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس سید حسن اظہررضوی نے جاری کیا ہے ۔
فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ چیف جسٹس عمر عطابندیال نے حافظ قرآن کو ایم بی بی ایس کے امتحان میں 20اضافی نمبردینے سے متعلق از خود نوٹس لے کرسماعت کیلئے جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ تشکیل دیا تھا بینچ میں جسٹس امین الدین خان اور جسٹس شاہد وحید شامل تھے۔اس بینچ نے اس چیز کا جائزہ لینا تھا کہ قواعد کے مطابق ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کے داخلوں، امتحان ، ہاؤس جاب اور انٹرن شپ میں بیس اضافی نمبر دیئے جاسکتے ہیں یا نہیں ۔لیکن 29مارچ 2023کو جو حکم جاری کیا گیا وہ اس حوالے تھا جو معاملہ عدالت میں دائردرخواست کے اندر موجود ہی نہیں تھا ۔اس حکم کا معاملے سے بالکل کوئی تعلق ہی نہیں بنتا تھا ۔ واضح طور پر جسٹس قاضی فائز عیسی کے بینچ کا وہ حکم حتمی نہیں تھا وہ ایک عبوری نوعیت کا حکم تھا اور وہ ازخود نوٹس نمٹایا بھی نہیں گیا تھا اس کو زیرالتوا رکھا گیا تھا۔
عدالت نے لکھا ہے کہ پاکستان میڈیکل کونسل نے اپنے جواب میں عدالت کو بتایاتھا کہ حافظ قرآن کو اضافی بیس نمبر دیناپہلے سے ہی بند کردیئے گئے ہیں ۔ ۔
فیصلے کے پراگراف نمبر چھ میں کہا گیا ہے کہ 15مارچ کی سماعت کے 29مارچ 2023کو جاری کیا گیا حکم واضح کرتا ہے کہ اس حکم سے ایک نیاتازہ سوموٹو نوٹس کیس بن گیا ہے ۔جس سے چیف جسٹس کے بینچز کی تشکیل، روسٹرکے اجرا سے متعلق اختیارات کے حوالے سے سوال اٹھ گئے ، اس امتناعی حکم کی وجہ سے ان احکامات پر عمل درآمد بھی روک دیا گیا جن کے ذریعے پیمرا نے تمام ٹی وی چینلز کو ریاستی اداروں کیخلاف نشریات چلانے اور اعلی عدالتوں (سپریم کورٹ و ہائیکورٹس)کے ججز کے کے کنڈکٹ پر بات کرنے سے روکا گیا تھا۔
عدالت نے جسٹس قاضی فائز عیسی کے فیصلے کاپیراگراف 28بھی اپنے حکم میں شامل کیا ہے جس میں آئین کے آرٹیکل184تین کے تحت لئے گئے از خود نوٹسز کی سماعت سے روکا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ سماعت سے قبل آئین کے آرٹیکل191کی روشنی میں رولز بنائے جائیں۔
چھ رکنی بینچ نے لکھا ہے کہ اس مقدمہ کی ا رڈر شیٹ ظاہر کرتی ہے کہ تین رکنی بینچ کے دور ارکان جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس امین الدین خان نے اس فیصلہ پر دستخط کئے تھے جبکہ تیسرے رکن جسٹس شاہد وحید نے لکھا ہے کہ جو نکات اس فیصلہ میں لکھے ہیں وہ ان سے اتفاق نہیں کرتے اس لئے الگ اختلافی نوٹ لکھیں گے۔جسٹس شاہد وحید کا وہ اختلافی نوٹ 30مارچ کو جاری کیا گیا ۔
چھ رکنی بینچ نے کہا ہے کہ ہم نے انتہائی احتیاط سے اکثریتی فیصلے اور جسٹس شاہدوحید کے اختلافی نوٹ کو پڑھا ہے ہمیں اس بارے میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ 15مارچ کے حکم میں اس عدالت کے سوموٹو اختیار کا استعمال کیا گیا ہے جو کہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے صحافیوں کے حقو ق سے متعلق مقدمہ کے ا س فیصلے کی صریحا خلاف ورزی ہے جس میں از خود نوٹس کے قواعدو ضوابط طے کئے گئے ہیں ۔اس فیصلے میں واضح کیا گیاتھا کہ از خود نوٹس لینا صرف چیف جسٹس کا اختیار ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسی کے بینچ کا اکثریتی فیصلہ طے شدہ قانون کی خلاف ورزی ہے کیونکہ چیف جسٹس روسٹر کے مالک ہوتے ہیں۔ اس لئے جسٹس قاضی فائز عیسی کے بینچ کا فیصلہ اختیارات و دائرہ کار سے تجاوزہے۔ اس لئے 15مارچ کو بینچ کے 2ارکان کی طرف سے جاری کیا گیا آرڈر اس وقت سے غیر موثر و ناقابل عمل ہے جب سے جاری کیا گیا۔
چھ رکنی بینچ نے لکھا ہے کہ جب جسٹس قاضی فائز عیسی کے بینچ نے فیصلہ دیا تو وہ فیصلہ چیف جسٹس کے نوٹس میں لایا گیاتو چیف جسٹس نے لکھا تھا کہ اکثریتی فیصلے کے پیراگراف نمبر22، 26اور28 دائرہ کار سے باہر ہیں کیونکہ ان میں از خود نوٹس کا اختیار استعمال کیا گیا ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھاہے کہ چیف جسٹس کی تشویش کی توثیق کیلئے رجسٹرارکی جانب سے 31مارچ کو سرکلر جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ چیف جسٹس کی ابزرویشنز درست ہیں کیونکہ ازخود نوٹس کے اختیارات کا استعمال اس کیس لاء کی خلاف ورزی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس اختیارکا استعمال صرف چیف جسٹس کا اختیار ہے۔چھ رکنی بینچ نے لکھا ہے کہ رجسٹرار کے سرکلر میں چیف جسٹس کی جن ابزرویشنز کا ذکر کیا گیا ہے ہم بھی ان سے اتفاق کرتے ہیں اس بنا پر 15مارچ کی سماعت کا 29مارچ 2023کو جاری کیا گیا عبوری حکم واپس لیاجاتا ہے
عدالت عظمی کے چھ رکنی بینچ نے لکھاہے کہ چونکہ پی ایم ڈی سی نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ حافظ قرآن کو 20اضافی نمبر نہیں دیئے جاتے اس لئے اس ازخود نوٹس کیس کی مزید سماعت جاری رکھنے کی ضرورت نہیں ۔ یہ معاملہ غیر موثر ہونے کی وجہ سے نمٹایا جاتاہے ۔
یاد رہے کہ اس کیس کی سماعت کے دورا ن وفاق کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمن اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی طرف سے افنان کریم کنڈی ایڈووکیٹ پیش ہوئے تھے۔


