اسلام آباد (عابدعلی آرائیں) پاکستان میں لاپتہ افرادکی بازیابی کیلئے بنائے گئے کمیشن نے دعوی کیا ہے کہ سال 2023کے پہلے تین ماہ میں مجموعی طور پر117لاپتہ افراد اپنے گھرواپس پہنچے ہیں جبکہ 6افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں اس طرح 12 سال قبل اس کمیشن کے قیام سے اب تک کل247لاپتہ افراد کی لاشیں برآمد ہوچکی ہیں.
ای پی آئی نیوز کو دستیاب تازہ رپورٹ کے مطابق مارچ کے دوران کمیشن کو141لاپتہ افراد کے لواحقین نے درخواستیں دیں جبکہ کمیشن نے 59درخواستیں نمٹائی ہیں۔ جن میں سب سے زیادہ 99درخواستیں بلوچستان، 9پنجاب،گیارہ سندھ،20 خیبر پختونخوا،اسلام آباد اور گلگت بلتستان سے ایک ایک لاپتہ شہریوں کی درخواستیں کمیشن کو موصول ہوئی ہیں ۔
کمیشن کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مارچ میں مجموعی طور پر 47لاپتہ افراد اپنے گھروں کو واپس پہنچے ہیں جن میں سب سے زیادہ 40بلوچستان، 2 پنجاب ، تین خیبر پختونخوا جبکہ اسلام آباد کے دو لاپتہ شہری شامل ہیں ۔رپورٹ کے مطابق حراستی مراکزمیں کسی لاپتہ فرد کی نشاندہی نہیںکی گئی ۔بلوچستان صوبے کی جیل میں موجود 2 لاپتہ شہریوںکی بھی نشاندہی کی گئی ہے ۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جن تین افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں ان میں سے دو کا تعلق خیبر پختونخوا جبکہ ایک کاتعلق پنجاب سے ہے۔
اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ مارچ میں کل 52لاپتہ افراد کو ٹریس کیا گیا ہے جن میں پنجاب کے تین، خیبر پختونخواکے5، بلوچستان کے 42 اور اسلام آباد کے دو شہری شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سات لاپتہ افراد کے مقدمات اس بنیاد پر نمٹائے گئے ہیں کیونکہ انکے ایڈریس موجود نہیں تھے یا وہ لاپتہ افراد کے ذمرے میں نہیں آتے تھے۔ اس طرح لاپتہ افراد کمیشن نے مارچ میں کل 59لاپتہ شہریوں کے مقدمات نمٹائے ہیں۔کمیشن کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق کمیشن کو اپنے قیام سے لیکر اب تک بارہ سال میں کل9534مقدمات موصول ہوئے ہیں جن میں سے اب تک 7164مقدمات نمٹائے گئے ہیں اور 2370مقدمات زیر سماعت ہیں ۔
کمیشن نے قیام سے اب تک 1414مقدمات یہ قراردے کر نمٹائے ہیں کہ انکے ایڈریس موجود نہیں تھے یا وہ لاپتہ افراد کے ذمرے میں نہیں آتے یالواحقین نے درخواستیں واپس لے لیں اور ۔اب تک مجموعی طور پر 3897افراد گھروں کو واپس آئے ہیں۔ 980افراد کی حراستی مراکزجبکہ626لاپتہ افراد کی جیلوں میںموجودگی کی نشاندہی کی گئی ہے ۔تمام افراد کوملاکر اب تک کمیشن نے 5750افرادکوٹریس کیا ہے جن میں247وہ افراد بھی شامل ہیں جن کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔
ان زیرسماعت مقدمات میں پنجاب کے 259، سندھ کے 171،خیبر پختونخواکے سب سے زیادہ 1342،بلوچستان کے535،اسلام آباد کے 47، آزاد کشمیرکے 12 اور گلگت بلتستان کے چار لاپتہ افراد کے مقدمات شامل ہیں۔یاد رہے کہ جسٹس ریٹائرڈجاوید اقبال اس کمیشن کے سربراہ ہیں اس کمیشن کا قیام مارچ 2011میں عمل میں لایا گیا تھا.


