اسلام آباد(ای پی آئی) اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن کی عدالت پر وزارت سمندرپارپاکستانی کا حملہ ناکام بنا دیا۔

سیکریٹری وزارت سمندر پار پاکستانی ذوالفقار حیدر نے من پسند فیصلہ نہ دینے پر این آئی آرسی کے چیئرمین کا غیرقانونی تبادلہ کرکے جونئیر ممبر کو جج بنا یا جس نے چارج سنبھالتے ہی جج نورزمان کا فیصلہ غیرقانونی طور پر کالعدم قرار دے کر سیکریٹری سمندر پار پاکستانی کی مرضی کا فیصلہ دے دیا۔

ایک ہی دن قانون کے مطابق کام کرنے والے جج کا تبادلہ، نئے جج کی تقرری اور مرضی کا فیصلہ کیا گیا۔ لیکن اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے نورزمان کی اپیل پر غیرقانونی طور پر ہونے والے تمام اقدامات معطل کر دئیے تو سیکریٹری سمندر پار پاکستانیزاب جج نورزمان کی نوکری کے درپے ہوگئے ہیں اور ان کو ملازمت سے برخواست کرنے کے لئے کاروائی شروع کر دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان ورکرز فیڈریشن کے انتخابی نتائج کے خلاف شکست خوردہ یونین نے نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن کے چیئرمین جسٹس نورزمان کی عدالت میں مقدمہ دائر کرتے ہوئے موقف اپنایا تھا کہ نتائج کو منسوخ کرکے دوبارہ انتخابات کا حکم دیا جائے۔ اس دوران ایک بااثر شخصیت نے جج نور زمان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی کہ نتائج کو منسوخ کرکے دوبارہ انتخابات کا حکم دیا جائے۔ تاہم جج نورزمان نے کسی قسم کے دباؤ میں آنے سے انکار کردیا اور عدالتی کاروائی مکمل ہونے کے بعد انتخابی نتائج کو درست قرار دیا۔

اس دوران جج نورزمان کو ایک ایسی آڈیو کے ذریعے بلیک میل کرنے کی کوشش کی گئی جس کو 2018 میں انکوائری کے بعد جعلی قرار دیا گیا تھا، اور این آئی آر سی کے رجسٹرار نوید کھوکھر کو بری کر دیا گیا تھا۔ اس طرح کے تمام ہتھکنڈوں کے باوجود جب جج نور زمان نے 5 اپریل 2023 کو فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ انتخابات شیڈول اور قانون کے مطابق ہوئے ہیں لہذا کامیاب قرار پانے والا پینل اپنے عہدوں پر کام شروع کر دے تو سیکر ٹری اوورسیز بذات خود میدان میں آگئے۔ انہوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے چیئر مین این آئی ار سی کو عہدے سے ہٹادیا۔ ان کا اسلام آباد سے لاہور تبادلہ کردیا، حالانکہ چیئرمین کا پرنسپل سیٹ سے تبادلہ کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ مزید یہ کہ ان کے چیمبر کو تالے لگوا دیے گئے،عملے کو ہراساں کیا گیا اوراگلے ہی روز اپنی مرضی سے ایک غیر قانونی بنچ بنواکر چئیرمین این آئی آر سی کی عدالت کا مذکورہ فیصلہ کا لعدم قر ار دے کر پاکستان ورکرز فیڈریشن کے انتخابات کے مقدمہ کی دوبارہ سماعت شروع کردی۔

اس صورت حال کے خلاف جج نور زمان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کردی۔ جسٹس حسن اورنگزیب نے پہلی سماعت میں ہی سیکریٹری اورسیز کے اقدامات کالعدم قرار دے کر نورزمان کو اپنے عہدے پر بحال کر دیا اور بنچ میں ردوبدل کے اقدامات کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ اب سیکریٹری اورسیز پاکستانیز نے نور زمان کو این آئی آر سی کے چیئرمین کی حیثیت سے ملازمت سے برخواست کرنے کے لئے کاروائی شروع کردی ہے۔

سیکریٹری اورسیز ذوالفقار حیدر اب کمیشن کے ایک جونیئر ممبر کو کمیشن کا چیئرمین بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی انڈسٹرئیل کمیشن ایکٹ کے قانون میں کوئی گنجائش نہیں۔اس طرح سیکرٹری اوورسیز ایک فرد واحد با آثر شخص کی خوشنودی کے لئے عدالتی امور میں بھونڈے طریقے سے مداخلت کر رہے ہیں جس کی این آئی آر سی کی تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔